سندھ بلدیاتی الیکشن:946 امید وار بلامقابلہ کامیاب، گنتی جاری

صوبہ سندھ میں بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے میں 14 اضلاع میں پولنگ ہوئی، پولنگ کا وقت ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے جبکہ 946 امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔
غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق کشمور میں ٹاؤن کمیٹی گڈو کی وارڈ نمبر 7 کے مکمل رزلٹ کے مطابق آزاد امیدوار محراب علی مزاری 37 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، جماعت اسلامی کے امیدوار عبید اللہ 18 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے، ٹاؤن کمیٹی گڈو کی وارڈ 8 میں ایس یو پی کے امیدوار 50 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، پیپلزپارٹی امیدوار زبیر احمد 49 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
ایران کی عدالت کا امریکہ کے خلاف بڑا فیصلہ سامنے آگیا
خیر پور میں ٹاؤن کمیٹی کوٹ ڈیجی کے وارڈ نمبر 8 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق جی ڈی اے امیدوار میر ڈنل تالپور 954 وقار لیکر کامیاب ہوئے، پیپلز پارٹی کے امیدوار سید انوار علی شاہ 348 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے، میونسپل کمیٹی خیرپور کی وارڈ نمبر 15 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق پیپلز پارٹی کے غلام حسین مغل 1304 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، آزاد امیدوار منصور اقبال شیخ 408 لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق شہداد کوٹ میں میونسپل کمیٹی وارڈ 17 کے مکمل پیپلزپارٹی کے امیدوار اصغر شیخ 1149 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے، آزاد امیدوار مجید شیخ 356 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے،میونسپل کمیٹی خیرپور 21 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق آزاد امیدوار جاوید بروہی 675 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے، پیپلز پارٹی کے امیدوار انور علی 400 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
کنڈیارو کے ٹاؤن کمیٹی وارڈ 11 کے پولنگ سٹیشن کے مکمل غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجہ کے مطابق پیپلز پارٹی کے اکرم قریشی 650 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، جے یو آئی کے عطاءاللہ 550 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے،نوکوٹ میں ٹاؤن کمیٹی وارڈ نمبر 6 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق آزاد امیدوار عرفان خورشید 384 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، پیپلز پارٹی کے برکت کورائی 203 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے، پنو عاقل میں میونسپل کمیٹی کے وارڈ 6 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق جے یو آئی کے امیدوار پجا رام 147ووٹ لیکر کامیاب رہے، پیپلزپارٹی کے امیدوار عبدالجبار شیخ 83 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
جیکب آباد میں میونسپل کمیٹی كے وارڈ نمبر 04 کے مکمل غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار غلام حسین عمرانی 388 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے، پی پی پی کے نور محمد دھرپالی 380 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے،میونسپل کمیٹی وارڈ نمبر 5 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق پی پی کے غوث بخش مغیری 1359ووٹ لیکر کامیاب ہوئے، آزاد امیدوار منور سومرو 439 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے،میونسپل کمیٹی وارڈ نمبر 16کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق پی پی پی کے امیدوار محمد آصف مغیری 1354ووٹ لیکر کامياب ہوگئے، ٹی ایل پی کے امیدوار 282 ليکر دوسر ے نمبر پر رہے۔
ادھر کھپرو اور بیرانی سے پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا، ٹاؤن کمیٹی کھپرو کے 18 میں سے 13وارڈز میں پیپلز پارٹی کامیاب ہوگئی، سانگھڑ میں بیرانی ٹاؤن کمیٹی کے پانچوں وارڈز سے پیپلزپارٹی کی جانب سے کلین سویپ کیا گیا،مورو میں میونسپل کمیٹی وارڈ نمبر 3 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق پی پی پی کے جان عالم 630 ووٹ حاصل کر کامیاب ہوئے، جی ڈی اے کے اکرم قریشی 209 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق وارہ میں ٹاؤن کمیٹی وارڈ نمبر 10 کے مکمل غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق آزاد امیدوار اوشاق چانڈیو 290 ووٹ لیے کر کامیاب ہوئے، پی پی کے امیدوار بشیر احمد چانڈیو 270 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے،کنبری میں ٹاؤن کمیٹی وارڈ نمبر 2 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق پیپلزپارٹی کے حمایت یافتہ امیدوار ساجدعزیز 853 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے، تحریک لبیک کے امیدوار150 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے، ٹاؤن کمیٹی وارڈ نمبر 7 غريب آباد کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق پیپلزپارٹی کے حمایت یافتہ اميدوار غلام حسين درس 311 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے، تحریک لبیک کے اميدوار نور محمد 133 ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہے۔
لاڑکارنہ میں میونسپل کمیٹی نوڈیرو سے پاکستان پیپلز پارٹی تمام 7 وارڈز سے کامیاب ہوگئی۔
غیرسرکاری نتائج کے مطابق بلامقابلہ جیتنے والوں میں پیپلز پارٹی سب سے آگے، سات سو سڑسٹھ جیالوں کی کامیابی، اڑسٹھ آزاد امیدوار بھی جیت گئے، جی ڈی اے اکسٹھ کے ساتھ تیسرے اور جے یو آئی ستائیس کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہی۔
دوسری جانب چیف الیکشن کمشنر نےسندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوران بیلٹ پیپرز کی چھپائی کی غلطیاں سامنے آئیں جس پر تحقیقا ت کا حکم دیدیا۔ ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق جہاں پر امیدواروں کے نام غلط پرنٹ ہوئے، وہاں پولنگ ملتوی کر دی، دوبارہ الیکشن کیلئے نیا شیڈول جاری کیا جائے گا۔
کراچی میں صوبائی الیکشن کمشنر اعجاز چوہان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جہاں جھگڑے ہوئے وہاں صورتحال پر قابو پالیا ہے، پر تشدد واقعات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انکوائری بھی ہوگی، امیدواروں اور تمام سیاسی جماعتوں سے درخواست ہے کہ حالات کو پرامن رکھیں۔
صوبائی الیکشن کمشنر نے کہا کہ ان کے علم میں نہیں ہے کہ بیلٹ پیپر کم بھیجے گئے ہیں، الیکشن کمیشن خود مختار ادارہ ہے کسی کی ڈائریکشن کے پابند نہیں ہیں، بلدیاتی نتائج قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی سے زیادہ بڑے پیمانے پر جمع کئے جاتے ہیں، کراچی میں مرکزی مانیٹرنگ روم سے بھی غیر حتمی نتائج جاری کیئے جائیں گے۔
اعجاز چوہان نے کا کہنا تھا شام 5 بجے تک پولنگ جاری رہے گی،تمام ڈی آر اوز ضلعی افسران اور پولیس افسران سے رابطے میں ہیں۔
