حکمران اتحاد کا عمران کیخلاف ECPمیں اعتراض اٹھانے کا فیصلہ
حکمران اتحاد نے چیئرمین تحریک انصاف وسابق وزیراعظم کے قومی اسمبلی کے9 حلقوں سے الیکشن لڑنے کے اعلان پر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں اعتراضات دائرکرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومتی اتحاد کے امیدوار 17 اگست سے 20 اگست درمیان الیکشن کمیشن میں اعتراضات دائر کریں گے، عمران خان پر توشہ خانہ، اثاثہ چھپانے جبکہ صادق اور امین نہ رہنے کے اعتراضات دائر ہوں گے۔
الیکشن کمیشن کے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس پر فیصلے کو بھی اعتراضات کا حصہ بنایا جائے گا، حکومتی امیدواروں کی جانب سے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ، اثاثے چھپانے اور صادق و امین نہ ہونے کا بھی اعتراض کیا جائے گا، جب کہ اعتراضات کے ساتھ ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ بھی منسلک کیا جائے گا، عمران خان پر 62 ون ایف کے تحت بھی اعتراضات داخل کروائیں جائیں گے۔
پاکستان مسلم لیگ ن اور دیگر امیدوار اپنے متعلقہ حلقوں سے عمران خان پر اعتراضات داخل کریں گے، اس حوالے سے مسلم لیگ ن اور حکومتی اتحادیوں کے قانونی مشیروں نے کام مکمل کرلیا۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے 5 اگست کو تحریک انصاف کے ارکان کے استعفوں کی منظوری کے بعد خالی ہونے والے قومی اسمبلی کے 9 حلقوں میں ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری کیا گیا تھا، الیکشن کمیشن کے مطابق ان حلقوں کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی 10 سے 13 اگست تک جمع کرائے جاسکتے ہیں۔
ترکی اور پاکستان کا مل کر صلاح الدین ایوبی پر فلم بنانے کا فیصلہ
الیکشن کمیشن کے مطابق کاغذات کی جانچ پڑتال 17 اگست کو کی جائے گی، اور ضمنی انتخاب کےلیے پولنگ 25 ستمبر کو ہوگی، الیکشن کی جانب سے جاری کئے گئے شیڈول کے مطابق ضمنی انتخابات قومی اسمبلی کے حلقہ 22 مردان، حلقہ 24 چارسدہ، این اے 31 پشاور، این اے 45 کرم، این اے 108 فیصل آباد، این اے 118 ننکانہ صاحب، این اے 237 ملیر کراچی، این اے 239 کورنگی اور این اے 246 کراچی ساؤتھ میں ہوں گے۔ یہ نشستیں تحریک انصاف کےارکان کےاستعفوں کے باعث خالی ہوئی تھیں۔
یہ بھی واضح رہے کہ5 اگست کو ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری ہونے کے بعد چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ضمنی الیکشن میں قومی اسمبلی کے تمام 9 حلقوں سے خود الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا، سینئر صحافیوں سے ملاقات میں عمران خان کا کہنا تھا کہ مخالفین کیلئے میدان خالی نہیں چھوڑوں گا۔ مخالفین مجھے سنگل آؤٹ کرنا چاہتے ہیں مگر میں ہر میدان میں اُن کا مقابلہ کروں گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عام انتخابات اسی سال ہوں گے،انکا کہنا تھااُن سے دو بڑی غلطیاں ہوئی ہیں۔ سکندر سلطان راجہ کا بطور چیف الیکشن کمشنر تقرر میرا بلنڈر تھا۔ بولے دوسری بڑی غلطی کیا تھی یہ ابھی نہیں بتا سکتا۔
