سندھ طاس معاہدہ خطے کے مستقل امن کی ضمانت ہے: وفاقی وزرا

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات پر پاکستان کی سیاسی قیادت نے غیرمعمولی یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ خطے کے مستقل امن کی ضمانت ہے، اس لیےآبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کی آبی، غذائی، توانائی اور قومی سلامتی سے جڑا معاملہ ہے، اس لیے اس کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا اور کسی دباؤ یا یکطرفہ اقدام کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی بھارتی کوشش سے نئی دہلی کو شرمندگی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت پانی پاکستان کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے، جبکہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات نہ قانونی حیثیت رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی اخلاقی جواز ہے۔
سینیٹر افنان اللہ خان، بیرسٹر دانیال چوہدری، شرمیلا فاروقی، میر ضیاء اللہ لانگو بلوچ، عظمیٰ بخاری، بیرسٹر عقیل ملک، بلال اظہر کیانی اور ناز بلوچ نے بھی کہا ہے کہ مشترکہ دریاؤں پر یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہیں۔
کراچی: دہشت گردی کا منصوبہ ناکام، بی ایل اے کے 2 کارندے گرفتار
علاوہ ازیں سیاسی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا اور سندھ طاس معاہدے کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔
