قاضی فائز عیسیٰ کے پارلیمنٹ میں خطاب پر تنازعہ

سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسی ٰنے قومی اسمبلی بلڈنگ میں منعقدہ آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی تقریب میں شرکت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری منفی پراپیگنڈے کی مذمت کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ شہریوں کا بہترین مفاد اس میں ہے کہ تقسیم کے بیج نہ بوئے جائیں‘سیاسی تقریریں نہ ہونے کی یقین دہانی پر ہی انھوں نے کنونشن میں شرکت کی دعوت قبول کی تھی تاہم سیاسی تقاریر کے بعد قیاس آرائیوں سے بچنے کیلئے ہی انھوں نے کنونشن میں خطاب کیا تھا۔ذرائع کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی چیف جسٹس سے اہم ملاقات ہوئی ہے اور چیف جسٹس سے مشاورت کے بعدہی جسٹس قاضی فائز عیسی نے تقریب میں شرکت سے متعلق وضاحتی بیان بھی جاری کیاہے۔ سپریم کورٹ کی ترجمان حنا فردوس کی جانب سے بھجوائے گئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ میں نے تقریب میں خطاب سے معذرت کر لی تھی لیکن جب بعض تقریروں میں سیاسی بیانات دیے گئے تو پھر میں نے کسی ممکنہ غلط فہمی کا ازالہ کرنے کے لیے بات کی۔

خیال رہے کہ دستورِ پاکستان کے 50 سال مکمل ہونے پر قومی اسمبلی ہال میں گزشتہ روز تقریب منعقد ہوئی تھی جس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی شرکت کر کے اظہار خیال کیا تھا تاہم اس تقریر پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے پی آر او کی جانب سے جاری وضاحتی بیان میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی گولڈن جوبلی منانے کے لیے دعوت دی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ دعوت قبول کرنے سے قبل معلومات حاصل کی گئی تھیں کہ کیا سیاسی تقریریں کی جائیں گی اور یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں کہ صرف آئین اور اس کے بنانے کے متعلق بات کی جائے گی جبکہ مجھے بھیجے گئے پروگرام میں اس کی تصدیق بھی کی گئی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ اس نکتے کی وضاحت میرے عملے نے قومی اسمبلی کے ڈپٹی ڈائریکٹر سے کروائی اور پھر خود میں نے اسپیکر سے براہ راست بات کی اور اس کے بعد ہی دعوت قبول کی کیونکہ میں آئین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا چاہتا تھا۔

سپریم کورٹ کے سینئر جج نے کہا کہ مجھ سے پوچھا گیا تھا کہ کیا آپ تقریر کریں گے اور میں نے معذرت کر لی تھی لیکن جب بعض تقریروں میں سیاسی بیانات دیے گئے تو پھر میں نے بات کرنے کے لیے درخواست کی تاکہ کسی ممکنہ غلط فہمی کا ازالہ ہو سکے اور پھر بات کی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ امر باعث حیرت ہے کہ بعض لوگوں کو اس بات پر اعتراض ہے میں کہاں بیٹھا تھا یا میں نے آئین کی یاد منانے کے لیے تقریب میں شرکت کیوں کی تھی، میں ہال کے ایک کونے میں یا گیلری میں بیٹھنے کو ترجیح دیتا لیکن عدلیہ کے ایک فرد کی عزت افزائی کے لیے مجھے درمیان میں بٹھایا گیا، میں نے بیٹھنے کے لیے خود وہ جگہ نہیں چنی تھی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین کو سیاسی تنوع کے تمام اطراف سے لوگوں کے براہ راست چنے گئے نمائندوں کے ذریعے بنایا گیا جو ان کی دانشمندی کی گواہی دیتا ہے، اس نے کامیابی کے لیے بانی کے نصب العین، اتحاد، یقین اور نظم کی توثیق کی اور ثابت کیا کہ اگر لوگوں کے مفاد کو مقدم رکھا جائے تو سب سے زیادہ گنجلک مسائل بھی اخلاص اور جذبے کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کے منتخب نمائندے مکمل احترام کے مستحق ہیں اور آل انڈیا مسلم لیگ کے سیاستدانوں کے بغیر ہم آزادی حاصل نہیں کر پاتے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھا کہ کنونشن کے منتظمین نے پاکستان کی تاریخ کا ایک خصوصی اہمیت کا دن منانے کے لیے سب کو دعوت دی تھی اور آئین کی گولڈن جوبلی سب کے لیے باعث مسرت ہے، یہ کسی مخصوص ادارے یا جماعت کا تنہا استحقاق نہیں، آئین کی اہمیت سب پر واضح کی جانی چاہیے اور ایسا مسلسل کرنا چاہیے۔سپریم کورٹ کے جج کا کہنا تھا کہ جب پاکستان کے پاس لوگوں کے براہ راست چنے گئے نمائندوں کا بنایا گیا آئین نہیں تھا تو ملک تقسیم ہو گیا تھا، اس مسلسل جاری غلطی کی اصلاح 50سال قبل کی گئی اور لوگوں کے بنیادی حقوق تسلیم کر کے آئین میں درج کیے گئے، اس لیے تمام پاکستانیوں کی نجات آئین کی پابندی میں ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شہریوں کا بہترین مفاد اسی میں ہے کہ تقسیم کے بیج نہ بوئے جائیں اور آئین کا منایا جانا ہمارے تاریخ کے اہم ترین لمحات میں سے ہے جسے منانا ضروری ہے۔

واضح رہے کی قومی اسمبلی ہال میں منعقدہ کنونشن میں گفتگو کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاتھا کہ میں یہاں کوئی سیاسی تقریر کرنے حاضر نہیں ہوا بلکہ میں اپنے اور اپنے ادارے کی طرف سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہم آئین کے ساتھ کھڑے ہیں، اللہ کے سائے کے بعد اس کتاب کا سایہ ہمارے سر پر ہے، ہمیں آئین پاکستان کی اہمیت کو پہچاننا چاہیے اور اس پر عمل کرنا چاہیے۔

ایوان کے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئےجسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ یہاں آج بہت سی سیاسی باتیں بھی ہوگئیں جبکہ میں نے آنے سے پہلے پوچھا تھا کہ یہاں کوئی سیاسی باتیں تو نہیں ہوں گی، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں آج یہاں ہونے والی تمام باتوں سے اتفاق کرتا ہوں، آج آئین کے گولڈن جوبلی تھی، میں صرف اس کے جشن میں شرکت کے لیے آیا ہوں۔انہوں نے کہا تھا کہ میں اپنے ادارے کی جانب سے کہنا چاہوں گا کہ ہم بھی آئین کے محافظ ہیں، آپ سب نے اور میں نے بھی یہ حلف لیا ہے کہ ہم ہر قیمت پر آئین کا تحفظ اور دفاع کریں گے، اگر میں ایسا نہ کر سکوں تو آپ مجھ پر ہر قسم کی تنقید کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا تھا کہ میں دوبارہ وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ یہاں آج جو سیاسی باتیں کی گئٰیں ان سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے، ہوسکتا ہے کل کو آپ میں سے کوئی یہ کہے کہ ہم نے آپ کو بلایا اور آپ نے ہمارے خلاف فیصلہ دے دیا۔

 

بھارتی ملٹری سٹیشن میں فائرنگ سے 4 فوجی ہلاک

Back to top button