ٹی ٹی پی کو بڑا دھچکا، جماعت الاحرار نے اتحاد ختم کر دیا

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے اہم دھڑوں میں شمار ہونے والی جماعت الاحرار کی علیحدگی نے عسکریت پسند تنظیموں کے اندرونی اختلافات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف ٹی ٹی پی کی داخلی یکجہتی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اس سے پاکستان کی سکیورٹی صورتحال، شدت پسند گروہوں کے باہمی تعلقات اور مستقبل میں کسی بھی ممکنہ مذاکراتی عمل پر بھی دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ دونوں گروہ ریاست مخالف سرگرمیوں سے منسلک رہے ہیں، تاہم ان کے درمیان قیادت، اعتماد، تنظیمی اختیار اور حکمت عملی پر اختلافات کئی برسوں سے موجود تھے، جو بالآخر علیحدگی کی صورت میں سامنے آ گئے۔

کالعدم جماعت الاحرار نے باضابطہ طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دوبارہ اپنی آزاد تنظیمی حیثیت بحال کر رہی ہے۔ تنظیم کے بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ اس نے اتحاد اور مشترکہ جدوجہد کے مقصد سے 2020 میں ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار کی تھی، تاہم بعد ازاں اس کے ساتھ وعدوں کی خلاف ورزی اور قیادت کے ساتھ بے وفائی کی گئی، جس کے باعث اتحاد برقرار نہ رہ سکا۔

واضح رہے کہ جماعت الاحرار کی بنیاد 2013 میں عمر خالد خراسانی نے رکھی تھی، جو ٹی ٹی پی کے بانی رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ٹی ٹی پی کی اس وقت کی قیادت، خصوصاً ملا فضل اللہ، کے ساتھ اختلافات کے بعد انہوں نے الگ تنظیم قائم کی۔بعد ازاں اس گروہ نے کچھ عرصے کے لیے داعش سے بھی قربت اختیار کی، لیکن 2015 میں دوبارہ ٹی ٹی پی کے ساتھ تعاون شروع کر دیا۔ پھر جون 2020 میں جماعت الاحرار، حزب الاحرار سمیت دیگر دھڑوں کے ساتھ دوبارہ ٹی ٹی پی میں شامل ہو گئی، جسے ٹی ٹی پی کی سب سے بڑی تنظیمی کامیابیوں میں شمار کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی کے درمیان اختلافات کی کئی وجوہات تھیں۔سب سے اہم موڑ 2022 میں آیا، جب جماعت الاحرار کے سربراہ عمر خالد خراسانی افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں ایک بارودی سرنگ دھماکے میں مارے گئے۔ اس واقعے کے بعد جماعت الاحرار نے الزام عائد کیا کہ اس قتل کے پیچھے ٹی ٹی پی کی مرکزی قیادت کا کردار تھا، اگرچہ ٹی ٹی پی نے اس الزام کو تسلیم نہیں کیا۔اس واقعے کے بعد دونوں تنظیموں کے درمیان اعتماد تقریباً ختم ہو گیا۔ جماعت الاحرار مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی کہ اس کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گئے، تنظیمی فیصلوں میں اسے نظر انداز کیا گیا اور اس کی قربانیوں کا اعتراف نہیں کیا گیا۔حالیہ مہینوں میں خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں دونوں گروہوں کے جنگجوؤں کے درمیان مبینہ مسلح جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جن میں ایک دوسرے کے کارکنوں کے مارے جانے کے دعوے کیے گئے۔ ان واقعات نے اختلافات کو مزید گہرا کر دیا۔

شدت پسند تنظیموں پر تحقیق کرنے والے ماہرین کے مطابق 2020 میں مختلف دھڑوں کو دوبارہ متحد کرنا مفتی نور ولی کی سب سے بڑی کامیابی تصور کی جاتی تھی۔ جماعت الاحرار کی شمولیت نے ٹی ٹی پی کو تنظیمی، عسکری اور مالی لحاظ سے مضبوط بنایا تھا۔اب اسی اہم دھڑے کی علیحدگی ٹی ٹی پی کی اس حکمت عملی کے لیے بڑا نقصان سمجھی جا رہی ہے جس کا مقصد مختلف شدت پسند گروہوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد رکھنا تھا۔تجزیہ کاروں کے مطابق جماعت الاحرار صرف ایک عسکری دھڑا نہیں بلکہ کئی علاقوں میں اس کا اپنا تنظیمی نیٹ ورک، جنگجو، مالی وسائل اور مقامی اثر و رسوخ موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی علیحدگی ٹی ٹی پی کی عملی صلاحیتوں پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب پاکستان میں ریاست مخالف عسکریت پسند عناصر ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار اور اتحاد المجاہدین یعنی تین مختلف مراکز کے تحت سرگرم دکھائی دے سکتے ہیں۔اتحاد المجاہدین میں حافظ گل بہادر گروپ، لشکر اسلام اور بعض دیگر چھوٹے عسکری دھڑے شامل ہیں، جو الگ تنظیمی شناخت رکھتے ہیں۔اس تقسیم کے بعد مختلف گروہوں کے درمیان اثر و رسوخ، وسائل اور بھرتیوں کے لیے مقابلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

