پاکستان نے بھارت کا علاقائی تھانیدار بننے کا خواب کیسے توڑا؟

ایران، غزہ اور خلیجی سفارت کاری میں پاکستان کے بڑھتے کردار نے جنوبی ایشیا کی سٹریٹجک سیاست پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جس نے جہاں پاکستان کو عالمی امن چیمپئن بنا دیا ہے وہیں بھارت کے خطے کے ٹھیکیدار بننے کا خواب بھی چکنا چور کر دیا ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان نے سفارتی محاذ پر نئی برتری حاصل کر کے خطے میں طاقت کا توازن کیسے بدلا؟ پاکستان کا سفارتی کردار بھارت کیلئے شکست فاش کیوں؟

مبصرین کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کے مبینہ ثالثی کردار، غزہ میں جنگ بندی کی سفارتی کوششوں میں شمولیت اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون میں پیشرفت نے اسلام آباد کو ایک بار پھر علاقائی سفارت کاری کے اہم کھلاڑی کے طور پر نمایاں کر دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ان پیش رفتوں نے نہ صرف پاکستان کی عالمی اہمیت میں اضافہ کیا بلکہ بھارت کے اس بیانیے کو بھی چیلنج کیا، جس کے تحت وہ خود کو جنوبی ایشیا کا واحد مؤثر سکیورٹی شراکت دار اور خطے کی ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی فوجی کشیدگی خطے کی حالیہ تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ پاکستان نے عسکری محاذ پر بھرپور جواب دینے کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی متحرک حکمت عملی اپنائی۔ اس دوران پاکستان نے امریکا، چین، خلیجی ممالک اور دیگر اہم علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے برقرار رکھے، جس سے عالمی سطح پر اس کی سفارتی حیثیت مضبوط ہوئی۔ مبصرین کے مطابق یہی روابط بعد ازاں پاکستان کو مختلف بین الاقوامی تنازعات میں سہولت کار کے طور پر پیش کرنے میں مددگار ثابت ہوئے۔

گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران بھارت نے امریکا، جاپان، آسٹریلیا اور دیگر مغربی ممالک کے ساتھ دفاعی اور سٹریٹجک تعلقات کو نمایاں طور پر وسعت دی۔ کواڈ جیسے علاقائی فورمز میں شمولیت، دفاعی معاہدوں، معاشی ترقی اور عالمی سرمایہ کاری نے نئی دہلی کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر پیش کیا۔اسی عرصے میں پاکستان دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام اور معاشی مشکلات سے نبرد آزما رہا، جس کے باعث عالمی سطح پر بھارت کی سفارتی پوزیشن نسبتاً مضبوط دکھائی دیتی رہی۔

مبصرین کے مطابق مئی 2025 کی کشیدگی کے دوران بھارت کو توقع تھی کہ بڑی عالمی طاقتیں مکمل طور پر اس کے مؤقف کی حمایت کریں گی، تاہم عالمی ردعمل زیادہ تر کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور جنگ بندی پر مرکوز رہا۔امریکا، چین، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور متعدد یورپی ممالک نے دونوں ممالک پر تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی ذرائع اختیار کرنے پر زور دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس رویے نے بھارت کی اس کوشش کو محدود کیا جس کے تحت وہ پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنا چاہتا تھا۔بعد ازاں پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں مختلف سفارتی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کیا۔ ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں میں سہولت کاری، غزہ سے متعلق امن کوششوں میں شمولیت اور خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی و سیاسی تعاون نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو نئی سمت دی۔سیاسی ماہرین کے مطابق ان اقدامات نے پاکستان کو صرف ایک سکیورٹی ریاست کے بجائے ایک ذمہ دار سفارتی شراکت دار کے طور پر بھی متعارف کرایا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ایران امریکہ کشیدگی کے خاتمے کے حوالے سے کی جانے والی سفارتی کوششوں نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے پاکستان کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، دفاعی صلاحیت، خلیجی ممالک، چین اور امریکا کے ساتھ تعلقات اسے خطے کی سیاست میں ایک اہم کردار دیتے ہیں۔دوسری جانب بھارت بدستور ایک بڑی معیشت، اہم دفاعی طاقت اور عالمی سطح پر بااثر ملک ہے، تاہم مبصرین کے مطابق خطے میں طاقت کا توازن اب پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے، جہاں کسی ایک ملک کی مکمل سفارتی برتری کا تصور پہلے جیسا واضح نہیں رہا۔

ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں جنوبی ایشیا کی سیاست کا انحصار صرف فوجی طاقت پر نہیں بلکہ مؤثر سفارت کاری، معاشی استحکام، علاقائی تعاون اور عالمی اعتماد پر ہوگا۔ اگر پاکستان اپنی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کو معاشی اصلاحات اور داخلی استحکام کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ خطے میں اپنا کردار مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔اسی طرح بھارت بھی اپنی معاشی قوت، عالمی شراکت داریوں اور علاقائی حکمت عملی کی بنیاد پر ایک اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔ اس لیے مستقبل میں جنوبی ایشیا کی سیاست مقابلے کے ساتھ ساتھ تعاون کے امکانات سے بھی جڑی رہے گی۔

Back to top button