کچھ لوگ آج بھی عمران خان کی ڈوریاں ہلا رہے ہیں

مسلم لیگ ن کے رہنماجاوید لطیف نے کہا ہے آج بھی جو کچھ ہو رہا ہے، سب کچھ سامنے آنے کے بعد بھی ، آج بھی نواز شریف کو نکال کر اس کو لانے والے کچھ نہیں سیکھیں گے، کچھ لوگ آج بھی اس کی ڈوریاں ہلارہے ہیں، نواز شریف جیل سے نہیں ڈرتے لیکن ایک چیز ذہن میں رکھیں کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، ثاقب نثار کی ہدایت پر ہمیں سزا سنائی گئی، اس لیے ہم نواز شریف کو جیل نہیں جانے دیں گے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکا کہنا تھا نواز شریف کا جرم یہ ہی ہے کہ اس نے سی پیک دیا، اس نے پاکستان کے اندھیرے دور کیے، اس نے پاکستان کی معیشت کو سنبھالا دیا، دہشت گردی کا خاتمہ کیا اور آنے والی نسلوں کو خوشحالی کا درس دیا، اس کو نظریہ ضرورت کے تحت تاحیات نا اہل کردیا گیا۔

انہوں نےکہا شہباز گل نے شہدا کے متعلق جو باتیں کیں، اس پر مقدمہ درج ہوا لیکن صرف دو روز کا ریمانڈ دیا گیا جب کہ جب میں نے ایک افسر کی دھمکی کی بات کی اور کہا کہ ہم اس چیز کو نہیں مانتے تو غداری کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا اور 14 روزہ ریمانڈ دیا گیا، می جیل جانے پر شرمندہ نہیں ہوں، اگر پاکستان کی آزادی کے مقصد کے حصول کے لیے مجھے بار بار بھی جیل جانا پڑا تو جاؤں گا۔

پی ٹی آئی نے فارن فنڈنگ لیکر کن ممالک کے قوانین توڑے؟

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ قائد ملت لیاقت علی خان کو گولی لگی، آج تک قاتل کا کچھ معلوم نہیں ہوسکا، جنرل ایوب خان پاکستان کے اقتدار پر قابض ہوئے اور مادر ملت فاطمہ جناح کو کرپٹ، غدار قرار دیا گیا، ان کے خلاف الیکشن میں دھاندلی کی گئی، پاکستان بنانے والوں غدار کہا گیا اور اس وقت بھی ایک طبقہ ایوب خان کو سچا جانتا تھا، ان کے بعد ایک رنگیلے جنرل آئے، جنرل یحیٰ جو حسین شہید سہروردی اور شیخ مجیب کو غدار کہتے رہے اور پاکستان ٹوٹنے کا موجب بنے لیکن غدار حسین شہید کو قرار دیا گیا، اسی طرح آج الیکشن کمیشن کی جانب سے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد بھی ایک طبقہ اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے جب کہ یہ ثابت ہوچکا کہ عمران خان نے غیر ملکی کمپنیوں اور دنیا کی با اثر شخصیات سے فنڈنگ وصول کی۔

جاوید لطیف نے کہا عمران خان کو ثاقب نثار جیسے شخص نے صادق و امین ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا جب کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے کردار کے حوالے سے پاکستان کی باہر کی ایک عدالت سے سامنے آنے والے فیصلے کو ایک طبقہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہے، عمران خان خود مانتے ہیں کہ انہوں نے ہسپتال کے لیے ملنے والے چندے کے پیسوں سے سٹہ کھیلا، اگر وہ پیسا ہسپتال کو ملے تھے تو ان پیسوں کو پارٹی اکاؤنٹس میں کیوں جمع کرایا، اگر فنڈز پارٹی کوملے تھے تو پھر بتائیں کہ اس فنڈنگ کا مقصد کیا تھا، عمران خان نے اپنے دور اقتدار میں پاکستان کی معیشت کو تباہ کیا اور جب آج ڈالر کی قدر میں کمی ہونا شروع ہوئی ہے، آپ پھر دھرنا دینے کی دھمکی دے رہے ہیں، پھر کہہ رہے ہیں کہ جلسے، جلوس کریں گے، 2017 میں پاکستان کی ترقی کرتی معیشت کو تباہ کرنے میں عمران خان کے ساتھ ثاقب نثار بھی ملزم ہے۔

وفاقی وزیر نے کہاآج بھی شوکت صدیقی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت عالمی ادارے ہماری عدالتوں کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں، ہم عدلیہ کا احترام کرنے والوں میں شامل ہیں، ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا، اگر کچھ بغیر اجازت کے عدالت میں داخل ہوئے، توڑ پھوڑ کی ایف آئی آرز درج کی گئیں جب کہ اسی طرح سے گزشتہ دنوں لوگ عدالت میں داخل ہوئے تو کہا گیا کہ یہ جذبات کا اظہار ہے۔

انہوں نے کہاپاکستان کی ترقی کا پہیہ روکنے کے لیے 2017 میں سازش کی گئی، عمران خان اور ثاقب نثار جیسے لوگ اس کے کردار تھے، جوڈیشل کو کا آغاز جسٹس منیر کے ساتھ شروع ہوا جب کہ ثاقب نثار کے دور میں یہ انتہا کو پہنچا،عمران خان جس آزادی انقلابی مارچ کا ذکر کرتے ہیں، بتائیں کہ اس کا روڈ مییپ کیا ہے، کیا یہ انقلاب اس طرح آئے گا کہ تم اقتدار میں آؤ تو قرضے بھی بڑھ جائیں، کرپشن، بے روزگاری اور مہنگائی بھی بڑھ جائے، اگر کچھ لوگ ایوب خان ، پاکستان ٹوٹنے کے موجب یحیٰ خان، پرویز مشرف اور تمام تباہی کا سبب بننے والے عمران خان کو بھی مسیحا سمجھتے ہیں۔

