اسرائیل نے جنرل عاصم منیر کیخلاف کونسی سازش تیار کی؟

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر کو جسمانی طور پر ختم کرنے کی ایک اسرائیلی سازش تیار کی گئی تھی، جو بروقت بے نقاب ہو گئی۔

یہ معاملہ تب منظرعام پر آیا جب برازیل سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی اور جیوپولیٹیکل تجزیہ کار Pepe Escobar پیپ ایسکو بار نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے موقع پر پاکستانی وفد بھی وہاں موجود تھا اور اسی دوران اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ایسکوبار کے مطابق پاکستانی ملٹری انٹیلی جنس کو اس منصوبے کے بارے میں بروقت اطلاع مل گئی جس کے بعد متعلقہ اداروں نے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ انکا دعویٰ تھا کہ اس منصوبے کا مقصد نہ صرف جنرل عاصم منیر کو مٹانا تھا بلکہ امن عمل کو سبوتاژ کرنا بھی تھا۔

دعویٰ کرنے والے حلقوں کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی ہدایات پر یہ منصوبہ تیار کیا گیا تھا تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی پیش رفت کو روکا جا سکے۔ تاہم اس الزام کی تاحال اسرائیل کی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی دستاویزی ثبوت منظرعام پر آیا ہے۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی پوسٹوں میں یہاں تک دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان نے یہ سازش بے نقاب ہونے کے بعد اسرائیل کو انتہائی سخت پیغام بھیجا اور واضح کیا کہ فیلڈ مارشل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ تاہم یہ تمام بیانات غیر مصدقہ ذرائع اور سوشل میڈیا پوسٹوں تک محدود ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے سرکاری ذرائع اس حساس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکاری ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان آج تک باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہو سکے۔ پاکستان نے اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم نہیں کیا اور پاکستانی پاسپورٹ پر بھی واضح طور پر درج ہوتا ہے کہ یہ دستاویز دنیا کے تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے سوائے اسرائیل کے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سرکاری سطح پر سفارتی روابط نہ ہونے کے برابر ہیں اور تعلقات ہمیشہ حساس نوعیت کے رہے ہیں۔

حالیہ علاقائی صورتحال میں پاکستان کا کردار خاص طور پر اس وقت نمایاں ہوا جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کی کوششوں میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کا ذکر مختلف بین الاقوامی حلقوں میں کیا گیا۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اگر پاکستان نے واقعی پس پردہ سفارتی رابطوں کے ذریعے جنگ بندی کے ماحول کو سازگار بنانے میں کردار ادا کیا، لہٰذا یہ پیش رفت خطے میں بعض طاقتوں کے مفادات سے متصادم بھی ہو سکتی تھی۔ اسرائیلی قیادت ایران کے خلاف سخت مؤقف رکھتی ہے اور ایرانی عسکری و جوہری صلاحیتوں کو اپنے لیے بڑا خطرہ تصور کرتی ہے۔ اسی تناظر میں بعض مبصرین کا دعویٰ ہے کہ ایران پر دباؤ بڑھانے کی اسرائیلی پالیسی کے حامی حلقے کسی ایسی جنگ بندی سے مطمئن نہیں تھے جو ایران کو مکمل طور پر کمزور یا تنہا کرنے کے مقصد کو پورا نہ کر سکے۔

اسی پس منظر میں سوشل میڈیا اور بعض متبادل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ قیاس آرائیاں بھی گردش کرتی رہی ہیں کہ اسرائیل موجودہ پاکستانی فوجی قیادت کو پسند نہیں کرتا کیونکہ اس نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی حمایت کی۔ بعض حلقے یہاں تک دعویٰ کرتے ہیں کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اسرائیلی پالیسی ساز اپنے علاقائی اہداف کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کے خلاف اسرائیلی سازش کی خبروں کو بھی فی الحال قیاس آرائیوں کے زمرے میں رکھا جا رہا ہے۔ تاہم بعض بین الاقوامی مبصرین اس امکان پر بحث کر رہے ہیں کہ اسرائیل پاکستانی عسکری قیادت کو اپنا مخالف تصور کر سکتا ہے، لیکن کسی بھی قتل یا حملے کی سازش کے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد درکار ہوتے ہیں، جو تاحال سامنے نہیں آ سکے۔

تاہم اس معاملے کو تین مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ پہلا زاویہ یہ ہے کہ اگر واقعی ایسا کوئی منصوبہ موجود تھا تو اس کے ثبوت کہاں ہیں؟ اب تک نہ کسی مغربی انٹیلی جنس رپورٹ، نہ سوئس حکام اور نہ ہی کسی معتبر بین الاقوامی ادارے نے اس دعوے کی تصدیق کی ہے۔ دوسرا زاویہ یہ ہے کہ اسرائیل، ایران اور پاکستان کے درمیان حالیہ جیوپولیٹیکل تناؤ نے افواہوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کر دیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد خطے میں طاقت کے توازن کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں سامنے آ رہی ہیں، جن میں اسرائیل کے ممکنہ تحفظات بھی زیر بحث ہیں۔
تیسرا زاویہ انفارمیشن وارفیئر کا ہے۔ جدید دور میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے غیر مصدقہ اطلاعات انتہائی تیزی سے پھیلتی ہیں اور بعض اوقات یہ خبریں باقاعدہ نفسیاتی جنگ کا حصہ بھی بن جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب تک آزاد ذرائع سے تصدیق نہ ہو جائے، ایسے دعوؤں کو احتیاط سے دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا میں شائع ہونے والی حالیہ رپورٹس بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ معاملہ بنیادی طور پر ایک دعوے اور اس کی تردید تک محدود ہے۔ مختلف عالمی ذرائع ابلاغ نے پیپے ایسکوبار کے بیان کو رپورٹ ضرور کیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ اہم بات یہ ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کے دوران پاکستانی قیادت کی موجودگی خود اس بات کی علامت سمجھی جا رہی ہے کہ پاکستان نے خطے میں امن کے فروغ اور سفارتی رابطوں میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کسی اعلیٰ فوجی یا سیاسی شخصیت کے خلاف واقعی کوئی بین الاقوامی سازش موجود ہوتی تو اس کے کچھ نہ کچھ شواہد، انٹیلی جنس الرٹس یا سفارتی ردعمل ضرور سامنے آتے، جبکہ موجودہ صورتحال میں ایسا کوئی ثبوت دستیاب نہیں۔

Back to top button