جماعت الاحرار کی ٹی ٹی پی سے علیحدگی کے بعد پاکستان کو ایک نئے سکیورٹی منظرنامے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اگرچہ پہلی نظر میں یہ تقسیم ٹی ٹی پی کی تنظیمی طاقت کو کمزور کرتی دکھائی دیتی ہے، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ متعدد آزاد عسکری دھڑوں کی موجودگی بعض اوقات ایک متحد تنظیم سے زیادہ پیچیدہ صورتحال پیدا کر دیتی ہے۔ جب مختلف گروہ اپنی الگ شناخت کے ساتھ سرگرم ہوتے ہیں تو ان کے درمیان اثر و رسوخ، وسائل، بھرتیوں اور کارروائیوں میں سبقت حاصل کرنے کی دوڑ شروع ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں تشدد میں اضافے کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں حکومت کسی بھی شدت پسند گروہ کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کرتی ہے تو اب یہ عمل پہلے سے زیادہ مشکل ہو جائے گا، کیونکہ ایک مرکزی قیادت کے بجائے مختلف دھڑوں سے الگ الگ رابطہ کرنا پڑے گا۔ اس سے نہ صرف مذاکراتی عمل پیچیدہ ہوگا بلکہ کسی ممکنہ معاہدے پر عمل درآمد بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق جماعت الاحرار کا خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع، خصوصاً کوہاٹ، کرک، لکی مروت اور بعض دیگر علاقوں میں اپنا تنظیمی نیٹ ورک اور اثر و رسوخ موجود رہا ہے۔ اس علیحدگی کے بعد ٹی ٹی پی کو ان علاقوں میں اپنی سابقہ رسائی برقرار رکھنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں، جبکہ جماعت الاحرار اپنی الگ شناخت کے ساتھ دوبارہ اپنے نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کی کوشش کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں میں دونوں گروہوں کے درمیان رقابت بڑھنے کا امکان بھی موجود ہے۔

کیا اس تقسیم کے بعد ٹی ٹی پی واقعی کمزور ہوگی؟اس سوال پر ماہرین کی آرا مختلف ہیں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ جماعت الاحرار کی علیحدگی ٹی ٹی پی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، کیونکہ یہ گروہ نہ صرف عسکری صلاحیت رکھتا تھا بلکہ بعض علاقوں میں مالی اور تنظیمی معاونت بھی فراہم کرتا تھا۔ دوسری جانب کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹی ٹی پی کی داخلی یکجہتی متاثر ہوگی، لیکن مختلف دھڑے اپنی طاقت ثابت کرنے کے لیے مزید سرگرم بھی ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ یا مختلف شدت پسند گروہوں کے درمیان خونریز تصادم کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

جماعت الاحرار کی علیحدگی کے بعد یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ پاکستان میں ریاست مخالف شدت پسند عناصر اب ایک ہی قیادت کے بجائے مختلف تنظیمی مراکز کے تحت سرگرم ہوں گے۔ ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار اور اتحاد المجاہدین جیسے دھڑے اپنی اپنی حکمت عملی کے مطابق کام کریں گے، جس سے نہ صرف ان کے درمیان باہمی رقابت بڑھے گی بلکہ ریاستی اداروں کے لیے بھی خطرات کی نوعیت تبدیل ہو سکتی ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق اس نئی صف بندی سے داخلی کشیدگی میں اضافہ ہوگا، جبکہ دوسرے ماہرین کے نزدیک یہ تقسیم مجموعی طور پر ٹی ٹی پی کی مرکزی قوت کو کمزور بھی کر سکتی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی کی راہیں جدا ہونا محض دو تنظیموں کی علیحدگی نہیں بلکہ پاکستان میں شدت پسند تنظیموں کی سیاست میں ایک اہم موڑ ہے۔ عمر خالد خراسانی کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والے اختلافات، قیادت پر عدم اعتماد، تنظیمی اختیارات کے تنازعات اور باہمی رقابت بالآخر اس فیصلے پر منتج ہوئے۔ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ تقسیم ٹی ٹی پی کی طاقت کو کمزور کرتی ہے یا پھر مختلف شدت پسند گروہوں کے درمیان نئی صف بندی پاکستان کے لیے مزید پیچیدہ سکیورٹی چیلنجز پیدا کرتی ہے۔ فی الحال ایک بات واضح ہے کہ اس پیش رفت نے ملک کی داخلی سلامتی، انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی اور مستقبل کے کسی بھی مذاکراتی عمل کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔

Back to top button