ن لیگ کے رہنما نے کہا اگر آزادی اور انقلاب اس چیز کا نام ہے کہ عمران خان کو دوبارہ اقتدار دے دیا جائے تو یہ ہمیں قبول نہیں ہے ، اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ عمران خان کا 62، 63 کے حوالے سے ٹرائل نہ ہو، توشہ خانہ ریفرنس فائل نہ ہو، اس کا فیصلہ نہ ہو تو یہ قوم کو قبول نہیں ہے،ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اگر ماضی میں درجنوں اراکین اسمبلی صرف اس وجہ سے نااہل قرار دیے جا سکتے ہیں کہ معمولی مالیت کے اثاثے ظاہر نہیں کیے تو جس نے کروڑوں روپے ظاہر نہیں کیے، اس کے خلاف فیصلہ آئے تو کہا جاتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر مخالف ہے، اس لیے یہ فیصلہ آیا ہے۔

انکا کہنا تھا الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد عمران خان آرٹیکل 62، 63 کے تحت صادق اور امین نہیں رہے، اس لیے اب اگر کال کوٹھری نہیں تو کم از کم روشنی والی کوٹھری میں جانے کا وقت ہوا چاہتا ہے، اب یہ نہیں ہو سکتا کہ چند لوگوں کی حمایت سے قانون کی گرفت سے بچاجائے، اگر عمران خان کو آج چند لوگوں کی حمایت حاصل نہ ہو تو وہ بنی گالا نہیں بلکہ پشاور میں جاکر اپنی صوبائی حکومت کی پناہ لیں۔

انہوں نے کہاعمران خان کہتے ہیں کہ ستمبر میں نواز آرہے ہیں اور مجھے اور نواز شریف کو ایک جیسا کرنے کے بعد کہا جائے گا کہ الیکشن لڑو، عمران خان اور نواز شریف کا کوئی موازنہ نہیں بنتا، نواز شریف کو بیٹے سے 10 ہزار تنخواہ نہ لینے پر تاحیات نا اہل کیا گیا جب کہ اربوں روپے کھانے والے کو ہاتھ نہ لگایا جائے تو اب یہ نہیں ہوسکتا، نواز شریف ستمبر میں قوم کی نمائنددگی کے لیے پاکستان آرہے ہیں، نواز شریف کے بغیر ہونے والے انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں کہا جا سکتا کہ ایک جماعت کے سربراہ کے ہاتھ پاؤں باندھ کر دوسرے کی سہولت کاری کریں، یہ ممکن نہیں ہے۔

جاوید لطیف نے کہا اگر ادارے آزاد ہیں تو وہ فیصلے جو پہلے کیے گئے جیسے پاکستان بنانے والوں کو غدار قرار دیا گیا، پاکستان کے اندھیرے دور ۔،کرنے والے کو ہائی جیکر بنا دیا گیا، نواز شریف کو ہائی جیکر بنا کر سزا دی گئی، پوری دنیا نے بعد میں مانا کہ ہائی جیکنگ کا الزام غلط تھا۔

وفاقی وزیر نےکہاہم کہتے ہیں کہ عدلیہ بغیر کسی دباؤ کے فیصلے اور انصاف کرے، شوکت عزیز صدیقی اور فائز عیسیٰ کی آواز کو سنیں، ہمیں امید ہے کہ ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے گا، ہمیں امید ہے کہ ماضی سے سبق سیکھا جائے گا، جس بھنور میں پاکستان پھنسا ہوا ہے اس میں تمام سیاسی جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ ملنا ضروری ہے تا کہ ملک آگے بڑھ سکے، ملک کے مقبول ترین رہنما نواز شریف کو بغیر ثبوت کے نا اہل کیا گیا تو کرپٹ، ڈاکو اور نا اہل کو ملک پر مسلط رکھنا یہ اب ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے کہانواز شریف جیل سے ڈرنے والے نہیں ہیں، نواز شریف کو جب سزا سنائی گئی تو وہ بیرون ملک سے واپس آکر جیل چلے گئے تھے، نواز شریف جیل سے نہیں ڈرتے لیکن ایک چیز ذہن میں رکھیں کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، کیونکہ ثاقب نثار کی ہدایت پر ہمیں سزا سنائی گئی تھی، نواز شریف کو جیل نہیں جانے دیں گے۔

جاوید لطیف نے کہا ہم کسی ادارے کے ساتھ دوستی یا دشمنی نہیں رکھنا چاہتے، ہم چاہتے ہیں کہ تمام ادارے آئین و قانون کے مطابق کام کریں، سیاسی جماعتیں بھی ایک ادارہ ہیں، وہ بھی کسی دوسرے ادارے سے مدد نہ مانگیں، وہ بھی جگہ جگہ یہ رونا نہ روئیں کہ مجھے دوبارہ نوکری پر رکھ لو، تمام ادارے اور افراد آئین کے مطابق چلیں گے تو ہی ملک مسائل سے نکل سکے گا،کچھ طاقت وار افراد آئین و قانون کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے ٹورتے ہیں اور اس کے لیے مختلف ادوار میں عمران خان جیسے لوگ اپنا کردار ادا کرتے آئے ہیں اور آج بھی ادا کر رہے ہیں۔

Back to top button