چھوٹے ڈار کے کالے کرتوت: کیا بڑے ڈار کو ذمہ دار ٹھہرانا جائز ہے؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ احمد رضا ڈار کی جانب سے دو غیر ملکی خواتین کو اغوا کرنے اور ان سے زیادتی کے الزام کا ذمہ دار اسکے نانا، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کو قرار دینا کسی بھی طرح درست نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی والد، دادا یا نانا اپنے بیٹے، پوتے یا نواسے کے مبینہ جرائم کا ذمہ دار کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ سیاسی فیصلوں پر تنقید اپنی جگہ، لیکن نواسے کے جرم پر نانا کو نشانہ بنانا انصاف اور اخلاقیات کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔ ان کے بقول، بے شک اسحاق ڈار کے نواسے کو قانون کی سولی پر چڑھا دیں مگر نانا کی عزت کا جنازہ نہ نکالیں۔
سہیل وڑائچ نے ان خیالات کا اظہار روزنامہ جنگ میں شائع اپنی تازہ تحریر میں کیا ہے جس میں انہوں نے موجودہ سیاسی صورتحال، حکمران جماعت کی اندرونی کیفیت اور مختلف سیاسی جماعتوں کے حالات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے لکھا کہ مسلم لیگ (ن) اس وقت وفاق کی سب سے بڑی اتحادی جماعت ہے اور ملکی سیاست میں اس کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ مسلم لیگ (ن) پاکستان کی قدیم ترین بڑی سیاسی جماعتوں میں شمار ہوتی ہے اور ماضی میں اس نے پانچ مرتبہ ملک کو وزیر اعظم دیے، جبکہ پنجاب میں بھی اس جماعت کے چھ وزرائے اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ ان کے مطابق تین مرتبہ نواز شریف وزیر اعظم منتخب ہوئے، ایک مرتبہ شاہد خاقان عباسی انہی کی حمایت سے اس منصب پر پہنچے اور موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف بھی اسی جماعت کے نامزد کردہ رہنما ہیں۔
سینیئر تجزیہ کار کے مطابق پنجاب میں بھی نواز شریف، غلام حیدر وائیں، شہباز شریف، دوست محمد کھوسہ، حمزہ شہباز اور مریم نواز سمیت چھ وزرائے اعلیٰ مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھتے رہے ہیں۔ اس وقت وفاق میں بھی مسلم لیگ (ن) کی اکثریتی کابینہ موجود ہے جبکہ پنجاب میں بھی جماعت تنہا حکومت کر رہی ہے، اس لیے اب یہ جائزہ لینے کا وقت ہے کہ پارٹی قیادت، ارکان اسمبلی اور کارکن کس کیفیت میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر سادہ الفاظ میں بات کی جائے تو مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور کارکنوں کو تین گروپوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک "دکھی گروپ”، دوسرا "سکھی گروپ” اور تیسرا "دکھی سکھی گروپ”، جو کبھی خوشی اور کبھی محرومی کے احساس سے گزرتا رہتا ہے۔ ان کے مطابق کچھ رہنما وفاق سے خوش لیکن پنجاب سے ناخوش ہیں، جبکہ کچھ پنجاب میں اہمیت رکھتے ہیں مگر وفاق میں نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔
سہیل وڑائچ کے مطابق ملک میں اس وقت سیاسی سرگرمیاں تقریباً ماند پڑ چکی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف دباؤ اور تنظیمی کمزوریوں کے باعث عملی طور پر غیر مؤثر دکھائی دیتی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) نے بھی اپنی تنظیمی ڈھانچے کو نظرانداز کر رکھا ہے۔ ضلع، تحصیل اور ٹاؤن کی سطح پر پارٹی تنظیموں کا حکومت سے رابطہ تقریباً ختم ہو چکا ہے، جس کے باعث بڑی تعداد میں کارکن خود کو محروم محسوس کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیشتر کارکنوں کی خواہش ہے کہ وہ بھی حکومت کے ترقیاتی منصوبوں، خصوصاً "ستھرا پنجاب”، سستی ٹرانسپورٹ اور دیگر عوامی منصوبوں کا سیاسی کریڈٹ حاصل کر سکیں، مگر انہیں ایسا موقع نہیں مل رہا۔
