ریسرچ آفیسر

تحریر : عطا ء الحق قاسمی
بشکریہ : روزنامہ جنگ
ایک لندن پلٹ صاحب سے پوچھا گیا کہ صاحب آپ لندن میں کیا کام کرتے تھے۔ موصوف نے جواب دیا کہ وہ وہاں ریسرچ آفیسر تھے ۔ اس پر سوال کرنے والا بہت پریشان ہوا اور بولا جناب آپ تو چٹے ان پڑھ ہیں ، آپ وہاں ریسرچ آفیسر کیسے ہو گئے ۔ بولے میں دراصل آلوؤں پر ریسرچ کرتا تھا۔ اس پر پوچھنے والے نے پھر پوچھا کہ جناب وہ کیسے؟ کیونکہ آلوؤں پر ریسرچ کرنے کے لیے بھی ایگرکلچر میں ڈگری ہونا ضروری ہے۔ یہ سن کر ان لندن پلٹ صاحب نے جواب دیا ” بات یہ ہے کہ وہاں سبزی کی ایک دکان تھی اور میں وہاں بڑے آلو چھانٹ چھانٹ کر ایک چھابے میں اور چھوٹے آلو دوسرے چھابے میں رکھا کرتا تھا ۔“
اور سچ پوچھیں تو ریسرچ کی یہ وہ قسم ہے جو ہمیں پسند آئی ہے اور اسی وجہ سے ایک دوست کے ساتھ ہمارا قلبی تعلق بہت گہرا ہے۔ وہ بھی کچھ اسی قسم کے ریسرچ آفیسر ہیں بلکہ ان کی زندگی کا تو مشن ہی یہی ہے کہ چھوٹوں اور بڑوں کو الگ الگ کر دیا جائے اور اس کے بعد چھوٹوں کی قیمت الگ وصول کی جائے اور بڑوں کے دام علیحدہ کھرے کیے جائیں ۔ ہمارے اس دوست کا نام اللہ رکھا زخمی ہے۔ یہ ایک فیکٹری میں ملازم تھے وہاں انہوں نے یہی کیا کہ ایک ٹریڈ یونین بنائی اور چند ہی دنوں میں چھوٹوں اور بڑوں کو الگ الگ کر دیا ۔ چھوٹوں نے انہیں اپنا لیڈر تسلیم کیا اور بڑوں نے سودا کاری ایجنٹ کے طور پر انہیں تسلیم کر لیا اور یہ بہت اچھے ایجنٹ ثابت ہوئے کیونکہ انہوں نے بڑوں سے چھوٹوں کا سودا کیا اور یوں اپنے دام کھرے کر لیے۔ جب چھوٹوں کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے ایک دن اپنے اس عظیم رہنما یعنی اللہ رکھا صاحب کو راستے میں گھیرا ان پر کمبل ڈالا اور پھر وہ گدڑ کٹ کی کہ موصوف بے ہوش ہو گئے ۔ جب یہ ہوش میں آئے تو انہیں معلوم ہوا کہ وہ خاصے زخمی ہو چکے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے فیکٹری کو خیر باد کہا اور اپنا تخلص زخمی رکھا اور شاعری کی طرف راغب ہوئے ۔ ان دنوں اللہ رکھا زخمی صاحب ملک کے معروف شاعر ہیں ۔ چیچو کی ملیاں سے ایک پرچہ روز گار ادب نکالتے ہیں اور اس میں چھوٹے اور بڑے فوائد کے لیے انہوں نے علیحدہ علیحدہ کالم مخصوص کیے ہوئے ہیں۔ اس کے لیے انہیں خاصی ریسرچ بھی کرنا پڑتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے کہ اتنی جانفشانی سے ریسرچ کرنے والے اسکالر اب ہمارے درمیان کتنے رہ گئے ہیں ؟
گزشتہ دنوں اللہ رکھا زخمی صاحب سے سر را ہے ہماری ملاقات ہوئی ۔ دیکھا تو سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی ۔ ہم نے پوچھا ” حضرت اب کیا ہوا خیر تو ہے؟“
بولے یہ جو خود کو ادیب شاعر کہلاتے ہیں ان میں رواداری ، مروت اور تحمل نام کی تو کوئی چیز رہی ہی نہیں ۔ گزشتہ ہفتے میں نے اپنے ایک اداریے میں ایک ادیب کی نجی زندگی پر صحت مند تنقید کی ۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اس کے بعد وہ میرے پاس مذاکرات کے لیے آتے لیکن انہوں نے اس صحت مند تنقید کے جواب میں خود آنے کے بجائے ایک صحت مند قسم کے شخص کو میرے پاس بھیجا۔ ان پہلوان صاحب نے میرے ساتھ جو مذاکرات کیے اس کا اندازہ تمہیں ان پٹیوں کی صورت میں ہو سکتا ہے۔“اللہ رکھا زخمی صاحب اس واقعے سے خاصے آزردہ تھے اور ان کا کہنا تھا کہ لوگ آزادی تحریر کے قائل نہیں رہے۔ چنانچہ وہ دل برداشتہ ہو کر ملک کو خیر باد کہہ رہے ہیں ۔
ہم نے پوچھا کہاں جا رہے ہیں؟“ کہنے لگے لندن جانے کا ارادہ ہے“اس پر ہم نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ لندن پہنچنے کے بعد سید ھے کسی سبزی فروش کے پاس جائیں وہاں آپ کو ریسرچ آفیسر کی جاب مل جائے گی ۔انہوں نے ہمارا یہ مشورہ پلے باندھا ۔ سو اُمید ہے کہ اس وقت وہ لندن میں کسی سبزی کی دکان میں بڑے آلو چھانٹ چھانٹ کر ایک چھابے میں اور چھوٹے آلو دوسرے چھابے میں رکھ رہے ہوں گے۔ انسان کو اپنے صحیح ٹیلنٹ کا اندازہ کافی دیر بعد ہوتا ہے!
