اغوا اور ریپ کیس نے شریف حکومت کی بنیادیں کیسے ہلا دیں؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری نے کہا ہے کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے نواسے رضا ڈار کے خلاف دو غیر ملکی خواتین کے اغوا، اجتماعی زیادتی اور تاوان کے لیے حراست میں رکھنے کے الزامات نے برسر اقتدار خاندان کی اخلاقیات پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں جس سے حکومت کی بنیادیں ہل گئی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اگر اس مقدمے میں انصاف کے تمام تقاضے مکمل شفافیت کے ساتھ پورے نہ کیے گئے یا ملزمان کسی بھی وجہ سے سزا سے بچ نکلے تو اس کے سیاسی اثرات دور رس ہوں گے۔ ان کے بقول عوام پہلے ہی سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر عام ملزمان کے خلاف فوری پولیس کارروائی ہو جاتی یے تو بااثر خاندانوں سے تعلق رکھنے والے ملزمان پر بھی قانون کا یکساں اطلاق ہونا چاہیے، کیونکہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں بلال غوری کہتے ہیں کہ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا بھر میں کئی طاقتور سیاسی شخصیات اپنے بچوں یا قریبی رشتہ داروں کے اقدامات کے باعث شدید سیاسی نقصان اٹھا چکی ہیں اور یہی حقیقت اس مقدمے کے تناظر میں بھی نمایاں ہو رہی ہے۔ انکے مطابق لاہور کے ڈیفنس کے علاقے میں دو غیر ملکی خواتین کی جانب سے اغوا، اجتماعی زیادتی اور تاوان کے سنگین الزامات کے بعد درج مقدمے میں رضا ڈار سمیت متعدد ملزمان کی گرفتاری نے ملک بھر میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس مقدمے نے صرف ایک فوجداری کیس کی حیثیت اختیار نہیں کی بلکہ حکمران خاندانوں کی سیاسی ساکھ، احتساب اور قانون کی بالادستی سے متعلق سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔

بلال غوری کے مطابق اس شرمناک کیس میں تازہ پیش رفت کے مطابق تفتیشی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ غیر ملکی خاتون سے زیادتی میں ملوث تین ملزمان کے ڈی این اے نمونے میچ کر گئے ہیں۔ ملزم نواز کا ڈی این اے سب سے پہلے میچ ہوا جس نے پہلے خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا جبکہ اس کے اکسانے پر دیگر ملزمان بھی اس جرم میں شریک ہوئے۔ لاہور پولیس نے مجموعی طور پر آٹھ ملزمان کے ڈی این اے نمونے فرانزک تجزیے کے لیے بھجوائے تھے جبکہ دیگر نمونوں کی جانچ کا عمل بھی جاری ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عموما پنجاب میں اغوا اور ریپ کے کیسز سی سی ڈی کے حوالے کر دیے جاتے ہیں جو کہ ملزمان کو جعلی مقابلوں میں پار کر دیتی ہے۔ لیکن اس کیس میں ایسا نہیں کیا گیا چونکہ مرکزی ملزم کا تعلق ڈار خاندان سے ہے۔

بلال غوری کے مطابق اس مقدمے میں ایک اور اہم پیش رفت تب سامنے آئی جب ڈی ائی جی اپریشنز لاہور کا یہ دعوی جھوٹا ثابت ہو گیا کہ دونوں اغوا شدہ خواتین کو پولیس نے ڈیفنس سے برامد کیا تھا۔ اب یہ حقیقت سامنے آ چکی ہے کہ اغوا کار دونوں لڑکیوں کو ایک گاڑی میں لے کر جا رہے تھے جب اس کا ایک اور کار کے ساتھ حادثہ ہو گیس۔ اس حادثے کے بعد دونوں غیر ملکی خواتین گاڑی سے نکل کر ایک دکان میں پناہ لینے میں کامیاب ہوئیں اور ون فائیو پر اطلاع ملنے کے بعد پولیس موقع پر پہنچی۔

