آزاد کشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی کااسلحہ نیٹ ورک بے نقاب

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی آزاد کشمیر میں انتشار اور بدامنی پھیلانے کی سازش ایک بار پھر بے نقاب ہوگئی۔ سکیورٹی اداروں اور پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو اسلحہ سمیت گرفتار کر لیا، جس کے بعد دورانِ تفتیش ان کی جانب سے اہم انکشافات سامنے آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق ڈڈیال سے راولاکوٹ اسلحہ منتقل کیے جانے کی خفیہ اطلاع پر ناکہ بندی کی گئی، جہاں چیکنگ کے دوران دو مشتبہ افراد کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کے قبضے سے اسلحہ برآمد ہوا، جسے مبینہ طور پر پرتشدد کارروائیوں میں استعمال کیا جانا تھا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران گرفتار افراد نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ وہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن ہیں اور تنظیم کے مبینہ سرغناؤں مہران، امان اور ناظم کی ہدایات پر کام کر رہے تھے۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے بتایا کہ انہیں ڈڈیال سے راولاکوٹ اسلحہ منتقل کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا تاکہ احتجاجی سرگرمیوں کے دوران اسے استعمال کیا جا سکے۔

پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم نعیم نے مبینہ طور پر بتایا کہ وہ پہلے بھی تنظیم کی مختلف سرگرمیوں، توڑ پھوڑ اور پرتشدد کارروائیوں میں شریک رہا ہے۔ اس نے مزید دعویٰ کیا کہ احتجاج میں شریک افراد کی گاڑیوں کی چابیاں بھی مبینہ طور پر مہران اور ناظم نے اپنے قبضے میں لے رکھی تھیں تاکہ شرکا احتجاج ختم کرکے واپس نہ جا سکیں اور دھرنا ہر صورت جاری رکھا جا سکے۔ملزم نے دورانِ تفتیش ایک اور سنگین الزام بھی عائد کیا کہ میرپور کے ایک نوجوان کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کے بعد تشدد اور بدفعلی کا نشانہ بنایا گیا تاکہ وہ تنظیم کے خلاف کوئی بیان نہ دے سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس دعوے کی بھی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

دوسرے گرفتار ملزم عاقب نے بھی مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ تنظیم کے سرغنہ مہران نے انہیں بتایا تھا کہ منتقل کیا جانے والا اسلحہ پولیس اور رینجرز کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ ملزم نے دورانِ تفتیش آئندہ ایسی سرگرمیوں سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ کالعدم تنظیم کی کسی بھی سرگرمی کا حصہ نہ بنیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار افراد سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر مزید چھاپے اور گرفتاریاں بھی متوقع ہیں، جبکہ اس مبینہ نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد کی نشاندہی اور گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی حقوق کے نام پر پرتشدد کارروائیوں، ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی اور اسلحے کے استعمال کی مبینہ منصوبہ بندی نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے اصل عزائم کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ان کے مطابق ایسے عناصر کا مقصد عوامی مسائل کے حل کے بجائے خطے میں بدامنی، انتشار اور ریاستی اداروں سے تصادم کی فضا پیدا کرنا ہے۔

سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں امن و استحکام کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا اور قانون ہاتھ میں لینے، ریاستی اداروں کے خلاف تشدد پر اکسانے یا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔حکام نے واضح کیا ہے کہ عوامی حقوق کے نام پر کسی بھی قسم کی پرتشدد سرگرمی، ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے یا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور مزید اہم پیش رفت متوقع ہے۔

Back to top button