آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل مخالفت کا شکار کیوں؟

قومی اسمبلی سے منظورکردہ آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل آج کل سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ مختلف تجزیہ کاروں کی جانب سے اس قانون کی منظوری کے بعد آنے والی تبدیلیوں بارے گفتگو ہو رہی ہے۔ تاہم قومی اسمبلی کے منظور کردہ آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل 2023 کو جب بدھ کے روز سینیٹ میں پیش کیا گیا تو نہ صرف اپوزیشن نے اس کی سخگ مخالفت کی بلکہ حکومتی اتحادی بھی اس کیخلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ ایوان میں احتجاج کے بعد چیئرمین سینیٹ نے یہ بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا ہے۔خیال رہے کہ سیکریٹ ایکٹ 1923 میں کی گئی ترامیم کے مطابق حکومت کو حالت جنگ کے علاوہ حالت امن میں بھی کسی بھی جگہ، علاقے، بری یا بحری راستے کو ممنوع قرار دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔بل کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور خفیہ اداروں کو بغیر وارنٹ کے چھاپہ مارنے اور دستاویزات قبضے میں لینے کا اختیار ہوگا۔

سینیٹ اجلاس کے دوران وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے جیسے ہی اپنی نشست سے اٹھ کر بل کے مندرجات پڑھنے شروع کیے، ایوان میں شدید نعرے بازی شروع ہو گئی اور وزیر قانون کی آواز ’نو، نو‘ کے نعروں کے بیچ میں ہی دب گئی۔ایوان میں شدید احتجاج کے دوران چیئرمین سینیٹ نے یہ بل قائمہ کمیٹی میں بھیجنے کا اعلان کر دیا۔اس سے قبل منگل کے روز قومی اسمبلی میں یہ بل پارلیمانی امور کے وزیر مرتضی جاوید عباسی نے پیش کیا اور اس حوالے سے بتایا گیا کہ آفیشل سیکرٹس ایکٹ 1923 میں ترمیم ناگزیر ہے اور سرکاری دستاویزات کے تحفظ اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے بدلتے ہوئے سماجی منظر نامے کے تناظر میں یہ اس عمل کو مزید موثر بناتا ہے۔ تسہم بل متعارف کرائے جانے سے لے کر اس کی منظوری تک، قومی اسمبلی میں کوئی بحث نہیں ہوئی بلکہ خاموشی چھائی رہی۔خیال رہے کہ یہ قانون برطانوی راج کے دوران سنہ 1923 میں بنایا گیا تھا جس کا مقصد فوج سے متعلق خفیہ معلومات فراہم کرنے پر کارروائی کرنا تھا۔

تاہم سوال پیدا ہوتا ہے آفیشل سیکرٹس ایکٹ ترمیمی بل میں کیا ہے، جس کی وجہ سے اس کی مخالفت کی جا رہی ہے؟اس بل کو تاحال قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر شائع نہیں کیا گیا تاہم بی بی سی کی جانب سے حاصل کی گئی اس کی ایک کاپی میں درج مندرجات کے مطابق اس میں حساس اداروں، مخبروں اور ذرائع کی شناخت ظاہر کرنے پر تین سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔بل کے سیکشن سکس اے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے امن و امان، تحفظ، مفاد اور دفاع کے خلاف انٹیلیجنس اداروں کے اہلکاروں، مخبروں یا ذرائع کی شناخت ظاہر کرنا جرم تصور ہو گا۔بل کے سیکشن ایٹ اے میں ’دشمن‘ کی تعریف کچھ یوں بیان کی گئی ہے کہ ’یہ کوئی بھی وہ شخص ہے جو بلواسطہ یا بلا واسطہ، جانے یا انجانے میں بیرونی قوت، ایجنٹ، نان سٹیٹ ایکٹر، ادارے، ایسوسی ایشن یا گروپ کے ساتھ کام کرتا ہے جس کا مقصد پاکستان کے مفاد اور تحفظ کو نقصان پہنچانا ہے۔‘سیکشن نو کے مطابق جرم میں اکسانے، سازش کرنے یا معاونت کرنے والوں کو جرم میں شریک سمجھ کر وہی سزا دی جائے گی۔