بلال غوری کے مطابق دنیا کی سیاسی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں حکمران یا بااثر رہنما اپنے بچوں کی حرکات کے باعث عوامی اعتماد کھو بیٹھے۔ انہوں نے سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی مثال دیتے ہوئے لکھا کہ ان کے بیٹے ہنٹر بائیڈن مختلف مالی اور قانونی سکینڈلز کی وجہ سے مسلسل خبروں میں رہے۔ ستمبر 2024 میں ٹیکس چوری کے مقدمے میں سزا کے بعد دسمبر 2024 میں جو بائیڈن کی جانب سے اپنے بیٹے کو صدارتی اختیار استعمال کرتے ہوئے معافی دینا شدید تنقید کا باعث بنا اور اس پورے معاملے نے ان کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کے چوتھے صدر جیمز میڈیسن بھی اپنے سوتیلے بیٹے جان کی شراب نوشی، جوئے اور مسلسل قانونی مسائل کے باعث پوری زندگی مشکلات کا شکار رہے جبکہ سیاسی مخالفین نے انہیں بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ بلال غوری نے امریکی صدر روزویلٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ان کی بیٹی ایلس روزویلٹ اپنی غیر معمولی اور متنازع سرگرمیوں کی وجہ سے مسلسل میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی رہیں۔ یہاں تک کہ روزویلٹ کو ایک موقع پر کہنا پڑا کہ وہ یا تو امریکہ چلا سکتے ہیں یا پھر اپنی بیٹی کو سنبھال سکتے ہیں، دونوں کام بیک وقت ممکن نہیں۔

انہوں نے سابق امریکی صدر روزویلٹ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ان کے بیٹے جمی روزویلٹ نے اپنے والد کے سیاسی اثر و رسوخ اور منصب سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کاروباری مفادات حاصل کیے، جس کے بعد ان پر فراڈ سے متعلق تحقیقات بھی ہوئیں اور یہ معاملہ بھی صدر کی ساکھ پر سوالیہ نشان بن گیا۔ بلال غوری کے مطابق سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے خاندان کو بھی نیل بش کے مالیاتی تنازعات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے لکھا کہ ایک بینکاری ادارے کے دیوالیہ ہونے کے بعد نیل بش اور دیگر ڈائریکٹرز کے خلاف مقدمات قائم ہوئے اور بالآخر کروڑوں ڈالر کی ادائیگی کے بعد معاملہ عدالت سے باہر طے پایا۔

انہوں نے سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کی مثال دیتے ہوئے لکھا کہ ان کی بیٹی پیٹی ڈیوس کی باغیانہ زندگی اور متنازع تصاویر نے بھی ریگن خاندان کو شدید شرمندگی سے دوچار کیا۔ یہاں تک کہ ریگن کی اہلیہ نینسی ریگن نے اپنی بیٹی سے لاتعلقی کا اعلان کیا، مگر اس کے باوجود یہ تنازع ختم نہ ہو سکا۔ غوری نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے سابق صدر فیلڈ مارشل ایوب خان کی ڈائری کا واقعہ بھی بیان کیا۔ انہوں نے لکھا کہ 1967 میں ایوب خان کے سولہ سالہ بھتیجے احمد نے ایک معمولی جھگڑے کے دوران فائرنگ کر کے ایک شخص کو قتل اور متعدد افراد کو زخمی کر دیا تھا۔ ایوب خان نے اپنی ڈائری میں اس واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ بعض اوقات غیر ذمہ دار رشتہ دار انسان کی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش بن جاتے ہیں۔

بلال غوری نے کہا کہ ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ قانون کی نظر میں بالغ اولاد یا رشتہ داروں کے جرائم کی ذمہ داری براہ راست والدین یا خاندان پر عائد نہیں ہوتی، تاہم سیاست میں عوام کا فیصلہ قانونی موشگافیوں سے مختلف ہوتا ہے۔ عوام اکثر طاقتور خاندانوں کو ان کے زیر سایہ پروان چڑھنے والی سوچ، ماحول اور اثر و رسوخ کی بنیاد پر بھی جواب دہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاشبہ اسحاق ڈار اور ان کے صاحبزادے علی ڈار پر ماضی میں اس نوعیت کے الزامات نہیں لگے اور ان کے سیاسی مخالفین بھی ان کے ذاتی کردار پر ایسی تنقید نہیں کرتے رہے، تاہم رضا ڈار پر عائد الزامات نے پورے خاندان کو سیاسی دباؤ میں لا کھڑا کیا ہے۔ ان کے مطابق جب کسی بااثر خاندان کا فرد سنگین مقدمے میں نامزد ہوتا ہے تو انصاف کے ہر مرحلے پر عوام کی نظریں ریاستی اداروں کی کارکردگی پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔

Back to top button