نومبر میں عام انتخابات کے انعقاد کے امکانات معدوم کیوں؟

موجودہ حکومت 11 دن بعد رخصت ہو رہی ہے اور آئین کے عین مطابق 90 دن یعنی 12 نومبر تک عام انتخابات کا انعقاد ہونا ہے۔ویسے آئین کو جہاں سے بھی پرکھا اور پڑھا جائے یہ معاملہ سیدھا سیدھا ہے کہ حکومت کی رخصتی کے بعد وزیراعظم اور قائدِ حزبِ اختلاف کی مشاورت سے آنے والے نگران وزیراعظم 90 روز میں شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنا کر اقتدار نئی حکومت کے سپرد کر دیں گے۔

لیکن اس کے باوجود شہر اقتدار میں گذشتہ کئی ہفتوں سے کچھ ایسے خدشات اور سوالات گردش کر رہے ہیں کہ نگران وزیراعظم کون بنے گا، کیا انتخابات نومبر میں اپنے وقت پر ہوں گے اور کیا ایک لمبے عرصے کی نگران حکومت لانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں؟ ان سوالات کے جواب سیاست دانوں سے لے کر صحافی سبھی تلاش کرنے کیلئے سرگرداں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی عادل شاہ زیب نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کیا ہے۔ عادل شاہ زیب کا مزید کہنا ہے کہ نگران وزیراعظم کے لیے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا نام چلا  لیکن انہوں نے اس بات کی تردید نہیں کی۔گو کہ ان کے نام پر تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور خود ان کی اپنی جماعت کے اندر سے شدید تنقید سامنے آئی کہ وہ کیسے ایک نیوٹرل وزیراعظم ثابت ہو سکتے ہیں، اتحادی جماعتوں کی اس رائے میں بھی وزن ہے کہ عام انتخابات کی شفافیت پر پہلے ہی انگلی اٹھ جائے گی۔ تاہم حقیقت یہ بھی ہے کہ نگران وزیراعظم نے ملکی معیشت کو لے کر کئی اہم فیصلے کرنے ہیں اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 230 میں ترامیم بھی اسی وجہ سے کی گئیں۔

عادل شاہ زیب کے مطابق اس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ نگران وزیراعظم کا فیصلہ میاں نوازشریف کی رضامندی کے بغیر ناممکن ہے۔ اسحاق ڈار کے بعد نگران وزارت عظمیٰ کے لیے کئی اور نام بھی چل رہے ہیں، دیکھتے ہیں کس کے نام کا قرعہ نکلتا ہے۔

عادل شاہ زیب کے مطابق دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ کیا انتخابات بروقت یعنی نومبر میں ہو جائیں گے؟اس کا سیدھا سیدھا جواب یہ ہے کہ ’آئین یہی کہتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔‘ تاہم وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ عام انتخابات بروقت یعنی نومبر میں ہی ہوں گے۔مردم شماری اور حلقہ بندیاں اور پھر ان پر اعتراضات ایسے معاملات ہیں جس سے عام انتخابات میں کم از کم آٹھ ہفتے کی تاخیر ہو سکتی ہے یعنی عام انتخابات اگلے برس فروری یا اس کے فوراً بعد تک جا سکتے ہیں۔

کیا نگران سیٹ اپ طویل المدتی ہو گا؟ فی الحال ایسا ہونے کے زمینی حقائق اور شواہد نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن پاکستان میں ایسے تجربات پہلے ہو چکے ہیں اس لیے اسے مکمل تو کبھی بھی رد نہیں کیا جا سکتا البتہ اس بات کے امکانات ہیں کہ نگران سیٹ اپ تین ماہ کی بجائے پانچ ماہ تک معاملات چلاتا رہے۔عادل شاہ زیب کے مطابق موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ناقدین یہ نکتہ بھی بار بار اٹھا رہے ہیں کہ عام انتخابات کے نتیجے میں ایک اور ہائبرڈ نظام کی تیاریاں ہو چکی ہیں۔ مقتدر حلقے اس بات کا اٹل فیصلہ کر چکے ہیں کہ ملکی معیشت پر اب کسی کو سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور چاہے وہ فوج کو ’تقسیم کرنے کی منظم سازش‘ تھی یا کہ ملک میں پولرائزیشن کی، اس میں جو بھی گروہ یا شخص ملوث پایا گیا وہ ناقابل معافی ہے اور فی الحال ان کے ساتھ چلنا تقریباً ناممکن۔نوشتہ دیوار یہ ہے اب اس ماڈل میں جو بھی جماعت فٹ آئے وہی آگے چل پائے گی۔اب عوام کی مرضی کہ اسے نیو ہائبرڈ نظام سمجھیں یا کہ ایک ایسا جمہوری نظام جس میں ان معاملات پر ’نو کمپرومائز‘ اور ’زیرو ٹالرنس‘ کی پالیسی

بھارتی اداکارہ کا پاکستانی صحافی کو مزہ چکھانے کا فیصلہ؟

ہوگی۔

Back to top button