امریکہ چین کشیدگی میں پاکستان کیوں پسنے لگا؟

چین اور امریکہ کے مابین جاری کشیدگی کی وجہ سے پاکستان پس کا رہ گیا ہے۔چین کے قریبی اتحادی ہونے کی وجہ سے پاکستان کو امریکہ کے زیر تسلط عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے قرض پروگرام کی بحالی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پاکستان میں جہاں ایک طرف معاشی بحران ہے وہیں ملک میں مہنگائی بھی عروج پر ہے۔ ملک کے زرِمبادلہ کے ذخائر انتہائی کم ہونے کے باعث غیرملکی قرضوں کی ادائیگیوں اور جاری کھاتوں میں درپیش خساروں کو پورا کرنے کے لیے بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔اسی اثنا میں پاکستان عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے سخت شرائط پر قرض پروگرام کی ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر کی نئی قسط کے حصول کی کوشش کر رہا ہے لیکن ایک ماہ کی کاوشوں اور وزیرِخزانہ اسحاق ڈار کے دعوؤں کے باوجود آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان قرض کے حصول کے لیے اسٹاف لیول ایگریمنٹ نہیں ہو سکا ہے۔

تجزیہ کار ستمبر سے آئی ایم ایف پروگرام میں ہونے والے تعطل کا ذمے دار حکومتِ پاکستان اور فنڈ کی جانب سے سخت شرائط کو سمجھتے ہیں۔بعض سیاسی اور معاشی ماہرین کا خیال ہے اس کی ایک وجہ چین اور امریکہ کے درمیان حالیہ عرصے میں بڑھتے ہوئے اختلافات ہیں جن میں تجارتی جنگ اور روس کی یوکرین میں جنگ کے بعد مزید شدت آئی ہے۔

معاشی تجزیہ کار اور پروفیسر ڈاکٹر اقدس افضل کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف میں زیادہ اثر مغربی ممالک کا ہے جب کہ دوسری جانب چین نے بہت سے ترقی پذیر ممالک بشمول پاکستان کو اربوں ڈالرز کے قرضے دیے ہیں۔پاکستان کا تقریباً 17 سے 20 فی صد بیرونی قرض چین سے حاصل شدہ ہے جو کہ ایک بہت بڑی رقم ہے۔ڈاکٹر اقدس افضل کا کہنا تھا کہ” انہیں لگتا ہے کہ مغربی ممالک میں اس بات کی تشویش پائی جاتی ہے کہ ایک جانب فنڈ تو پاکستان اور مصر جیسے ترقی پذیر ممالک کو قرض فراہم کر رہا ہے۔ لیکن ایک اور بڑی معاشی قوت یعنی چین ایسی کوئی کوشش نہیں کر رہا جس سے ایسے ممالک کو قرضوں میں کوئی بڑا ریلیف مل سکے۔”

البتہ حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب پاکستان کے غیرملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر انتہائی کم سطح پر ہیں۔چین کے انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک کی جانب سے پاکستان کو ایک اعشاریہ تین ارب ڈالر کی سہولت رول اوور کردی گئی ہے جس سے ملک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کسی حد تک اضافہ ہوگا۔

لیکن ڈاکٹر اقدس اس سے اتفاق کرتے نظر نہیں آتے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کوئی نئی امداد نہیں اور نہ ہی اضافی ہے بلکہ یہ پہلے دیے گئے قرض کو رول اوور کیا گیا ہے اور اس مشکل وقت میں پاکستان کے لیے یہ مدد انتہائی ناکافی دکھائی دیتی ہے۔

دوسری جانب انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کی سابق ایسوسی ایٹ ڈین ڈاکٹرہما بقائی کہتی ہیں کہ مغربی طاقتوں کی جانب سے یہ بات واضح طور پر پاکستان کو بتائی گئی ہے کہ ہم سے قرضے لے کر چین کا قرض نہ اتارا جائے۔اُن کا کہنا تھا کہ چین کے قرضوں کے ‘جال’ سے متعلق شکوک و شبہات بھی موجود ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو چین کےمعاہدوں پر مغربی ممالک کی جانب سے ماضی میں بھی واضح تنبیہ کی جاتی رہی ہے اور یوں یہاں بنیادی اختلاف موجود ہے۔

اس سوال پر کہ چین پاکستان کی کھل کر معاشی مدد کرنے سے کیوں کترا رہا ہے؟ ڈاکٹر ہما بقائی کہتی ہیں کہ ایسا کہنا کہ چین اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں کوئی مسائل اور رکاوٹیں نہیں ہیں، یہ بالکل درست نہیں۔خاص طور پر پاکستان میں مقیم چینی شہریوں کی سیکیورٹی، پاور پلانٹس کو چلانے اور طے شدہ منافع کی ادائیگی میں تاخیر سمیت بہت سے شعبوں میں مسائل موجود ہیں۔لیکن عوامی سطح پر اس پر بات چیت سے گریز کیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مسائل بڑے سنجیدہ نوعیت کے ہیں جس میں غیرملکی زرِمبادلہ کے انتہائی کم ذخائر، کمزور معاشی اور مالیاتی گورننس سب سے اہم ہیں۔ایسے فیصلوں میں تاخٰیر سے صورتِ حال اور بھی گھمبیر اور بے قابو ہو رہی ہے۔

اتحادی حکومت میں شامل پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سینیٹر مشاہد حسین کہتے ہیں کہ وہ نہیں سمجھتے کہ چین اور امریکہ کی جاری کشیدگی میں پاکستان پس رہا ہے۔ ان کا مزیدکہنا تھا کہ وہ اس مفروضے کو غلط سمجھتے ہیں۔ پاکستان چین کے ساتھ امریکہ کی کشیدگی میں پیادہ نہیں ہے کیوں کہ پاکستان کی چین کے ساتھ ہمیشہ باہمی مفادات اور باہمی فائدے پر مبنی مضبوط دوطرفہ اسٹریٹجک شراکت داری رہی ہے اور پاک چین تعلقات کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہیں۔

ان کے بقول چین پاکستان کی مدد کرنے والا پہلا ملک ہے اور اب بھی گزشتہ ہفتے چین کی جانب سے تقریباً دو ارب ڈالر کے قرض کا رول اوور ایک بروقت بیل آؤٹ ہے۔ان کا کہنا تھا پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدے میں تاخیر کا بہتر جواب حکومت ہی دینے کی پوزیشن میں ہے کہ آیا اس کی وجوہات سیاسی ہیں یا کچھ اور۔

“عائزہ خان اور حمزہ علی عباسی 10 سال بعدپھر ایک ساتھ

Back to top button