دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات نہیں ہوں گے، ایران کا ٹرمپ کو دو ٹوک جواب

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹرمپ کو دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات نہیں ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ نہ ایرانی عوام اور نہ ہی ملک کی بہادر مسلح افواج کسی بھی قسم کی دھمکی سے مرعوب ہوں گی۔ اگر دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا تو حتمی معاہدے سے متعلق مذاکرات کا آغاز نہیں ہوگا۔
عباس عراقچی نے امریکا پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے دستخط اور وعدوں کی پاسداری کرے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت بالکل واضح ہے۔
دوسری جانب ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے اس صدر سے مخاطب ہیں جس نے آج 9 کروڑ 10 لاکھ ایرانیوں کو دھمکیاں دی ہیں۔انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ ایرانی عوام سے احترام کے ساتھ بات کریں، بصورت دیگر ایران بھی بھرپور انداز میں جواب دے گا۔
محمد باقر ذوالقدر نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی ایران کی ہزاروں سال پرانی تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں، تاہم اس کا نتیجہ امریکا کے لیے ناکامی، مایوسی اور بالآخر مذاکرات اور جنگ بندی کی درخواست کی صورت میں نکلا۔
پاکستان لیبیا کے متحارب فریقوں میں ثالثی کردار ادا کر رہا ہے: برطانیہ
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر ایران معاہدہ کر لیتا ہے تو بہتر ہے، بصورت دیگر امریکہ ’’اس کا کام تمام کر دے گا‘‘۔
