پاکستان میں نظربند حافظ سعید پر بھارت میں فرد جرم عائد

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والے حملے کی تحقیقات میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں بھارتی قومی تحقیقاتی ایجنسی نے پاکستان میں نظربند کالعدم لشکرِ طیبہ کے بانی حافظ سعید کے خلاف ضمنی چارج شیٹ دائر کر دی ہے۔ بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ حافظ سعید پر انفرادی حیثیت کے علاوہ کالعدم لشکرِ طیبہ اور اس سے منسلک مبینہ تنظیم "دی ریزسٹنس فرنٹ” کی قیادت کے تناظر میں بھی الزامات شامل کیے گئے ہیں، جبکہ پاکستان اس حملے میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی تردید کرتا رہا ہے اور ماضی میں غیرجانبدار بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ بھی کر چکا ہے۔ اس پیش رفت نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی کشیدگی، سرحد پار دہشت گردی کے الزامات اور علاقائی سلامتی سے متعلق بحث کو تازہ کر دیا ہے۔
بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے پہلگام حملہ کیس میں خصوصی عدالت کے روبرو ایک ضمنی چارج شیٹ جمع کراتے ہوئے پاکستان میں قید حافظ سعید کو بھی ملزمان میں شامل کر لیا ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق ان پر نہ صرف انفرادی حیثیت میں بلکہ کالعدم لشکرِ طیبہ اور اس سے منسلک مبینہ تنظیم "دی ریزسٹنس فرنٹ” کے سربراہ کے طور پر بھی مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔این آئی اے کے مطابق ضمنی چارج شیٹ پہلے سے دائر کی گئی تقریباً 1597 صفحات پر مشتمل مرکزی چارج شیٹ کا تسلسل ہے، جس میں مبینہ شواہد، تفتیشی مواد، سرحد پار رابطوں اور تحقیقات کے دوران حاصل ہونے والی معلومات کو شامل کیا گیا ہے۔ بھارتی تحقیقاتی ادارے کا دعویٰ ہے کہ ان دستاویزات میں حملے کی منصوبہ بندی، مبینہ معاونت، سازش اور بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے سے متعلق مختلف قانونی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
خیال رہے کہ یہ مقدمہ گزشتہ سال بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والے حملے سے متعلق ہے، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حملے کے فوراً بعد نئی دہلی نے اس کا ذمہ دار پاکستان میں موجود عناصر کو قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ حملہ آوروں کو پاکستان سے معاونت حاصل تھی۔ تاہم اسلام آباد نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور اگر بھارت کے پاس کوئی قابلِ اعتماد شواہد موجود ہیں تو وہ سامنے لائے جائیں۔ پاکستان نے اس واقعے کی آزاد، شفاف اور غیرجانبدار بین الاقوامی تحقیقات کی بھی پیشکش کی تھی۔
بھارتی حکام کے مطابق "دی ریزسٹنس فرنٹ” نے ابتدا میں حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، تاہم بعد میں اس سے لاتعلقی اختیار کر لی۔ این آئی اے کا کہنا ہے کہ اسی بنیاد پر اس تنظیم اور کالعدم لشکرِ طیبہ کے درمیان مبینہ روابط کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں، جبکہ اسی تناظر میں حافظ سعید کو ضمنی چارج شیٹ میں شامل کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ حافظ سعید پہلے ہی بھارت میں 2008 کے ممبئی حملوں کے سلسلے میں مطلوب افراد میں شامل ہیں۔ دوسری جانب پاکستان میں وہ 2020 سے دہشت گردی کی مالی معاونت کے مقدمات میں سزا یافتہ ہونے کے بعد جیل میں قید ہیں۔ پاکستانی حکام کا کہنا رہا ہے کہ ان کے خلاف کارروائیاں ملکی عدالتوں کے فیصلوں اور پاکستان کے انسداد دہشت گردی قوانین کے مطابق کی گئی ہیں۔
بھارت کی جانب سے تازہ قانونی کارروائی پر پاکستان کی وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم سلامتی امور کے بعض پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کا یہ اقدام بنیادی طور پر اس کی داخلی سیاست اور سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق چونکہ حافظ سعید پہلے ہی پاکستان میں قید ہیں، اس لیے اس ضمنی چارج شیٹ سے پاکستان پر فوری قانونی یا سفارتی دباؤ میں کوئی بنیادی تبدیلی متوقع نہیں۔سلامتی امور کے تجزیہ کار ڈاکٹر قمر چیمہ کے مطابق بھارت ماضی میں بھی پاکستان پر ایسے الزامات عائد کرتا رہا ہے، لیکن پاکستان مسلسل اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ کسی بھی الزام کی بنیاد قابلِ قبول اور قابلِ تصدیق شواہد ہونے چاہییں۔ ان کے بقول اسلام آباد اسی مؤقف پر قائم ہے کہ پہلگام حملے کے حوالے سے بھارت نے اب تک پاکستان کے سامنے ایسے شواہد پیش نہیں کیے جن کی آزادانہ جانچ کی جا سکے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ بھی واضح ہے کہ کسی بھی فوجداری مقدمے میں عدالت کا حتمی فیصلہ آنے تک بھارتی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات عدالتی جانچ کے مراحل سے گزریں گے۔
مبصرین کے مطابق پہلگام حملہ کیس میں حافظ سعید کے خلاف ضمنی چارج شیٹ دائر کیے جانے سے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان دہشت گردی سے متعلق الزامات اور جوابی مؤقف عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ بھارت اس کارروائی کو اپنی تحقیقات کا حصہ قرار دے رہا ہے، جبکہ پاکستان پہلے کی طرح ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے آزادانہ تحقیقات اور شواہد کی فراہمی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ آئندہ عدالتی کارروائی اور دونوں ممالک کے سفارتی ردعمل اس معاملے کی سمت کا تعین کریں گے۔
