مخصوص نشستیں نہ بھی ملیں تو وفاقی حکومت قائم رہے گی

سپریم کورٹ کا مخصوص نشستوں پر فیصلہ خلاف بھی آ جائے مگر وفاقی حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
آئین کے تحت قومی اسمبلی کا ایوان 336 ارکان پر مشتمل ہے،تاہم اس وقت قومی اسمبلی میں دو درجن کے قریب مخصوص نشستیں خالی ہیں ، جس پر سپریم کورٹ کل فیصلہ سنائے گی، ایوان میں حکومت اور اتحادیوں کی تعداد 208 جبکہ اپوزیشن کی 108 ہے، سنی اتحاد کو مخصوص نشستیں ملنے کے باوجود بھی موجودہ حکومت برقرار رہے گی۔
سپریم کورٹ کا فل کورٹ مخصوص نشستوں سے متعلق کل جمعہ کو فیصلہ سنائے گا سنی اتحاد کو مخصوص نشستیں ملنے یا نہ ملنے پر حکومت متاثر نہیں ہو گی، قومی اسمبلی کے ایوان میں اس وقت حکومت اور اتحادی اراکین کی تعداد 208 جبکہ اپوزیشن 103 ارکان پر مشتمل ہے۔
خیبر پختونخوا: حلقہ پی کے 22 ضمنی انتخاب میں اے این پی کے نثار باز نے میدان مار لیا
پارٹی پوزیشن کے مطابق قومی اسمبلی کے ایوان میں ن لیگ 108، پیپلز پارٹی 68، ایم کیو ایم 21، ق لیگ 5، آئی پی پی 4، بی اے پی 1، ضیا لیگ 1 اور نیشنل پارٹی کا ایک رکن ہے، اپوزیشن بینچز پر سنی اتحاد کونسل 84، جے یو آئی 8، آزاد 8، بی این پی، ایم ڈبلیو ایم، پی کے میپ ایک ایک ارکان پر مشتمل ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے سنی اتحاد کونسل کے حق میں فیصلہ آنے سے اپوزیشن کی تعداد 128 ارکان پر پہنچ جائے گی، اگر فیصلہ حکومت کے حق میں آیا تو حکومت اور اتحادیوں کی تعداد 229 کے قریب پہنچ جائے گی اور اسے دو تہائی اکثریت حاصل ہو جائے گی۔
