جنرل باجوہ نے نواز شریف کو نااہل کیوں کروایا؟

سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ بطور پریس سیکرٹری کام کرنے والے سینئر صحافی سینیٹر عرفان صدیقی نے جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہاتھوں میاں صاحب کی وزارت عظمی کے خاتمے کی کہانی بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ فوجی ترجمان کی جانب سے ریجیکٹڈ کی ٹویٹ آنے کے بعد نواز شریف شدید برہم تھے اور انہوں نے استعفی دینے کا موڈ بنا لیا تھا لیکن ان کو بڑی مشکل سے روکا گیا۔ تاہم اس ٹویٹ سے شروع ہونے والی کہانی کا خاتمہ بالآخر نواز شریف کی سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہلی پر ہوا۔
روزنامہ جنگ کے لئے اپنی تازہ تحریر میں عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ’ڈان لیکس‘ برسوں سے جاری جنگ کا ایک نیا محاذ تھا۔ نوازشریف سے نجات اور عمران خان کی تخت نشینی کے بنیادی اہداف اب ادارہ جاتی ترجیح بن چکے تھے۔ آئی۔ایس۔آئی کے سربراہان احمد شجاع پاشا ، ظہیرالاسلام، رضوان اختر لمبی دوڑ کے کھلاڑیوں کی طرح میدان سے باہر جاتے وقت اِن اہداف کی جھنڈی اپنے جانشین کو تھماتے رہے۔ راحیل شریف کو توسیع نہ ملنا اس قبیلے کے لئے اچھی خبر نہ تھی۔جنرل اشفاق ندیم امیدوں کا نیا مرکز ٹھہرے۔ بات بنتی نظرنہ آئی تو ساری کوششیں اس پہ مرکوز ہوگئیں کہ ہر قیمت پر جنرل باجوہ کا راستہ روکا جائے۔ لیکن جنرل باجوہ اِس مہم سے باخبر تھے۔ مجھ سے دوبار اس کا تذکرہ کیااور یہاں تک بتایا کہ اُن کے بچوں کو بھی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ میں نے پوچھا ۔ ’’کون کر رہا ہے یہ سب کچھ؟‘‘ اُن کا سیدھا سادہ جواب تھا۔ ’’وہی جو کسی بھی شخص کے فون نمبر تک رسائی رکھتے ہیں۔‘‘
عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ جنرل باجوہ کے آرمی چیف بن جانے کے بعد اِن عناصر کی حکمت عملی کا پہلا نکتہ یہ ٹھہرا کہ نواز باجوہ تعلقات کو بھی نواز راحیل ہی کی سطح پر رکھا جائے۔ قرار پایا کہ پانامہ کے الائو کے ساتھ ساتھ ڈان لیکس کے بھانبھڑ کو بھی ٹھنڈا نہ ہونے دیا جائے۔ لہذا سازشوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ عرفان صدیقی کے مطابق جنرل باجوہ سے میری ملاقات اِس فتنہ سرشت قبیلے کے لئے اچھی خبر نہ تھی۔ میرے اور چیف کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ ہمارا رابطہ اُن کے بیٹے سعد کے ذریعے ہوا کرے گا۔ ایک ہونہار، معاملہ فہم اور مودب نوجوان کے طور پر سعد نہایت عمدہ رابطہ کار ثابت ہوا۔ اُسی شب باجوہ کے بڑے بیٹے سعد نے اپنے والد کی طرف سے مجھے دو ٹیکسٹ بھیجے۔ایک تو ناشائستہ تھا۔ دوسرے میں لکھا گیا تھا کہ ’’جنرل باجوہ کی مسلسل نافرمانی اور رعونت کی وجہ سے وزیراعظم نوازشریف اُنہیں فارغ کر رہے ہیں تاکہ فوج کو سول حکمرانی کے تابع لایاجاسکے۔‘‘ یہ ٹیکسٹ جنرل باجوہ کو اس حاشیے کے ساتھ پہنچائے گئے کہ مذکورہ شخص مریم نواز کی ٹیم کا رُکن ہے۔ میں نے مریم سے بات کی تو اس کا تفصیلی ٹیکسٹ آیا۔ ’’انکل ! جو کچھ سوشل میڈیا پہ ہورہا ہے اُسے ہرگز میری حمایت حاصل نہیں۔ انکا اصرار تھا کہ ایسے ٹیکسٹ مجھ سے منسوب نہ کئے جائیں جس طرح میں آئی۔ایس۔پی۔آر کے ڈھیروں اکائونٹس سے اپنے خلاف ہونے والی زہریلی مہم کو آرمی چیف یا ڈی۔جی۔آئی سے منسوب نہیں کرتی۔‘‘
