سہیل وڑائچ کی عمران کو رہا کر کے نظر بندی میں مزاکرات کی تجویز

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے تجویز دی ہے کہ موجودہ سیاسی بحران ختم کرنے اور سسٹم کو تلپٹ ہونے سے بچانے کے لیے عمران خان کو رہا کر دیا جائے اور بنی گالا میں نظر بند کردیا جائے۔ اسکے بعد قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے منتخب نمائندوں کے ساتھ بیٹھ کر سیاسی رولز آف دی گیم طے کئے جائیں، انکی تجویز ہے کہ موجودہ سیاسی بحران سے نمٹنے کے لیے فوج اس پرامن حل کی پس پردہ رہ کر سرپرستی کرے۔
پی ٹی آئی کو مخصوص سیٹیں ملنے کا امکان معدوم کیوں ہو گیا؟
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ نہ تو فوج چار مارشل لا لگانے اور مسلسل سیاسی مداخلت کے باوجود پاکستان کے لیے کوئی راستہ نکالنے میں کامیاب ہو پائی یے اور نہ ہی عدلیہ پاکستان میں آئین کی حکمرانی قائم کر پائی ہے۔ اب جب ہم اپنے گناہوں کا اتنا ذخیرہ کر چکے ہیں تو اک گناہ اور سہی، آئیں پاپولر خان کو راستہ دیں اور اسے زندان سے نکال کر ایک بار ہھر اقتدار میں لائیں۔ یہ گناہ بھی دوبارہ کر کے دیکھ لیں، پہلے ہمیں اپنے گناہوں سے جو فائدے اور نقصانات ہونے تھے وہ ہو کر رہے، اس لیے اب بھی’’ کٹا کٹی‘‘ نکال ہی لیں تا کہ پاکستان کے حلق میں پھنسی ہوئی ہڈی کو نگلا جا سکے۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ بادل نخواستہ ہی سہی، مجبوری میں ہی سہی، کڑوے گھونٹ جیسا ہی سہی، چھچھوندر کو کھانے جیسا ہی سہی، فوج کو ناپسند ہی سہی، اس کی ماضی کی حکومتی کارکردگی صفر ہی سہی، لیکن وہ مقبول ہے اور مقبولیت کا بخار تب تک نہیں اترے گا جب تک زمام اقتدار اسے نہیں ملے گی۔ پھر خان کامیاب ہو یا ناکام، دونوں صورتوں میں ملک کے اندر جاری مدوجزر کو سکون آجائے گا۔ موجودہ سیاسی بحران کا واحد پر من حل یہی ہے کیونکہ باقی حل خونیں، پر تشدد اور تکلیف دہ ہیں۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ہم مانیں یا نہ مانیں، ہم خود کو بری الذمہ اور دوسروں کو تباہی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ملک کو اس جگہ تک لانے میں ہر طبقے کا برابر کا ہاتھ ہے۔ موقع پرست جرنیلوں نے اقتدار کے لالچ میں مارشل لا لگائے تو منصف کا لبادہ اوڑھے لالچی ججز نے انہیں جائز قرار دیا۔ ہمارے کئی سیاستدان بھی مارشل لائوں کی کوکھ سے ہی پیدا ہوئے۔ کئی بے ضمیر صحافی بھی ایسے ہیں جو مارشل لائوں کے نفاذ اور اسمبلیوں کی غیرآئینی تحلیل پر تالیاں پیٹتے رہے۔ پڑھے لکھے بیورو کریٹ حکمرانوں کے غیرآئینی اور غیرقانونی احکامات کو بجا لاتے رہے۔ ہماری خاموش اکثریت ہمیشہ سے تن مردہ کی طرح غیرآئینی، غیرجمہوری اور غیرقانونی کاموں پر چپ سادھے رہی۔ ہاں چند سر پھرے سیاستدان بعض حوصلہ مند جج، کئی آزاد صحافی اور عوام کے بہت تھوڑے حصے نے ان جرائم پر آواز بلند کی جو آج تاریخ میں سنہرے حروف سے درج ہے مگر باقی ہم سب تضادستانی جو شریک جرم تھے ان میں سے کوئی اقرار جرم کرنے کو تیار نہیں۔ ویسے بھی انہیں ان گناہوں کی سزا کونسی اسی دنیا میں ملنی ہے؟ لیکن اگر وہ اپنے گناہوں کا اقرار کرلیں تو شائد راستہ سیدھا ہوجائے۔ ہر یہ بھی سچ یے کہ نہ تو ایسا ماضی میں ہوا ہے اور نہ اب اسکا امکان ہے۔
سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ میرے کئی عالم فاضل صحافی دوستوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اس ناہنجار لفافی نے ایک دن لکھا کہ عمران کو لانا سیاسی مجبوری ہے لیکن پھر اگلے دن یہ لکھ ڈالا کہ سنار خان اپنے 100 وار کر چکا اور اب لوہار کا ایک ہی وار کافی ہوگا۔ بقول ناقدین کے یہ تو کھلا تضاد ہے۔ لہازا میرے ان دوستوں کے لئے عرض ہے کہ خان کو لانے والا کالم میری رائے اور میرا تجزیہ تھا جبکہ 100 سنار والا کالم دوسری جانب کا فیڈ بیک تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ فوج اور مخلوط حکومت کیا سوچ رہے ہیں۔
سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ میں اج بھی اس موقف پر قائم ہوں کہ آگے بڑھنے کا راستہ پارلیمان کے ذریعے ہی نکل سکتا ہے جہاں محمود اچکزئی بھی موجود ہیں، اسد قیصر، عمر ایوب اور بیرسٹر گوہر بھی متحرک ہیں۔ دوسری طرف سے سپیکر ایاز صادق اور صلح جو نونیوں کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے، میری تجویز ہے کہ اعتماد سازی کے لیے خان کو رہا کردیا جائے اور اگر حکومت کو ڈر لگتا ہے تو بنی گالا میں نظربند کردیا جائے۔ قومی اسمبلی میں بیٹھ کر سیاسی رولز آف دی گیم طے کئے جائیں، فوج بھی اس پرامن حل کی پس پردہ رہ کر سرپرستی کرے۔ اس حوالے سے عمران خان کو سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کا راستہ کھولنا چاہئے اور مخلوط حکومت کو بھی فوج سے مشورہ کرکے خان اور انکی جماعت کے لئے آسانیاں پیدا کرنی چاہئیں۔
سہیل وڑائچ فیصلہ سازوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہتے سیاست کا مقابلہ سیاست اور دہشت گردی کا مقابلہ دہشت گردی سے کریں۔ دہشت گردی سیاست سے نہیں بلکہ قانون کی عملداری سے ختم ہوگی۔ کسی کی سیاست کو کمزور کرنا ہے تو اس سے بہتر سیاست کی جائے۔ تاریخ کا مطالعہ تو یہی بتاتا ہے کہ سیاست کو زور زبردستی سے ہینڈل نہیں کیا جاسکتا۔ یہ دنیا کا نازک ترین اور حساس ترین معاملہ ہے اسے صرف اور صرف دانش مندی اور عقل سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ اہل سیاست اور اہل اقتدار دونوں اپنے اپنے موقف میں لچک پیدا کریں تو بحران کا حل ممکن ہے۔ عمران خان تھوڑا پیچھے ہٹے ہیں مگر اتنا نہیں کہ کسی دوسرے کو Space مل سکے۔ اس لیے دوسرے بھی تھوڑا پیچھے ہٹیں۔ فی الحال بے شک رعایتیں نہ دیں لیکن ارادہ تو ظاہر کریں تاکہ کشیدگی ختم ہو۔ یہ کشیدگی سیاست سے نکل کر کاروبار اور لوگوں کی عام زندگی میں مایوسی لا رہی ہے۔ سیاست دانوں اور فوج کا فرض اولین ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے لئے امید پیدا کریں۔ کیا ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا کررہا ہے؟ جواب یقیناً نفی میں ہے۔ انکے مطابق مجھے خدشہ ہے کہ کوئی بھی گناہ گار ’’اک گناہ اور سہی‘‘ کو تسلیم نہیں کرے گا۔ مگر باعزت، پرامن جمہوری اور آئینی راستہ یہی ہے نہ مان کر بھی آپ اک گناہ اور سہی کا ارتکاب کریں گے ،اسے مان لیں تو شائد اس بار نتیجہ مختلف نکل آئے۔
