امن ڈیل کے بعد دنیا میں تیل سستا لیکن پاکستان میں مہنگا کیوں؟

ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں واضح کمی یو جانے کے باوجود پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اب بھی واپس اس سطح تک نہیں لائی جا سکیں جو جنگ کے آغاز سے قبل تھیں۔ اس صورتحال پر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں سستا ہونے والے تیل کا فائدہ عوام تک منتقل کرنے کے بجائے حکومت اضافی محصولات اور لیویز کے ذریعے عوام سے زیادہ قیمت وصول کر رہی ہے۔
بین الاقوامی منڈیوں میں کروڈ آئیل کی قیمت ایک بار پھر 75 ڈالرز فی بیرل سے نیچے آ گئی ہے، جو ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھنے سے پہلے کی سطح کے قریب سمجھی جا رہی ہے۔ جنگ کے دوران یہ قیمت 100 ڈالرز دی بیرل کراس کر گئی تھی۔ توانائی سیکٹر کے ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کے بعد آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت معمول پر آ گئی ہے جس سے عالمی سپلائی کے خدشات کم ہوئے اور قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ عالمی توانائی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کی ایک بڑی وجہ ایرانی خام تیل کی عالمی منڈی میں متوقع واپسی بھی ہے۔ امریکہ کی جانب سے بعض پابندیوں میں عارضی نرمی کے بعد ایران کو اپنی تیل برآمدات بڑھانے کا موقع مل رہا ہے جس سے عالمی سطح پر سپلائی میں اضافے کی توقع پیدا ہوئی ہے۔
پاکستان میں اس پیش رفت کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ ایران ملک کا ہمسایہ ہے اور اسکے سرحدی علاقوں میں ایرانی پٹرول اور ڈیزل طویل عرصے سے نسبتاً کم قیمت پر فروخت ہوتا رہا ہے۔ ناقدین کا موقف ہے کہ جب عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہو رہا ہے اور ایران بھی دوبارہ تیل برآمد کرنے کی پوزیشن میں آ رہا ہے تو پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کہیں زیادہ کمی ہونی چاہیے تھی۔ حکومت نے حالیہ دنوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان ضرور کیا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ قیمتیں اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے زیادہ ہیں۔ ان کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی شروع ہونے سے قبل پٹرول اور ڈیزل تقریباً پونے 300 روپے فی لیٹر کی سطح پر دستیاب تھے، جبکہ آج بھی صارفین ان مصنوعات کے لیے اس سے زیادہ قیمت ادا کرنے پر مجبور ہیں۔
معاشی حلقوں میں یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں نیچے آ چکی ہیں تو پاکستان میں عوام کو اس کا مکمل ریلیف کیوں نہیں دیا جا رہا۔ حکومت پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ سستا تیل خریدنے کے باوجود عوام کو مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے اور یوں مہنگائی سے پریشان شہریوں پر اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
دوسری جانب توانائی شعبے کے ماہرین اس معاملے کو نسبتاً مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی ایک مثبت پیش رفت ضرور ہے لیکن صرف ایران پر پابندیوں میں نرمی کو پاکستان میں فوری اور بڑی قیمتوں میں کمی کی واحد وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
پاکستان میں تیل کی ڈیمانڈ کا حجم بہت بڑا ہے۔ ملک سالانہ تقریباً ستر لاکھ ٹن ڈیزل اور ستر لاکھ ٹن پٹرول استعمال کرتا ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کو مقامی پیداوار کے ساتھ ساتھ بڑی مقدار میں درآمدات پر بھی انحصار کرنا پڑتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 کے دوران تقریباً 20 لاکھ ٹن ڈیزل درآمد کیا گیا جبکہ مقامی ریفائنریوں نے لگ بھگ 50 لاکھ ٹن ڈیزل تیار کیا۔ اسی طرح تقریباً 50 لاکھ ٹن پٹرول درآمد کیا گیا جبکہ مقامی سطح پر تقریباً 20 لاکھ ٹن پٹرول پیدا ہوا۔ پاکستان اپنی خام تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے حاصل کرتا ہے جبکہ کچھ مقدار امریکہ سے بھی خریدی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ان میں سے بیشتر درآمدی معاہدے طویل المدتی بنیادوں پر ہوتے ہیں، اس لیے عالمی منڈی میں فوری تبدیلیوں کا اثر مقامی قیمتوں پر فوراً منتقل نہیں ہو پاتا۔