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ میں نے قدرے تفصیلی خط لکھ کر سعد باجوہ کو آگاہ کیا کہ ’’کچھ لوگ وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کے لئے ایک مہم چلا رہے ہیں۔انہیں سنجیدگی سے لینے کے بجائے نظرانداز کردینا چاہئے۔‘‘ شام کو سعد کا پیغام آیا __ ’’انکل! آپ کا بہت شکریہ۔ میں نے آپ کا خط ابو کو پڑھ کر سنایا ہے۔وہ آپ سے سو فی صد متفق ہیں۔جو کچھ ہوا ابو کو خود اُس کا بہت رنج ہے۔ اُن کا خیال ہے کہ اتنی بڑی غلط فہمی اور بدگمانی کے باوجود تعلقاتِ کار کو ٹھیک کیاجاسکتا ہے۔‘‘
عرفان صدیقی کے مطابق 2 مئی2017 کو وزیر اعظم سے میری تفصیلی ملاقات ہوئی۔ وہ خاصے برہم تھے۔ کہنے لگے۔ ’’مجھے اتنا دُکھ اُس دِن بھی نہیں ہوا تھا جس دِن مجھے ہتھکڑیاں لگا کر کسی کال کوٹھڑی میں ڈالا گیا تھا۔ اگر وزیراعظم کے اعلامیے کو اِس توہین کے ساتھ ردّ کردیا جائے تو کیا یہ کھُلی نافرمانی نہیں؟ آپ ہی بتائیں وزیراعظم کو کیا کرنا چاہئے۔کیا مجھے چپ چاپ عہدے سے چمٹے رہنا چاہئے؟ مجھ سے بڑھ کر کون چاہے گا کہ سول ملٹری تعلقات اچھے ہوں۔ ملک ترقی کرے۔ عوام خوشحال ہوں۔ انکا سوال تھا کہ آخر اس نوٹیفیکیشن میں تھا کیا کہ یہ آپے سے باہر ہو گئے؟میں نے سب کچھ تو مان لیا تھا۔ پرویز رشید جیسے مخلص ساتھی کو فارغ کر دیا۔ اس کے باوجود ریجیکٹڈ کے کیا معنی ہیں؟‘‘ عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ ماحول کی آتش ناکی کے باوجود میں آرمی چیف سے ملاقات پر اصرار کرتا رہا۔ وزیر اعظم کو میری شبنم افشانی گراں گزر رہی تھی۔اُنہی دنوں ’’پرائیویٹ‘‘ نمبر سے فون آیا۔ کوئی کرنل صاحب بول رہے تھے۔ کہنے لگے۔ ’’ڈی۔جی۔سی جنرل فیض حمید آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔‘‘ میں نقاب پوش بارگاہوں کی جادو نگری سے بہت ڈرتا ہوں۔ آنکھ کے آپریشن کا بہانہ کرکے آگے پیچھے ہو گیا۔ لیکن دوبارہ فون آیا کہ ’’آپ کے گھر کے قریب ملنے کا انتظام کر لیتے ہیں۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’کچھ دِن ٹھہر جائیں۔‘‘ کچھ دِن نہیں، پورے دو سال تک وہ ٹھہرے رہے۔ جون 2019 میں جنرل فیض حمید نے آئی۔ایس۔آئی کی کمان سنبھالی۔ اگلے ماہ، نصف شب مجھے گھر سے اٹھایا گیا اور ہتھکڑی پہنا کر اڈیالہ جیل کی قصوری چکی میں ڈال دیاگیا۔
عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ 4 مئی 2017ء کو آرمی چیف کی وزیر اعظم سے ملاقات ہوئی۔ ایک ’’فیس سیونگ‘‘ فارمولا طے پا گیا۔ یہ طے پایا کہ ڈان لیکس کے حوالے سے ابہام دور کرنے کیلئے حکومت نیا نوٹی فیکیشن جاری کرے گی۔ اُس کیساتھ ہی آئی۔ایس۔پی۔آر اظہار افسوس کرتے ہوئے ریجیکٹڈ والا ٹویٹ واپس لے لے گا۔ عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ رات دس بجے کے لگ بھگ سعد باجوہ کے توسط سے مجھے جنرل باجوہ کا ٹیکسٹ ملا جس میں لکھا تھا کہ سر! وزیر اعظم سے میری ملاقات ہوگئی ہے۔ بات چیت بہت اچھی رہی ہے۔ سارے معاملات طے پاگئے ہیں۔ آپ کے رول کا بہت شکریہ۔ عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ 5 مئی کو نواز شریف اور جنرل باجوہ کے مابین طے پانے والے مصالحتی فارمولے پر عمل ہوجانا تھا۔ تاہم ایسا نہ ہوا اور یہ سلسلہ طویل ہوتا ہوا میاں صاحب کی سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہلی پر ختم ہوا۔