سہیل وڑائچ کے مطابق دوسری جانب پیپلز پارٹی کے کارکنان بھی عمومی طور پر غیر فعال دکھائی دیتے ہیں، اگرچہ لاہور میں کچھ سیاسی سرگرمی ضرور نظر آتی ہے۔ سینیئر تجزیہ کار نے اپنی تحریر میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی اندرونی تقسیم کا بھی ذکر کیا گیا۔ سہیل وڑائچ نے لکھا کہ سابق دور حکومت میں اہم کردار ادا کرنے والے سابق بیوروکریٹس سعید مہدی اور فواد حسن فواد کو موجودہ حکومت میں وہ مقام حاصل نہ ہو سکا جو ماضی میں تھا۔ اسی طرح سینیٹر پرویز رشید کو پنجاب میں تو خاص اہمیت حاصل ہے لیکن وفاقی سطح پر انہیں نظرانداز کیا جا رہا ہے، اس لیے وہ بیک وقت "دکھی بھی ہیں اور سکھی بھی”۔
انہوں نے ضلع جہلم کی سیاست کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ موجودہ حکومت میں بلال اظہر کیانی اور ان کے والد ریٹائرڈ جنرل اظہر کیانی کو نمایاں حیثیت حاصل ہوئی ہے، جبکہ چوہدری فرخ الطاف اور راجگان داراپور جیسے روایتی سیاسی خاندان خود کو نظرانداز محسوس کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بلال اظہر کیانی وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں جبکہ ان کے والد پنجاب کے صحت کے شعبے میں اہم مشاورتی کردار ادا کر رہے ہیں۔
سہیل وڑائچ نے وفاقی کابینہ کے بارے میں بھی لکھا کہ وہاں بھی "دکھی” اور "سکھی” وزراء کی الگ الگ صفیں موجود ہیں۔
ان کے مطابق ایک وزیر کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی ذہانت اور تجزیاتی صلاحیتوں کی حکومتی حلقوں میں بہت قدر کی جاتی ہے، تاہم ان کے طرز عمل پر بعض وزراء تحفظات بھی رکھتے ہیں۔ ان کے بقول اس وزیر کے قریب سمجھے جانے والے افسران خوش ہیں جبکہ مخالف سمجھی جانے والی بیوروکریسی خود کو محروم تصور کرتی ہے۔
پنجاب حکومت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ صوبائی کابینہ میں بھی بعض وزراء انتہائی بااثر اور مطمئن ہیں جبکہ کئی دوسرے وزراء خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق متعدد اراکین پنجاب اسمبلی اس بات پر ناخوش ہیں کہ انہیں وزیراعلیٰ ہاؤس تک وہ رسائی حاصل نہیں جو ماضی میں پرویز الٰہی یا شہباز شریف کے ادوار میں ہوا کرتی تھی۔
کراچی اور سندھ کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سہیل وڑائچ نے لکھا کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے وفاقی وزراء خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال تو مطمئن دکھائی دیتے ہیں، تاہم فاروق ستار مہاجر سیاست کے حساس نکات کو اٹھا کر دوبارہ اپنی سیاسی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ سندھ حکومت بارہا وعدوں کے باوجود کراچی میں وہ نمایاں ترقی نہیں لا سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ ان کے مطابق لاہور اور راولپنڈی میں ترقیاتی کام واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں، جبکہ کراچی میں ایسی نمایاں تبدیلی محسوس نہیں ہوتی، جس کے باعث شہری سندھ کے عوام میں مایوسی پائی جاتی ہے۔
بلوچستان کے بارے میں سہیل وڑائچ نے کہا کہ صوبے میں تبدیلی کی افواہیں اب دم توڑ چکی ہیں۔ ان کے مطابق سرفراز بگٹی اور آصف علی زرداری کے درمیان ملاقات کے بعد اختلافات کی خبریں بھی پس منظر میں چلی گئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت اپنی جگہ برقرار ہے، جبکہ اس کی تبدیلی کے خواہاں حلقے مایوس ہوئے ہیں۔ اپنا تجزیہ مکمل کرتے ہوئے سہیل وڑائچ نے ایک مرتبہ پھر اسحاق ڈار کے نواسے کے مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر احمد رضا ڈار کے خلاف الزامات ثابت ہوتے ہیں تو قانون کو پوری سختی سے حرکت میں آنا چاہیے، لیکن اس بنیاد پر اس کے نانا اسحاق ڈار کو موردِ الزام ٹھہرانا نہ مذہبی اصولوں کے مطابق درست ہے، نہ قانونی اور نہ ہی اخلاقی اعتبار سے۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی شخص کے سیاسی کردار پر اختلاف کیا جا سکتا ہے، تاہم خاندانی رشتے کی بنیاد پر اسے دوسرے کے مبینہ جرم کا ذمہ دار قرار دینا انصاف کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
