پنجاب میں 14 مئی کو الیکشن ہونا ممکن کیوں نہیں؟

پنجاب میں مئی کے وسط میں انتخابات کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے جبکہ اعلیٰ سول اور عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کا عزم کرتے ہوئے انتہاپسندی کے سدباب کے لیے 15 روز میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت جامع آپریشنز شروع کرنے کا اعلان کیا ہے, قومی سلامتی کمیٹی کی جانب سے وسیع پیمانے پر آپریشن کے فیصلے سے پنجاب میں انتخابات کے امکانات میں مزید کمی آگئی ہے ۔مبصرین کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد یہ صورتحال واضح ہو چکی ہے کہ عسکری قیادت بھی نہ صرف انتخابات کے التواء کی حامی ہے بلکہ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں اور حکومت کو فوج کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے پر کہا تھا کہ حکومت فوج کو عدلیہ کے خلاف نہیں بلکہ قوم کے خلاف گھسیٹنا چاہتی ہے۔ تاہم مریم اورنگزیب کے مطابق پنجاب میں انتخابات قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ نہیں تھے اور اسی لیے اس معاملے پر سول اور عسکری قیادت کے اجلاس میں بات نہیں کی گئی۔انہوں نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انتہاپسندی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے طرز پر نئے آپریشنز 15 دن کے اندر شروع کردیے جائیں گے۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھی اس طرح کے دو آپریشنز کیے جاچکے ہیں، پہلا فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے دور میں 2002 میں شروع کیا گیا تھا اور دوسرا پاکستان مسلم لیگ(ن) کے دور حکومت میں 2014 میں کیا گیا تھا۔قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے اعلامیے کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس میں تین اہم ترین نکات بیان کئے گئے ہیں جن میں دہشت گردی کے خلاف مربوط اور جامع آپریشن کی منظوری ، ریاستی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے کیے جانے والے پراپیگنڈے پر تشویش اور عوام کو ریلیف کی فراہمی کی ضرورت پر زور دینا شامل ہیں۔

واضح رہے کہ سیاسی اور عسکری قیادت کے اعلی ترین فورم قومی سلامتی کمیٹی کا اکتالیسواں اجلا س ایک ایسے موقع پر منعقد کیا گیا ہے جب ملک بدترین سیاسی افراتفری اور معاشی ابتری کےساتھ ساتھ حکومت عدلیہ محاذ آرائی کے نتیجے میں عدالتی اور آئینی بحران کے دوراہے پر کھڑا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ بحران کسی غیر معمولی صورت حال یا حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ایسے حالات میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس پر سب کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔اگرچہ کمیٹی کے ایجنڈے پر اداروں کے درمیان تصادم یا سیاسی محاذ آرائی کو زیر بحث لانا شامل نہیں ہے۔تاہم اجلاس کے اعلامیے میں وسیع تناظر میں ملک کو درپیش مسائل اور خطرات کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ ان سے نمٹنے کیلئے ریاستی حکمت عملی بھی دی گئی ہے۔

مبصرین کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جامع آپریشن کے نتیجے میں متاثرہ علاقوں میں نہ صرف سکیورٹی فورسز کی موجودگی ضروری ہو گی بلکہ حسب ضرورت ان کی تعداد میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ایسی صورت میں الیکشن کے انعقاد کے لیے درکار سیکورٹی اہلکاروں اور عملے کی مطلوبہ تعداد پوری کرنابھی ایک چیلنج ہوگا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ قومی سلامتی کونسل کے اجلاس نے کالعدم تحریک طالبان کے مطلوب دہشت گردوں کو واپس لاکر بسانے کی سابقہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کی پالیسی کو ناکام یا غلط قرار دیا ہے ،جس کے نتیجے میں حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا جبکہ مستقبل میں ایسے عناصر کے لیے زیرو ٹالرنس کی پالیسی وضع کی گئی ہے۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے کا دوسرا نقطہ ریاستی اداروں اور افواج پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر جاری وہ پروپیگنڈا ہے، جس کے ٹریپ میں آ کر نہ صرف بڑی تعداد میں پڑھے لکھے نوجوان ایک ان چاہی جنگ کا حصہ بن گئے ہیں جو ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کا سبب بن رہی ہے، بلکہ بالواسطہ طور پر ایسے لوگ پاکستان کے بیرونی دشمنوں کا ایجنڈا آگے بڑھا رہے ہیں،یہی وجہ ہے کہ قومی سلامتی کونسل نے اسے "فارن اسپانسرڈ زہریلا پروپیگنڈہ” قرار دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے اندرون و بیرون ملک سرگرم عناصر کی سرکوبی کے لیے جلد منظم کارروائی شروع کر دی جائے گی۔تیسرے اور اہم ترین نکتے میں قومی سلامتی کونسل نے عوام کو ریلیف کی فراہمی کو مرکزی حیثیت کا حامل قرار دیا ہے۔یہ وہ پہلو ہے جسے اس وقت سیاسی افراتفری ،حکومت عدلیہ محاذ آرائی اورجنگ و جدل کے ماحول نے پیچھے دھکیل دیا ہے جبکہ بائیس کروڑ عوام کی اکثریت بدترین مہنگائی اور معاشی بدحالی کے باعث زندگی سے بیزار نظر آتی ہے۔ظاہر ہے کہ معاشی استحکام کے لیے محاذ آرائی کا خاتمہ اور سیاسی استحکام ضروری ہے۔ذرائع کے مطابق قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں اسی جانب نشاندہی کی گئی ہے۔ ذرائع نے امکان ظاہر کیا ہے کہ مذکورہ تینوں نکات پر آنے والے دنوں میں عملی پیشرفت دیکھنے میں آئے گی۔۔

آئینی بحران میں شدت، عدالتی بریک ڈاؤن کا خطرہ

Back to top button