خٹک عمران خان کے کون سے راز کھولنے والے ہیں؟

پرویز خٹک کی جانب سے اپنی سیاسی جماعت پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کے اعلان کے بعدسے وہ مسلسل خبروں میں ان ہیں۔ اور سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سابق صوبائی صدر پرویز خٹک کی نئی سیاسی جماعت کی تشکیل تو ہوگئی لیکن کیا یہ خیبر پختونخوا میں دو بار حکومت بنانے والی سیاسی جماعت پی ٹی آئی کا مقابلہ کر پائے گی؟ سیاسی تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ پرویزخٹک کے سینے میں تحریک انصاف اور عمران خان بارے کئی راز دفن ہیں اگر پرویز خٹک وہ راز سامنے لے آئے تو پی ٹی آئی قیادت کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گی۔

 دوسری جانب تجزیہ کاروں کے مطابق پرویز خٹک کی جانب سے نئی سیاسی جماعت بنانے کا واحد مقصد پی ٹی آئی کا ’ووٹ بینک حاصل کرنا‘ ہے۔ اگر پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کو جیل بھیج دیا گیا تو پی ٹی آئی بغیر سربراہ کے رہ جائے گی، تو پرویز خٹک چاہتے ہیں کہ وہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے ووٹ حاصل کر سکیں۔‘تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق خیبر پختونخوا کی سیاست دیگر صوبوں سے قدرے مختلف ہے کیونکہ اس صوبے میں ووٹ برادری کو نہیں جاتا بلکہ عوام پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں۔

پرویز خٹک کی نئی سیاسی جماعت کے حوالے سے مبصرین کا کہنا ہے کہ پچھلے دنوں بھی جو میٹنگ ہوئی تھی، اس میں ایک شخص بھی دوسرے صوبے سے نہیں تھا، تو اس طرح یہ جماعت تو اس صوبے کی ہوگی لیکن یہ نیشنلسٹ جماعت نہیں ہوگی۔‘کیا پرویز خٹک کی جماعت پی ٹی آئی کا مقابلہ کر پائے گی؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’پرویز خٹک صرف اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ اگر عمران خان کو جیل بھیج دیا جائے یا پی ٹی آئی پر پابندی لگائی جائے تو وہ پارٹی کے ووٹ حاصل کر سکیں۔‘ان کا مزید کہنا تھا: ’اس پارٹی کے بننے کے بعد بھی پی ٹی آئی کے کچھ لوگ شاید آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیں گے اور پرویز خٹک کی کوشش ہوگی کہ ایک اتحادی حکومت خیبر پختونخوا میں قائم کر سکیں۔‘

پی ٹی آئی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی کامران بنگش نے بتایا کہ وہ پرویز خٹک کی پارٹی بنانے پر ان کو نیک تمنائیں پیش کرتے ہیں اور کوئی بھی سیاسی جماعت کو ہم اپنا حریف سمجھیں گے اور انتخابات میں مقابلہ کریں۔انہوں نے بتایا، ’شاید لوگوں کی کچھ مجبوریاں ہوں اور وہ پرویز خٹک کی جماعت میں شامل ہوں گے۔ یہ ہمارے مشہران رہ چکے ہیں اور ہم ان کی قدر کرتے ہیں۔‘

دوسری جانب پشاور پریس کلب کے صدر اور پشاور میں روزنامہ جنگ کے ایڈیٹر ارشد عزیز ملک کا کہنا ہے کہ پرویز خٹک نے پارٹی تو بنا لی ہے لیکن وہ عوامی لیڈر نہیں ہیں بلکہ صرف ’سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر‘ ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا: ’عمران خان کی شخصیت اور عوامی پذیرائی کے مقابلے میں پرویز خٹک بالکل برابر نہیں ہیں اور اس صوبے میں ماضی میں اگر پی ٹی آئی نے حکومت کی ہے تو وہ صرف عمران خان کی عوامی پذیرائی کی وجہ سے کی ہے۔ تاہم ارشد عزیز کے مطابق: ’یہ ضرور ہے کہ پی ٹی آئی کے ووٹ بینک کو تقسیم کیا جا سکتا ہے، جس طرح پنجاب میں پی ٹی آئی کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا، ایسا ہی عمل خیبر پختونخوا میں کیا گیا اور اب انتخابامی عمل کو دیکھا جائے گا۔‘انہوں نے مزید کہا: ’2013 اور 2018 کے عام انتخابات میں جن اراکین نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن جیتا تھا، ان افراد کا اپنا ووٹ بینک نہیں تھا بلکہ وہ عمران خان اور پی ٹی آئی کی وجہ سے جیتے تھے تو اب پرویز خٹک کے ساتھیوں کا مستقبل میں پتہ چلے گا کہ وہ عمران خان کے علاوہ کسی اور نام سے کتنا ووٹ حاصل کر پائیں گے۔‘

تاہم ارشد عزیز ملک کے مطابق: ’یہ ضرور ہے کہ اگر پرویز خٹک کی پارٹی اور پی ٹی آئی کا امیدار میدان میں ہے تو پی ٹی آئی کا ووٹ ضرور تقسیم ہو سکتا ہے اور اس کا فائدہ کسی تیسری جماعت کو ملے گا اور یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کیا پی ٹی آئی کو لیول پلینگ فیلڈ یعنی دیگر پارٹیوں کی طرح انتخابی مہم اور فیئر انتخابات کا موقع ملے گا بھی یا نہیں۔‘ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کی جڑیں اب مضبوط ہوچکی ہیں اور دبانے سے یہ پارٹی اب ختم نہیں ہوگی تاہم انتخابی عمل میں مداخلت کر کے پارٹی کو ہروا ضرور سکتے ہیں۔‘

دوسری جانب سینئر اینکر اور صحافی عادل شاہ زیب نے بتایا کہ بلاشبہ پرویز خٹک خیبر پختونخوا میں سیاست کے بڑے کھلاڑی ہیں اور انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔تاہم عادل کے مطابق یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ پرویز خٹک کی جماعت، پی ٹی آئی کو کتنا سیاسی نقصان پہنچائے گی۔

عادل شاہ زیب نے بتایا: ’پی ٹی آئی جس طرح بنائی گئی تھی، اسی طرح تحلیل ہو رہی ہے۔ سیاسی انجینیئرنگ کل بھی غلط تھی اور آج بھی غلط ہے لیکن پی ٹی آئی کو اس نہج پر پہنچانے میں عمران خان کا بھی ہاتھ ہے۔‘انہوں نے مزید بتایا کہ ’پرویز خٹک اور محمود خان کی اکھٹے پی ٹی آئی چھوڑنا، پی ٹی آئی کے لیے بڑا جھٹکا ہے اور پرویز خٹک کی جماعت میں مزید لوگ بھی شامل ہوجائیں گے اور پرویز خٹک ایسے راز کھولیں گے جس سے

کیا نگران حکومت عمران خان کو جیل میں ڈال پاۓ گی؟

پی ٹی آئی میں موجود اراکین کے لیے کام کرنا مشکل ہوجائے گا۔‘

Back to top button