شہباز شریف کیخلاف توہین عدالت کی کاررروائی نا ممکن کیوں؟

اتحادی حکومت نے جہاں ایک طرف سپریم کورٹ کے واضح حکم کے مطابق 14مئی کو پنجاب میں انتخابات کرانے اور فنڈز کی فراہمی کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا وہیں دوسری طرف پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے بھی کوششیں تیز کر دی ہیں۔سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت کے مطابق حکمران اتحاد اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ حکمران اتحاد نے تجویز دی ہے کہ ایک 10 رکنی پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جس میں دونوں فریقوں کی یکساں نمائندگی ہو، تاکہ ملک بھر میں ایک ہی دن انتخابات کے انعقاد کے بارے میں بات چیت کی جاسکے۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور خواجہ سعد رفیق نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے اس حوالے سے رابطہ کیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ کو وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور خواجہ سعد رفیق نے تجویز دی ہے کہ سینیٹ میں اپوزیشن اور حکومت کےارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیں۔حکومتی نمائندگان نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی کو بات چیت کیلئے پارلیمان میں جگہ کی سہولت دی جائے۔حکومتی نمائندگان سے رابطے کے بعد چیئرمین سینیٹ نے قائد ایوان اسحاق ڈار اور قائد حزب اختلاف شہزاد وسیم کو خط لکھ کر کہا ہےکہ حکومت نے معاشی، سیاسی بحران اور انتخابات کے انعقاد پر مذاکرات کے آغاز اور سہولت کاری فراہم کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے۔ کمیٹی کے لیے حکومت اور اپوزیشن بینچز سے 4 ،4 افراد کو نامزد کیا جائے۔
باخبر ذرائع نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے وفاقی وزیرسردار ایاز صادق بھی دیگر جماعتوں سے مشاورت کر رہے ہیں۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لئے 3 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔پی ٹی آئی کی 3 رکنی کمیٹی میں شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری اور سینیٹر علی ظفر شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی 3 رکنی کمیٹی حکومتی وفد سے مذاکرات کر کے صورت حال سے چیئرمین پی ٹی آئی کو آگاہ کرے گی اور پھر کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی صرف الیکشن کے معاملے تک محدود رہتے ہوئے بات چیت کرے گی۔تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین مذاکرات کی کامیابی کے امکانات معدوم ہیں کیونکہ پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت اور پارلیمنٹ بارہا یہ اعلان کر چکی ہے کہ عدالت کی مقرر کردہ تاریخ پر انتخابات نہیں ہو سکتے اور یہ کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن ایک ہی تاریخ پر ستمبر کے بعد حکومتی مدت پوری ہونے پر ہوں گے۔اس بات کا اعادہ گزشتہ روز ایک بار پھر کیا گیا اور معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا گیا۔عدالت عظمی کے تین رکنی بینچ نے حکومت کی جانب سے الیکشن فنڈز جاری نہ ہونے پر براہ راست اسٹیٹ بینک کو ایسا کرنے کا حکم دیا تھا تاہم اس پر بھی عمل درآمد نہیں کیا گیا اور معاملہ پارلیمنٹ کے حوالے کر دیا گیا جس نے حکومتی موقف کے حق میں فیصلہ دیا۔ اس طرح حکومت نے اپنے گرد پارلیمنٹ کا حصار قائم کر لیا اور الیکشن فوری نہ کرانے کے فیصلے پر ڈٹ گئی جبکہ دوسری جانب عدالت نے بھی اس معاملے میں لچک نہ دکھاتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ 14مئی کو الیکشن کرانے کے فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ البتہ اگر سیاسی اسٹیک ہولڈر باہمی مذاکرات کے ذریعے کسی حل پر پہنچتے ہیں تو فیصلہ تبدیل کیا جا سکتا ہے تاہم اس حوالے سے بھی کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی اور اب 27 اپریل کو کیس کی سماعت کا دن آ پہنچا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر آپشنز کی بات کی جائے تو عدالت وزیراعظم کو توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری کر سکتی ہے اور انتخابی فنڈز کے اجراء کے لئے ایک دو روز کی مہلت بھی مل سکتی ہے جس پر عمل در آمد کا امکان بظاہر نظر نہیں آتا۔اس طرح عدالت کے پاس دو ہی آپشن بچتے ہیں ۔یا تو فیصلے پر عمل درآمد کرایا جائے یا پھر وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کو تو ہین عدالت کی کارروائی کے تحت فارغ کردیا جائے۔تیسرا آپشن لارجر یا فل بینچ کی تشکیل کا ہے جس پر عدالت اب تک آمادہ نہیں ہوئی اور مستقبل قریب میں بھی اس کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔سیاسی مبصرین کے مطابق وزیر اعظم اور ان کی کابینہ پر نااہلی کی تلوار لٹک گئی ہے اور شہباز شریف کے خلاف یوسف رضا گیلانی طرز کی کارروائی ہو سکتی ہے۔
ایسی صورت میں حکومت کے پاس محدود آپشنز ہی رہ گئے ہیں اور ان میں سے نمایاں ترین آپشن تصادم کا ہے جسے پارلیمنٹ کے ذریعے آزمایا جا رہا ہے۔کیونکہ وفاقی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ اگر حکم عدولی پر سپریم کورٹ وزیر اعظم کیخلاف کوئی کارروائی کرتی ہے تو حکومت عدالت میں یہ مؤقف اپنانے میں حق بجانب ہو گی کہ شہباز شریف نے بطور وزیر اعظم کوئی فیصلہ نہیں کیا بلکہ اس نے پارلیمنٹ کے احکامات پر عمل کیا ہے اس طرح شہباز شریف کے وہین عدالت کی کارروائی سے بچنے کا امکان ہے۔ تاہم اگر پھر بھی سپریم کورٹ وزیر اعظم شہباز شریف کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے انھیں نااہل کرتی ہے تو حکمران جماعت مسلم لیگ نون شہباز شریف کی ممکنہ نااہلی کو گھاٹے کا سودا نہیں سمجھتی، ایسی صورت میں وہ سیاسی شہادت کا علم بلند کرکے انتخابی مہم میں کود سکتی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ میں گزشتہ روز کی جارحانہ تقاریر اتحادیوں کی اسی پالیسی کی عکاسی کرتی ہیں، ان میں سے سخت ترین خطاب وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا تھا جن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی توہین ہم سب کی توہین کے مترادف ہے جسے کسی طور پر قبول نہیں کیا جائے گا۔مبصرین کے مطابق دلچسپ بات یہ ہےکہ آئندہ کے سیاسی منظر نامے میں بلاول بھٹو کو وزارت عظمی کے مضبوط ترین امیدوار کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
