آزاد کشمیر الیکشن: کس پارٹی کا کس حلقے میں پلڑا بھاری ہے؟

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 27 جولائی 2026 کو ہوں گے، جس کے لیے سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں نے امیدواروں کا اعلان کرتے ہوئے بھرپور انتخابی مہم شروع کر دی ہے، جبکہ متعدد حلقوں میں سخت اور دلچسپ مقابلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی 53 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں 45 نشستوں پر براہ راست انتخابات ہوتے ہیں۔ ان میں 33 حلقے آزاد کشمیر جبکہ 12 نشستیں پاکستان میں مقیم مہاجرین کے لیے مخصوص ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کی پانچ مخصوص نشستیں، ایک علما و مشائخ، ایک ٹیکنوکریٹ اور ایک اوورسیز نشست بھی اسمبلی کا حصہ ہیں۔ریاست میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 27 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بار انتخابی میدان میں بنیادی مقابلہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان دکھائی دے رہا ہے، جبکہ کئی سابق ارکان جماعتیں تبدیل کرنے کے بعد نئی سیاسی صف بندی کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت آزاد کشمیر کی انتخابی مہم کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے اور پارٹی قائد نواز شریف بھی انتخابی جلسوں سے خطاب کر سکتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کے اہم انتخابی حلقوں کی صورتحال کی بات کی جائے تو میرپور ڈویژن کے بیشتر حلقوں میں مقابلہ نہایت دلچسپ بنتا جا رہا ہے۔ ایل اے 1 ڈڈیال میں سابق پی ٹی آئی رہنما چوہدری اظہر صادق مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کے خواہاں ہیں، جبکہ ٹکٹ کی تقسیم کے بعد یہاں سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو سکتا ہے۔

ایل اے 2 چک سواری میں پیپلز پارٹی کے چوہدری قاسم مجید اور مسلم لیگ (ن) کے عظیم بخش چوہدری کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے، جبکہ ایل اے 3 میرپور سٹی میں چوہدری یاسر سلطان اور مسلم لیگ (ن) کے چوہدری سعید آمنے سامنے ہوں گے۔ ایل اے 4 کھڑی شریف، ایل اے 5 بھمبر، ایل اے 6 سماہنی اور ایل اے 7 بھمبر میں بھی مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور آزاد امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلے متوقع ہیں۔

اسی طرح ضلع کوٹلی کے بیشتر حلقوں میں بھی ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا براہ راست مقابلہ ہوگا، جبکہ بعض نشستوں پر ٹکٹوں کے فیصلوں نے پارٹیوں کے اندر اختلافات کو بھی جنم دیا ہے۔ باغ کے حلقوں میں سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کی نئی سیاسی وابستگی انتخابی منظرنامے کو مزید دلچسپ بنا رہی ہے، جبکہ مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد بھی اپنی نشست پر مضبوط امیدوار تصور کیے جا رہے ہیں۔حویلی، عباس پور، ہجیرہ، راولاکوٹ اور سدھنوتی کے حلقوں میں بھی مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، جے یو آئی اور علاقائی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلوں کی توقع ہے۔ بعض حلقوں میں انتخابی اتحاد بھی نتائج پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔

وادی نیلم کے دونوں حلقوں میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان براہ راست مقابلہ متوقع ہے، جبکہ مظفرآباد کے تقریباً تمام حلقوں میں بھی دونوں بڑی جماعتیں آمنے سامنے ہیں۔ کھاوڑہ، چکار اور لیپہ سمیت کئی حلقے انتخابی اعتبار سے فیصلہ کن سمجھے جا رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ انتخابی فضا میں مسلم لیگ (ن) نسبتاً مضبوط پوزیشن میں دکھائی دیتی ہے، تاہم پیپلز پارٹی بھی متعدد حلقوں میں سخت مقابلہ کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مقیم مہاجرین کی 12 نشستوں میں مسلم لیگ (ن) کو 7 سے 8 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم کانفرنس دو، دو نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔انتخابی مہم کے دوران امیدواروں کی حتمی فہرست، ممکنہ اتحاد اور آزاد امیدواروں کے فیصلے کئی حلقوں کے نتائج پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں، جس کے باعث 27 جولائی کے انتخابات کو آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی تاریخ کے اہم ترین مقابلوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

Back to top button