حکومتی اتحادی ناراض، کیا شہباز حکومت گرنے والی ہے؟

کراچی سمیت ملک بھر میں جاری ڈیجیٹل مردم شماری پر حکومتی اتحادی جماعتوں کے مابین اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں جہاں ایک طرف وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے تحفظات دور نہ ہونے پر حکومت سے علیحدگی کی دھمکی دے دی ہے وہیں دوسری طرف ایم کیو ایم نے مردم شماری بارے مطالبات نہ ماننے پر وزارتیں چھوڑنے کا عندیہ دے دیا ہے۔مبصرین کے مطابق مسلم لیگ نون بہت مشکل صورتحال سے دوچار ہےکیونکہ اگر وہ پیپلزپارٹی کے مطالبات کو مانتی ہے تو ایم کیو ایم ناراض ہو جائے گی اور اگر ایم کیو ایم کے مطالبات کو مانتے ہوئے ڈیجیٹل مردم شماری اسی انداز میں جاری رکھتی ہے تو پھر پیپلز پارٹی ناراض ہو سکتی ہے۔ تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے ڈیجیٹل مردم شماری بارے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ سندھ میں ڈیجیٹل مردم شماری، جس انداز میں کرائی جا رہی ہے، انہیں اور ان کی پارٹی کو اس پر تحفظات ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے یہ بھی کہا تھا کہ اگر وہ سیلاب زدگان کے حوالے سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کرتی تو ان کی پارٹی کے لئے وزارتوں میں رہنا مشکل ہو جائے گا۔پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے اس بات کا اشارہ دینا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم نہیں کئے تو وفاقی وزارتوں سے استعفیٰ دے سکتے ہیں، ملک کے کئی حلقوں میں موضوع بحث بن گیا ہے۔کئی ناقدین کا خیال ہے کہ موجودہ حکومت انتہائی معمولی اکثریت سے ملک پر حکمرانی کر رہی ہے اور اگر اس نے پیپلزپارٹی کے مطالبات پورے نہیں کیے، تو وہ اقتدار میں رہ نہیں سکے گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کا حصہ ہے لیکن اس کے باوجود اسے حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف ہے اور اس پر تحفظات بھی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک رہنما اور سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ صابر علی بلوچ نے بتایا، ”پارٹی چیئرمین نے اپنے تحفظات سے وفاقی حکومت کو آگاہ کر دیا ہے اور اب یہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان تحفظات پر غور کرے اور اس کا کوئی حل نکالے۔‘‘

جہاں کچھ حلقے بلاول کے اس بیان کو بہت زیادہ توجہ دے رہے ہیں، وہی کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ پیپلزپارٹی میں اصل طاقت آصف علی زرداری کے پاس ہے اور آصف علی زرداری جب تک حکومت کے ساتھ ہیں اسے کوئی نہیں ہلا سکتا۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے سیاسی مبصر حبیب اکرم کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی حکومت کو نہیں چھوڑے گی۔انہوں نے بتایا، ”بلاول بھٹو زرداری اپنے طور پر کچھ بھی کہتے رہیں لیکن پیپلزپارٹی میں آصف علی زرداری کے پاس طاقت ہے اور وہ اپنے حالیہ انٹرویوز میں اس بات کو واضح کر چکے ہیں کہ وہ حکومت کو نہیں چھوڑیں گے۔ تو میرے خیال میں بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان کی کوئی زیادہ سیاسی حیثیت نہیں ہے۔‘‘

سندھ میں ڈیجیٹل مردم شماری کے خلاف مزاحمت جاری ہے۔ جیسے ہی یہ عمل شروع ہوا سندھ کے مختلف علاقوں میں اس کے خلاف جلسے، جلوس اور احتجاج ہونے لگے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ڈیجیٹل مردم شماری کے حوالے سے سندھ میں بہت غصہ ہے اور پیپلزپارٹی پر دباؤ ہے کہ وہ اس مسئلہ کے حوالے سے سندھ کے مفادات کا تحفظ کرے۔

تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ”اس پر پہلا نکتہ یہ ہے کہ عموما مردم شماری دس سال میں ہوتی ہے اور یہ پانچ سال میں شروع ہو گئی ہے۔ دوسرا اس پر اعتراض یہ ہے کہ سندھ میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے، جنہیں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے حوالے سے خاطر خواہ معلومات نہیں ہیں اور نہ ہی یہاں شرح خواندگی اتنی بلند ہے کہ عام آدمی آسانی سے ڈیجیٹل فارم بھر سکے۔‘‘ ان عوامل کی وجہ سے سندھ میں کئی حلقوں کو یہ خدشہ ہے کہ سندھیوں کی آبادی کو بہت کم کر کے دکھایا جائے گا،”جب عوام کی اکثریت ڈیجیٹل مردم شماری میں حصہ نہیں لے پائے گی اور ایسے لوگ بھی اس مردم شماری میں حصہ لیں گے، جو یہاں پر آباد کار کے طور پر رہ رہے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سندھیوں کی آبادی کم دکھائی جائے گی اور شہری علاقوں کے لوگوں کی آبادی کو زیادہ دکھایا جائے گا۔‘‘

تجزیہ کاروں کے مطابق نون لیگ اس صورتحال میں مشکل سے دوچار ہے، ”اگر وہ پیپلزپارٹی کے مطالبے کو مانتے ہوئے ڈیجیٹل مردم شماری کو روکتے ہیں یا اس میں وہ تبدیلیاں کرتے ہیں، جس کا مطالبہ پیپلز پارٹی کر رہی ہیں، تو متحدہ ناراض ہو جائے گی اور یہ حکومت گر جائے گی۔ لیکن اگر شہباز شریف کی حکومت متحدہ کے مطالبات مانتی ہے، تو پھر ان کی بڑی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی ناراض ہو سکتی ہے۔ تو نواز لیگ ہر طرف سے مشکل میں ہے۔

امریکہ چین کشیدگی میں پاکستان کیوں پسنے لگا؟

Back to top button