تاہم آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل میں مبصرین کی جانب سے سب سے زیادہ متنازع قرار دی گئی سرچ وارنٹ سے متعلق شق میں کہا گیا ہے کہ انٹیلیجنس ادارے کسی جرم یا جرم کے شبے میں ’ضرورت پڑنے پر بغیر وارنٹ طاقت کے زور پر کسی بھی وقت کسی شخص یا جگہ کی تلاشی لے سکتے ہیں۔‘اس میں مزید کہا گیا ہے کہ انٹیلیجنس ادارے یعنی آئی بی اور آئی ایس آئی شک کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے دستاویزات، نقشے، ماڈل، آرٹیکل، نوٹ، ہتھیار یا الیکٹرانک آلات ضبط کرنے اور ملزم کو گرفتار کرنے کے مجاز ہوں گے۔قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے گریڈ 17 یا اوپر کے افسر کو ڈی جی ایف آئی اے کی جانب سے نامزد کیا جائے گا۔

اس کے مطابق ڈی جے ایف آئی اے کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر ایف آئی اے اور حساس اداروں کے افسروں پر مشتمل جے آئی ٹی بنا سکتے ہیں مگر ایف آئی اے کو 30 روز میں تحقیقات مکمل کرنا ہوں گی۔بل کے مطابق ایسی ’الیکٹرانک ڈیوائسز، ڈیٹا، معلومات، دستاویزات یا دیگر مواد‘ جو تحقیقات کے دوران حاصل کیے گئے اور ان سے جرم کے ارتکاب میں سہولت کاری کی گئی، انھیں بطور شواہد پیش کیا جاسکے گا۔آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل میں درج ہے کہ ممنوع علاقوں کی جانب پیشرفت، داخلہ یا حملے کی منصوبہ بندی کرنا جرم تصور ہوگا، اور ’ان مینڈ وہیکل‘ یا ڈرون کی مدد سے ممنوع علاقوں کا جائزہ لینے پر پابندی ہوگی۔اس کے تحت افواج کی صلاحیت سے جڑی کسی سرگرمی، دستاویزات، ایجاد یا ہتھیار وغیرہ تک غیر مجاز رسائی غیر قانونی ہوگی۔اس ایکٹ میں ترمیم کے طور پر ان علاقوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو عارضی طور پر جنگی آزمائش، تربیت، ریسرچ، دستوں کی نقل و حرکت یا ان کیمرا اجلاس کے لیے مسلح افواج کے زیرِ کنٹرول ہیں۔

پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکن اور وکلا آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ماورائے آئین قرار دے رہے ہیں۔پاک فوج کی لیگل یعنی جیگ برانچ سے منسلک رہنے والے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا کہنا ہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔’آئین میں واضح طور پر لکھا ہے کہ اگر کسی کو گرفتار کرنا ہے، یا کسی گھر کی تلاشی لینی ہے، اس کے لیے سرچ وارنٹ ہونا ضروری ہے۔‘چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق قانون سازی پر حکم امتناع کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے پر بھی ایکشن لیا جانا چاہیے۔

جبکہ سماجی کارکن ایمان مزاری نے کہا کہ آفیشل سیکرٹس ایکٹ میں ترامیم کا مقصد انٹیلیجنس اداروں کو مزید اختیارات دینا ہے۔ ان ترامیم کے تحت آئی ایس آئی اور آئی بی کو وسیع پیمانے پر اختیارات دیے گئے ہیں کہ وہ ’کسی کو بھی اپنے شک کی بنیاد پر روک لیں، تلاشی لے لیں‘ جس کا مقصد ’اختلاف رائے کو دبانا‘ ہے۔وہ کہتی ہیں کہ ’خوفناک بات یہ ہے کہ اگر آپ کسی بھی انٹیلیجنس افسر کی شناخت ظاہر کریں، اس بات سے قطع نظر کہ وہ آپ کا تعاقب کر رہے ہیں جیسے بلوچ طلبہ کے کیس میں ہوتا ہے، تو اسے غیر قانونی سمجھا جائے گا۔‘ان کی رائے میں یہ ترامیم محض سیاستدانوں کو ہی نہیں بلکہ صحافیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متاثرین کے لیے بھی خطرناک ہوسکتی ہیں۔

لاپتہ افراد کے کیسز کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شناخت ظاہر کرنے سے جڑی کڑی سزاؤں سے باعث جبری طور پر گمشدہ کیے جانے والے افراد کے ٹھکانوں سے متعلق آف دی ریکارڈ معلومات حاصل کرنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ خفیہ اداروں کی کارروائیوں بشمول جبری گمشدگیوں اور گھروں پر چھاپوں کو ’لیگل کوور‘ دینے کے مترادف ہے۔پاکستان میں جمہوریت اور پارلیمانی اُمور پر نظر رکھنے والے ادارے ‘پلڈاٹ’ کے سربراہ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ اس بل کے ذریعے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ "ہمارے ہاں اس قسم کی پاورز ملنے کے بعد ان کے غلط استعمال کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ پہلے جب یہ ترامیم نہیں ہوئی تھیں تو اس وقت ہی ان پاورز کا غلط استعمال ہو رہا تھا اور اب تو ان ترامیم کے ساتھ طاقت کے غلط استعمال کا امکان ہے۔”احمد بلال محبوب کے بقول ان ترامیم کے ذریعے بتایا جا رہا ہے کہ آئندہ آنے والے وقت میں لوگوں کو کس طرح کنٹرول کیا جائے گا۔

احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ اس ایکٹ میں بعض ترامیم ایسی ہیں جن کے ذریعے لگ رہا ہے کہ پہلے ہی جو برا وقت ہے اس میں مزید اضافہ ہونے جا رہا ہے۔ غیر ملکیوں کے ساتھ روابط پر فارن ایجنٹ ہونے کا الزام اور اس میں سزائیں بہت عجیب سی بات ہے.ان کا کہنا تھا کہ ابھی پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن اور ای پرائیویسی ایکٹ بھی لائے جا رہے ہیں جس کے ذریعے سوشل میڈیا کو بھی کنٹرول کر لیا جائے گا۔احمد بلال نے کہا کہ ماضی میں بھی ایسی قانون سازی کی گئی جس کے ذریعے اس وقت کے مخالفین کو دبانے کی کوشش کی گئی لیکن بعد میں انہی قوانین کے زد میں وہ خود آئے۔

سابق سیکریٹری داخلہ تسنیم نورانی کہتے ہیں کہ موجودہ سیاسی حالات اس قانون سازی کا باعث ہیں۔ اس وقت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت کو جو کمی محسوس ہو رہی ہے انہیں پورا کرنے کے لیے قانون سازی ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت میں موجود افراد اس قانون سازی کو مسائل کا حل سمجھ رہے ہیں اور بعض افراد اس قانون سازی کو اپنے لیے مسائل سمجھ رہے ہیں۔تسنیم نورانی نے کہا کہ حکومت کے پاس پہلے ہی بہت سے قوانین موجود ہیں، ایسے میں نئے قوانین لانا خرابی کا باعث بنتا ہے۔تسنیم نورانی کہتے ہیں کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس قانون سازی کے ذریعے سوشل میڈیا کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ لہذٰا دیکھنا یہ ہو گا کہ اس بل سے مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں یا نہیں۔

جسٹس مظاہر علی نقوی کا چیف جسٹس کو خط

Back to top button