غیرملکی خواتین اغوا و زیادتی کیس کا اصل ماسٹر مائنڈ باس کون؟

لاہور میں دو غیرملکی خواتین کے مبینہ اغوا، تشدد اور زیادتی کے کیس نے ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی پرتیں کھولنا شروع کر دی ہیں۔ پولیس تحقیقات کے مطابق اس واردات کا مرکزی کردار ایک ایسا شخص ہے جس کا نام پہلے ہی قتل، اغوا اور انسانی اعضا کی غیرقانونی پیوند کاری جیسے سنگین مقدمات میں سامنے آ چکا ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان نے نہ صرف کروڑوں روپے مالیت کے تاوان کا مطالبہ کیا بلکہ متاثرہ خواتین کو انسانی اعضا نکال کر فروخت کرنے کی دھمکیاں دینے کا بھی الزام سامنے آیا ہے۔ تاہم ان تمام الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت میں شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔
لاہور میں دو غیرملکی خواتین کے مبینہ اغوا، تشدد اور زیادتی کے مقدمے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس کے مطابق مقدمے میں مجموعی طور پر آٹھ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ تفتیش کا مرکز ایک مبینہ مرکزی کردار، میاں وحید طاہر، بن گیا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کے مطابق واردات کی منصوبہ بندی ابتدائی طور پر ایک 25 سالہ نوجوان نے کی، تاہم بعد ازاں متعدد افراد اس منصوبے کا حصہ بنتے گئے۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ اسی دوران میاں وحید طاہر بھی اپنے چند ساتھیوں، اسلحے اور دیگر سامان کے ساتھ اس گروہ میں شامل ہوا اور مرکزی کردار ادا کیا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خواتین کے بیانات، مجسٹریٹ کے روبرو ریکارڈ ہونے والے دفعہ 164 کے بیانات، فرانزک شواہد اور میڈیکل رپورٹس کو تحقیقات کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مقدمے کی مزید چھان بین جاری ہے۔
تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی معلومات کے مطابق میاں وحید طاہر کا نام پنجاب پولیس کے ریکارڈ میں مجموعی طور پر دس مقدمات میں موجود ہے۔ ان میں بعض مقدمات میں وہ بطور ملزم، بعض میں مدعی اور چند میں گواہ کے طور پر شامل رہا ہے۔ ملزم کے خلاف قتل، دھوکہ دہی، اغوا، دھمکانے اور انسانی اعضا کی غیرقانونی پیوند کاری سے متعلق مقدمات درج ہونے کا ریکارڈ بھی سامنے آیا ہے۔
سنہ 2020 میں درج ایک قتل کے مقدمے میں الزام سامنے آیا تھا کہ ایک شخص کو ملازمت کا جھانسہ دے کر لے جایا گیا، بعد ازاں اس کی لاش ہسپتال سے ملی جہاں پوسٹ مارٹم کے دوران گردے نکالے جانے کا شبہ ظاہر کیا گیا۔ ابتدائی مقدمے میں اگرچہ میاں وحید طاہر کا نام شامل نہیں تھا، تاہم بعد کی تفتیش میں اسے مقدمے کا حصہ بنایا گیا۔
اسی طرح 2023 میں انسانی اعضا کی غیرقانونی پیوند کاری سے متعلق ایک مقدمہ بھی درج ہوا، جس میں مدعی نے الزام عائد کیا کہ علاج کے بہانے اس کا گردہ نکال لیا گیا۔ مزید برآں، 2024 میں درج ایک اور مقدمے میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ تفتیش کے دوران ایک ملزم نے انکشاف کیا کہ لاہور کے علاقے کاہنہ میں کرائے کے مکان میں انسانی اعضا کی پیوند کاری کے لیے عارضی آپریشن تھیٹر قائم کیا گیا تھا، جہاں میاں وحید طاہر اور اس کے ساتھی مبینہ طور پر سرگرم تھے۔
موجودہ مقدمے میں بھی پولیس کا دعویٰ ہے کہ متاثرہ غیرملکی خواتین کو 15 لاکھ ڈالر تاوان کی ادائیگی کے لیے دباؤ میں رکھا گیا اور انہیں انسانی اعضا نکال کر فروخت کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ پولیس کے مطابق یہ الزامات متاثرہ خواتین کے مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ ہونے والے بیانات کا بھی حصہ ہیں۔ اگرچہ تفتیشی ادارے اس مقدمے کو مضبوط شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھانے کا دعویٰ کر رہے ہیں، تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقدمے کے تمام الزامات کا حتمی تعین عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد، گواہوں اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔ اس لیے تفتیش کے دوران سامنے آنے والے تمام دعوے فی الحال الزامات ہیں، جن پر عدالتی فیصلہ آنا باقی ہے۔
تفتیشی حکام اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا موجودہ مقدمہ صرف اغوا برائے تاوان کا واقعہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی منظم مجرمانہ نیٹ ورک سرگرم تھا۔ پولیس موبائل فونز، بینک ریکارڈ، سفری معلومات، مالی لین دین، بین الاقوامی رابطوں اور دیگر شواہد کا بھی جائزہ لے رہی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ملزمان کسی بڑے گروہ کا حصہ تھے یا نہیں۔ ذرائع کے مطابق متاثرہ خواتین سے مبینہ طور پر بھاری تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا اور ان پر شدید نفسیاتی دباؤ بھی ڈالا گیا۔ پولیس یہ بھی جانچ رہی ہے کہ آیا اس گروہ نے ماضی میں بھی غیرملکی شہریوں یا مقامی افراد کو اسی نوعیت کے جرائم کا نشانہ بنایا تھا۔
ناقدین کے مطابق اس مقدمے نے پاکستان میں آنے والے غیرملکی سیاحوں، سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کے تحفظ کے حوالے سے بھی کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسے مقدمات میں فوری، شفاف اور مؤثر تحقیقات نہ کی جائیں تو اس سے ملک کی بین الاقوامی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بھی یہ کیس ایک اہم امتحان تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ اگر تفتیش میں منظم جرائم کے کسی بڑے نیٹ ورک کے شواہد سامنے آتے ہیں تو صرف ملزمان کو سزا دلوانا ہی کافی نہیں ہوگا بلکہ ایسے گروہوں کے پورے ڈھانچے کو بے نقاب کرنا بھی ضروری ہوگا۔اگرچہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس متاثرہ خواتین کے بیانات، فرانزک شواہد، میڈیکل رپورٹس اور دیگر اہم ثبوت موجود ہیں، تاہم قانونی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ فوجداری مقدمات میں کسی بھی شخص کا جرم عدالت میں ثابت ہونے تک وہ قانون کی نظر میں ملزم ہی تصور کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس مقدمے میں سامنے آنے والے تمام دعووں اور الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔
