برطانوی شاہی خاندان دستبردار ہونے والے افراد

لیڈی ڈیانا کے بیٹے شہزادہ ہیری برطانوی شاہی خاندان کے پہلے فرد نہیں ہیں جنہوں نے شاہی خاندان کے خصوصی فرد کی حیثیت سے دستبرداری کا اعلان کیا ہے۔
برطانوی شاہی خاندان کی جانب سے 18 جنوری 2020 کو اہم اعلان جاری کرکے اس بات کی تصدیق کی گئی کہ شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ شاہی حیثیت سے دستبردار ہوگئے۔ عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل وہ پہلی شخصیات ہیں جنہوں نے برطانوی شاہی خاندان سے دستبرادری کا اعلان کیا، تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہیری اب تک شاہی خاندان کے دوسرے فرد ہیں جنہوں نے امریکی خاتون سے شادی کرنے کے بعد خاندان سے علیحدگی اختیار کی۔ شہزادہ ہیری سے ایک صدی قبل 1936 میں شاہی خاندان کے اہم فرد اور اس وقت کے بادشاہ ایڈورڈ ہشتم نے بھی امریکی طلاق یافتہ خاتون سے شادی اور تعلقات کے بعد تخت کو چھوڑا تھا۔
گزشتہ برس سامنے آنے والے ایک سیکس اسکینڈل کے بعد ملکہ برطانیہ کے بیٹے شہزادہ اینڈریو نے بھی نومبر 2019 کے آخر میں شاہی عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کا استعفیٰ شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کی جانب سے شاہی حیثیت چھوڑنے سے محض 2 ماہ قبل سامنے آیا۔
شہزادہ اینڈریو پر الزام تھا کہ انہوں نے نابالغ اور کم عمر لڑکیوں کا ’ریپ‘ کیا جب کہ ان پر شاہی محل میں بھی نامحرم خواتین لائے جانے کے الزامات سامنے آئے۔ ریپ اسکینڈل میں جیفری اپسٹین نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں شہزادہ اینڈریو کی جنسی تسکین کےلیے مجبور کیا گیا اور شہزادہ اینڈریو نے ان کے ساتھ متعدد بار کم عمری میں جنسی تعلقات استوار کیے، تاہم شہزادہ اینڈریو نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا۔ اسکینڈل سامنے آنے اور تنقید ہونے کے بعد ملکہ برطانیہ نے شہزادہ اینڈریو کو اپنے عہدوں سے استعفی دینا کی اجازت دی تھی اور انہوں نے نومبر 2019 میں شاہی عہدوں سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔
ایک رپورٹ کے مطابق ہیری اور شہزادہ ولیم کی والدہ شہزادہ لیڈی ڈیانا کی بھی اس وقت شاہی حیثیت ختم کردی گئی تھی یا ہوگئی تھی جب انہوں نے اپنے شوہر شہزادہ چارلس سے 1996 میں طلاق لے لی تھی۔ لیڈی ڈیانا نے 1981 میں شہزادہ چارلس سے شادی کی تھی اور شہزادہ ہیری اور ولیم ان کے بیٹے ہیں اور طلاق کے ایک سال بعد ہی وہ کار حادثے میں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہلاک ہوگئی تھیں۔ شاہی قوانین کے تحت طلاق کے بعد ان کی شاہی حیثیت بھی ختم ہوگئی تھی تاہم انہوں نے خود شاہی حیثیت نہیں چھوڑی تھی۔
1936 میں برطانیہ کے اس وقت کے بادشاہ ایڈورڈ ’ہشتم‘نے اس وقت تخت چھوڑا تھا جب انہوں نے ایک طلاق یافتہ خاتون سے عشق میں شادی کی تھی جس پر برطانوی پارلیمنٹ اور دیگر شاہی افراد خفا تھے۔ تخت اور عشق میں سے بادشاہ نے عشق کا انتخاب کیا اور شاہی محل اور عہدوں سے الگ ہوگئے۔
ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوئم کے شوہر شہزادہ فلپ نے بھی بڑھتی عمر کی وجہ سے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیا تھا، ملکہ برطانیہ کے شوہر نے 95 سال کی عمر میں 2017 میں شاہی عہدوں سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ملکہ برطانیہ نے ان کی دستبرداری کو قبول کیا تھا۔
نومبر 2019 میں جنسی اسکینڈل کے بعد شاہی عہدوں سے استعفیٰ دینے والے شہزادہ اینڈریو کی اہلیہ سارہ فرگوسن کو بھی 1996 میں اس وقت شاہی عہدوں سے ہٹا دیا گیا جب ان کی طلاق ہوگئی تھی۔
ملکہ برطانیہ کی واحد بیٹی 69 سالہ شہزادی اینے کو اگرچہ شاہی حیثیت حاصل ہے تاہم ان کے بچوں نے شاہی حیثیت لینے سے انکار کردیا۔ شہزادی اینے نے دو شادیاں کیں اور انہیں پہلی شادی سے 2 اور دوسری شادی سے بھی دو بچے ہیں، تاہم تمام بچوں نے شاہی حیثیت کے بغیر ہی زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button