ایک بڑی پاکستانی ریفائنری کے چیئرمین اسامہ قریشی کے مطابق ایران کا تیل اس وقت نسبتاً سستا تھا جب اس پر سخت پابندیاں عائد تھیں اور اس کے خریدار محدود تھے۔ ان کے بقول پابندیوں میں نرمی کے بعد ایران اپنا تیل عالمی مارکیٹ ریٹ کے مطابق فروخت کرے گا کیونکہ اب چین، بھارت اور دیگر بڑی معیشتیں بھی اس کی ممکنہ خریدار بن سکتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں مسلسل کم ہوتی ہیں تو اس کا فائدہ پاکستان سمیت تمام درآمد کنندہ ممالک کو پہنچ سکتا ہے، لیکن صرف ایران پر پابندیوں میں نرمی کی بنیاد پر پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی کی توقع حقیقت پسندانہ نہیں ہوگی۔
تیل و گیس کے ماہرین بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔ ان کے مطابق دنیا میں رعایتی نرخوں پر تیل عموماً وہ ممالک فروخت کرتے ہیں جن پر پابندیاں عائد ہوں اور جنہیں محدود خریدار دستیاب ہوں۔ انہوں نے روس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کے دوران روس نے بھی سستا تیل فروخت کیا، لیکن حالات معمول پر آنے کے بعد اس نے عالمی قیمتوں کے مطابق فروخت شروع کر دی۔ ماہرین ایک اور تکنیکی مسئلے کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی خام تیل نسبتاً بھاری نوعیت کا ہے جس سے بڑی مقدار میں فرنس آئل حاصل ہوتا ہے، جبکہ پاکستان کی موجودہ ریفائنریاں زیادہ تر ہلکے خام تیل کو پراسس کرنے کے لیے موزوں ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایک بیرل ایرانی خام تیل سے تقریباً 40 سے 45 فیصد تک فرنس آئل پیدا ہوتا ہے، جبکہ فرنس آئل کی طلب مقامی اور بین الاقوامی سطح پر محدود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی ریفائنریاں ایرانی خام تیل کو فوری طور پر ایک مثالی متبادل نہیں سمجھتیں۔
توانائی ماہرین کے مطابق اگرچہ پاکستان تکنیکی طور پر ایران سے خام تیل درآمد کر سکتا ہے، تاہم موجودہ ریفائننگ انفراسٹرکچر اور معاشی حقائق کے باعث اس سے فوری طور پر کوئی غیر معمولی فائدہ حاصل ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ البتہ اگر مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان کسی خصوصی رعایتی معاہدے پر اتفاق ہو جاتا ہے تو صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔ اس بحث کے باوجود عوامی حلقوں میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ حکومت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی حالیہ کمی کا مکمل فائدہ صارفین تک منتقل کرے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب برینٹ کروڈ دوبارہ جنگ سے پہلے والی سطح کے قریب آ چکا ہے تو پاکستان میں بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اسی تناسب سے کم ہونی چاہئیں تاکہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔
مبصرین کے مطابق آنے والے ہفتوں میں عالمی تیل مارکیٹ کی سمت، حکومتی ٹیکس پالیسی اور درآمدی لاگت اس بات کا تعین کریں گی کہ پاکستانی صارفین کو سستے عالمی تیل کا کتنا فائدہ ملتا ہے۔ تاہم فی الحال عوامی تاثر یہی ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں گرنے کے باوجود پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل اب بھی ضرورت سے زیادہ مہنگے فروخت کیے جا رہے ہیں۔
