بابراعظم کے والد نے سوشل میڈیا پر بیٹے کا دفاع کیسے کیا؟

پاکستانی ٹیم کے کپتان بابراعظم کے والد اعظم صدیق آج کل بیٹے کے دفاع میں سوشل میڈیا پر کافی متحرک دکھائی دے رہے ہیں، کبھی وہ سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد آصف کو ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جواب دے رہے ہوتے ہیں تو کبھی وہ اپنے بیٹے کی کامیابیوں پر تبصرہ کر رہے ہوتے ہیں۔لیکن ورلڈ کپ سے قبل پہلے وارم اپ میچ میں پاکستان کی شکست کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹا گرام پر ان کا سامنا ان مداحوں سے ہو گیا جو بطور کپتان ان کے بیٹے کے فیصلوں سے خوش نہیں تھے۔تین اکتوبر کو گرین شرٹس کے آسٹریلیا کے خلاف وارم اپ میچ سے قبل ان کی ایک پوسٹ وائرل ہو گئی جس میں وہ متعدد صارفین سے الجھ گئے، بات اس وقت شروع ہوئی جب نعمان ملک نامی ایک صارف نے بابراعظم کے والد اعظم صدیق کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ اپنے بیٹے کو کیوں نہیں سمجھاتے، وہ دوستی یاری کلچر کو ختم کیوں نہیں کرتا۔اسی کمنٹ کے نیچے ملک حمزہ 1695 نامی ایک اور صارف نے بھی کچھ ایسی ہی بات کرتے ہوئے لکھا کہ ’’وہ بابر کے خلاف نہیں لیکن انہیں نیوزی لینڈ کی طرح وارم اپ میچ میں تیز کھیلنا چاہئے تھا، دوستی کلچر کے طعنے پر بات کرتے ہوئے بابر اعظم کے والد نے صارف سے سوال کیا کہ اگر دوستی کلچر نہ ہو تو پھر گروپ بنیں گے، پارٹی بازی ہوگی، کھلاڑی ایک دوسرے کو سپورٹ نہیں کریں گے اور قرآن پر حلف لیں گے۔ٹیم سلیکشن پر جواب دیتے ہوئے اعظم صدیقی نے واضح کیا کہ ورلڈ کپ اسکواڈ کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے منتخب کیا ہے، بابر نے وہ ٹیم نہیں بنائی، اس پوسٹ کے جواب میں جب ایک اور صارف نے لکھا کہ بابر کو جارحانہ حکمتِ عملی اپنانی چاہئے، تو ان کے والد کا دلچسپ جواب سامنے آیا کہ "آپ نمبر ون کو یہ بتائیں گے!”اعظم صدیقی کی صارفین کے ساتھ اس نوک جھونک پر کسی نے ان کی تعریف کی تو کسی کے خیال میں انہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا، عمران صدیق نامی صحافی نے بابر اعظم کے والد کے جواب کو شان دار کہا، وہیں سعد بٹ نامی صارف نے انہیں غیر ضروری لوگوں سے الجھنے سے منع کیا۔ایک اور صارف شبیہ الحق کے خیال میں بابراعظم کے والد کو سوشل میڈیا پر بیٹے کا دفاع نہیں کرنا چاہئے، وہ چار سال سے تینوں فارمیٹ میں کپتان ہیں اور انہیں اپنے فیصلوں کی ذمے داری لینی چاہئے، ایک اور صارف شبیہ الحق کے خیال میں بابراعظم کے والد کو سوشل میڈیا پر بیٹے کا دفاع نہیں کرنا چاہیے، وہ چار سال سے تینوں فارمیٹ میں کپتان ہیں اور انہیں اپنے فیصلوں کی ذمے داری لینی چاہئے، دو سال قبل جب پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اہم میچ میں بھارت کو دس وکٹوں سے شکست دی، تب ان کے والد پہلی بار منظر عام پر آئے تھے۔

Back to top button