سپریم کورٹ کا فیصلہ وزیراعلیٰ کے انتخاب پر بھی اطلاق کرتا ہے

منحرف اراکین سے متعلق کیس کی سماعت لاہور ہائیکورٹٰ میں زیر سماعت ہے، عدالت عالیہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ منحرف ارکان سے متعلق سپریم کورٹ کی تشریح موجودہ حالات میں لاگو ہوگی، فل بنچ نے حمزہ شہباز کے حلف اور گورنر کے اختیارات کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔ صدر مملکت کے وکیل احمد اویس نے کہا کہ صدر کے خلاف سنگل بینچ کے ریمارکس کو کالعدم قرار دینا چاہئے۔
ایران نے ’برکس‘ میں شمولیت کی درخواست دے دی
جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے کہا کہ جب صدر پاکستان کو سنا ہی نہیں گیا تو پھر انکے بارے میں ریمارکس کیسے دے سکتے ہیں۔ ہائی کورٹ نے پوچھا کہ کیا سپریم کورٹ کے فیصلے کا اطلاق ماضی سے ہوگا یا نہیں؟ اب تو پورے پاکستان کو پتا چل گیا ہے کہ ہم یہ سوچ کر بیٹھے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا ماضی سے اطلاق ہوگا۔
تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا اطلاق مارچ سے ہوگا، جسٹس شاہد جمیل نے ریمارکس دیے کہ ڈی سیٹ ہونے والے اراکین کا ریفرنس بھیجا گیا، سپریم کورٹ میں معاملہ زیر سماعت تھا۔ وزیراعلیٰ کا الیکشن ہوا ، مگر اس کے بعد سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہم اس فیصلے کو کیسے نظر انداز کردیں۔
یہ فیصلہ ماضی پر اطلاق کرتا ہے آپ اس پوائنٹ پر معاونت کریں۔حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کا اطلاق مستقبل کے کیسز پر اطلاق ہوگا، حمزہ شہباز کا وزارت اعلی الیکشن چیلنج ہی نہیں کیاگیا، اس سے متعلق مختلف معاملات کو چیلنج کیا جاتا رہا۔
جسٹس شاہد جمیل نے کہا کہ آپ سپریم کورٹ میں جاکر اس فیصلے پر نظر ثانی کروائیں، اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہم تو سپریم کورٹ کے فیصلے کا اطلاق سمجھتے ہیں، سپریم کورٹ کی تشریح موجودہ حالات میں لاگو ہوگی ، اگر ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ فیصلے کا اطلاق ماضی سے ہو گا تو ہم فوری احکامات جاری کریں گے، مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن جاری ہوتا ہے یا نہیں یہ معاملہ ہمارے سامنے نہیں، ہم الیکشن کو اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کو دیکھ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے صدارتی ریفرنس پر فیصلے میں کہا ہے کہ منحرف اراکین کا ووٹ شمار نہیں ہوگا اور پارلیمان ان کی نااہلی کی مدت کے لیے قانون سازی کرسکتی ہے۔
