ملکی معاشی بحران، نگران وزیر خزانہ کہاں غائب ہیں؟

ملک کی معاشی صورت حال ہو یا پھر بجلی کے بلوں میں اضافے کا مسئلہ، عوام سراپا احتجاج ہے اور اس وقت سب کی نظریں نگران حکومت پر جمی ہوئی ہیں کہ وہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے کیا ’مشکل فیصلے‘ کرنے جا رہی ہے۔دوسری جانب یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اس ’مشکل وقت‘ میں نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر کہاں ہیں؟ وہ تاحال نہ تو خود منظر عام پر آئی ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی پالیسی بیان سامنے آیا ہے، جس پر معاشی ماہرین بھی تعجب کا اظہار کر رہے ہیں۔

وزیر خزانہ کا عہدہ ملک کے اقتصادی مسائل کے پیش نظر انتہائی اہم حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ روپے کی گرتی قدر اور بجلی کے زیادہ بلوں جیسے مسائل پر موجودہ نگران حکومت خاموش ہے۔ اس کے مقابلے میں ماضی کے وزرائے خزانہ میڈیا پر اپنی پالیسیوں کا بھرپور دفاع کرتے دکھائی دیتے تھے۔تاہم نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے انڈپینڈنٹ اردو سے نگران وزیر خزانہ کی سیاسی منظرنامے سے عدم حاضری پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’شمشاد اختر چند روز کے لیے رسائی میں نہیں ہیں، وہ ایک اقتصادی منصوبے پر کام کر رہی ہیں اور کچھ معاملات میں مصروف ہیں۔‘

خیال رہے کہ 2006 میں  سٹیٹ بینک آف پاکستان کی پہلی خاتون گورنر بننے والی ڈاکٹر شمشاد اختر کی تقرری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک آئی ایم ایف پروگرام میں شامل ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بتدریج بڑھتے ہوئے افراطِ زر کے پیش نظر ان کی بطور وزیرِ خزانہ تقرری کو اہم بھی سمجھا جا رہا ہے۔دوسری جانب موجودہ معاشی صورتحال بارے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کا کہنا ہے کہ نگران حکومت کو معاملات ک) ٹالنے کے بجائے اس پر بات کرنی چاہیے، انہیں کہنا چاہیے کہ ہم جو کر رہے ہیں وہ پچھلی حکومت کر کے گئی ہے۔ ٹالنے سے کوئی چیز حل نہیں ہوگی۔‘

اس ساری صورت حال میں موجودہ وزیر خزانہ کو کیا کرنا چاہیے تھا؟ اس سوال پر سلیم مانڈوی والا نے کہا: ’نگران حکومت کو بتانا چاہیے کہ پہلے کیا صورت حال تھی اور یہ ہمارا منشور ہے۔ اب اگر نگران حکومت سے تبدیلیوں کی امید کی جا رہی ہے، تو نہ تو یہ ان کے منشور میں ہے اور نہ اختیار میں۔ اگر ان کے دائرہ کار میں کسی چیز کو بہتر کرنا ہے تو کریں۔  دیکھتے ہیں کہ نگران حکومت کیا کر سکتی ہے۔‘

ملکی صورت حال کے حوالے سے معاشی امور کے ماہر فرحان بخاری کہتے ہیں کہ وزیر خزانہ کو گذشتہ حکومت کی جانب سے دیے گئے بجٹ پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور خاص طور پر ’ترقیاتی منصوبوں کے لیے رکھی گئی رقم منجمد کر کے نظر ثانی کرنی چاہیے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’گذشتہ حکومت کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کے لیے رکھی گئی رقم کا تعلق ان کی سیاست سے تو ہو سکتا ہے، لیکن ملکی معیشت اور بہتری سے نہیں، ملکی معاشی حالات کے پیش نظران اخراجات کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ایسے وقت میں معیشت پر زیادہ دھیان دینے کی ضرورت ہے۔‘

دوسری جانب معاشی امور کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی شہباز رانا سمجھتے ہیں کہ  ’نگران وزیر خزانہ کی جانب سے مکمل خاموشی ہے بلکہ ایسے لگ رہا ہے کہ وہ کسی پر اعتماد کرنے یا بات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ مخصوص اجلاس کر رہی ہیں، جس سے رابطے کا خلا پیدا ہو رہا ہے۔ قیاس آرائیاں کرنے والے اس کا استعمال کر رہے ہیں اور غیر یقینی کی صورت حال پیدا ہو رہی ہے۔ وزیر خزانہ کو اپنی رابطہ کاری کی حکمت عملی بہتر کرنے

سیلز ٹیکس کی مدمیں وصولیوں کی شرح میں 2.4 فیصد اضافہ

کی ضرورت ہے۔‘

Back to top button