کوئٹہ کے قریب عوام پر حملہ کرنے والے 300شدت پسند کون؟

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے ببری اور معروف سیاحتی مقام ہنہ اوڑک کے قریب شدت پسندوں کے مبینہ بڑے حملے نے صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ سینکڑوں مسلح حملہ آور کئی گھنٹے تک علاقے میں موجود رہے، چار افراد کو قتل کیا، متعدد کو زخمی کیا اور کئی شہریوں کو اپنے ساتھ لے گئے، جبکہ حکومتی مؤقف ہے کہ حملہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے کیا اور فورسز نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے شدت پسندوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ اس واقعے نے نہ صرف انٹیلی جنس اور سکیورٹی انتظامات بلکہ بلوچستان میں شدت پسند تنظیموں کی بدلتی حکمت عملی پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
مبصرین کے مطابق کوئٹہ کے شمال مشرق میں واقع ببری اور ہنہ اوڑک کے علاقوں میں ہونے والا حالیہ حملہ اس لحاظ سے غیرمعمولی سمجھا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ صوبائی دارالحکومت سے صرف 15 سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔ مقامی آبادی، جو زیادہ تر کاکڑ قبیلے سے تعلق رکھتی ہے، کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ کئی ماہ سے علاقے میں مشکوک مسلح افراد کی نقل و حرکت، دھمکیوں اور دباؤ کی شکایات متعلقہ اداروں تک پہنچا رہی تھی، مگر مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث صورتحال ایک بڑے حملے میں تبدیل ہو گئی۔
احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے والے مفتی محمد اعظم کاکڑ کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد تقریباً تین سو تھی، ان کے پاس جدید خودکار ہتھیاروں کے ساتھ دو سے تین ڈرون کیمرے بھی موجود تھے، جنہیں حملے کے دوران نگرانی اور رابطے کے لیے استعمال کیا گیا۔ ان کے بقول حملہ آور کئی گھنٹے تک علاقے میں موجود رہے، مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مزاحمت کی، مگر اس دوران چار افراد جان سے گئے اور متعدد زخمی ہوئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حملہ آور رات دس بجے تک علاقے میں موجود رہے لیکن ان کے خلاف بروقت کارروائی نہیں کی گئی۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا جب علاقے میں مسلح افراد دیکھے گئے ہوں۔ ان کے مطابق دو سے تین ماہ قبل سے نامعلوم مسلح گروہ مقامی آبادی کو خوفزدہ کر رہا تھا، لوگوں سے خوراک، رہائش اور دیگر سہولیات کا مطالبہ کیا جا رہا تھا اور انکار کی صورت میں دھمکیاں دی جاتی تھیں۔ اسی وجہ سے مقامی افراد نے پہلے بھی احتجاج کیا اور حکام سے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم ان کا مؤقف ہے کہ یقین دہانیوں کے باوجود عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔
بلوچستان حکومت نے اس حملے کا ذمہ دار کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو قرار دیا ہے۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کے مطابق حملہ آور زرغون غر کے علاقے سے آئے تھے اور ان کا مقصد کوئٹہ اور گردونواح میں بدامنی پھیلانا تھا۔ حکام کے مطابق فورسز نے علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا، تمام داخلی و خارجی راستوں پر سکیورٹی بڑھا دی گئی اور کارروائی کے دوران شدت پسندوں کو بھی نقصان پہنچا۔ وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو نے بتایا کہ آپریشن میں تین شدت پسند مارے گئے جبکہ دو اہلکار زخمی ہوئے۔ دوسری جانب انسداد دہشت گردی فورس کے چار اہلکار زخمی ہونے کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔
اغوا ہونے والے افراد کی تعداد بھی تنازع کا موضوع بن گئی ہے۔ احتجاج کرنے والے مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ حملہ آور 13 افراد کو اپنے ساتھ لے گئے، جبکہ حکومت نے سات افراد کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔ یہی معاملہ عوامی احتجاج کی بڑی وجہ بنا، جس کے بعد کوئٹہ ایئرپورٹ روڈ پر دھرنا دیا گیا اور مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ اغوا شدگان کو فوری بازیاب کرایا جائے اور علاقے میں موجود شدت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔
اس حملے کی ذمہ داری اگرچہ حکومت نے ٹی ٹی پی پر عائد کی ہے، لیکن تنظیم کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ دعویٰ سامنے نہیں آیا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض تجزیہ کار احتیاط سے صورتحال کا جائزہ لینے پر زور دے رہے ہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز (پپس) کے سربراہ عامر رانا کے مطابق بلوچستان میں خصوصاً ژوب، لورالائی اور شمالی پشتون بیلٹ میں ٹی ٹی پی کا تنظیمی ڈھانچہ موجود ہے، تاہم ہنہ اوڑک کے قریب موجود افراد کی شناخت کے بارے میں ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ان کے مطابق علاقے میں بعض مشکوک افراد کی موجودگی کی اطلاعات پہلے سے تھیں، جس کی وجہ سے امن و امان کا مسئلہ مسلسل سنگین ہوتا جا رہا تھا۔
بلوچستان کے سینئر صحافی سلیم شاہد بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ بلوچستان میں ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں خیبر پختونخوا کے مقابلے میں محدود رہی ہیں، لیکن ژوب، لورالائی، پشین، قلعہ عبداللہ اور کوئٹہ سمیت متعدد علاقوں میں تنظیم ماضی میں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے۔ گزشتہ برس کوئٹہ میں فرنٹیئر کور نارتھ کے ہیڈکوارٹر پر ہونے والے حملے سمیت کئی واقعات میں بھی ٹی ٹی پی کا نام سامنے آ چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی ٹی ٹی پی یا اس سے وابستہ عناصر کوئٹہ کے اتنے قریب منظم کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو یہ بلوچستان میں شدت پسندوں کی حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی کی علامت ہو سکتی ہے۔ ماضی میں ان کی سرگرمیاں زیادہ تر شمالی اضلاع یا خیبرپختونخوا سے متصل علاقوں تک محدود سمجھی جاتی تھیں، تاہم اب صوبائی دارالحکومت کے قریب ان کی موجودگی کے دعوے سکیورٹی اداروں کے لیے ایک نئے چیلنج کی نشاندہی کرتے ہیں۔
مبصرین کے بقول اس واقعے نے ایک اور اہم سوال بھی پیدا کیا ہے کہ اگر مقامی آبادی کئی ہفتوں بلکہ مہینوں سے مسلح افراد کی موجودگی کی شکایات کر رہی تھی تو بروقت کارروائی کیوں نہ کی جا سکی؟ یہی سوال احتجاج کرنے والے شہری بھی اٹھا رہے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ صرف آپریشن کافی نہیں بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مستقل اور مؤثر سکیورٹی حکمت عملی ناگزیر ہے۔ ناقدین کے مطابق مجموعی طور پر کوئٹہ کے قریب ہونے والا یہ حملہ بلوچستان میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال، شدت پسند گروہوں کی ممکنہ نقل و حرکت، انٹیلی جنس رابطوں اور ریاستی ردعمل کے حوالے سے ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔ آئندہ چند روز میں تحقیقات، آپریشن کے نتائج اور اغوا ہونے والے افراد کی بازیابی سے ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ اس حملے کے اصل محرکات اور ذمہ دار کون تھے اور اس کے صوبے کی مجموعی سکیورٹی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
