ملک میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں تیزی کیوں آنے لگی؟

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے باجوڑ حملے کی مذمت کے بعد داعش نے شرپسندانہ کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔پاکستان میں رواں برس خودکش حملوں میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، گزشتہ برس کے مقابلے میں ان حملوں میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 2023 کے ابتدائی 7 ماہ کے دوران پاکستان میں 18 خودکش حملے ہوچکے ہیں، جس کے نتیجے میں 200 سے زائد جانیں ضائع ہوئیں اور 450 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔بلوچستان میں بھی دہشتگرد حملوں کی ایک تشویشناک لہر کا سامنا رہا، 2023 کے ابتدائی 7 ماہ کے دوران بلوچستان میں 4 خودکش حملے ہوئے جن میں 14 افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے اور 27 افراد زخمی ہوئے، علاوہ ازیں سندھ میں ایک خودکش حملہ ہوا جس کے نتیجے میں 5 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 18 افراد زخمی ہوئے۔یہ تشویشناک اعداد و شمار پورے 2022 میں ریکارڈ کیے گئے خودکش حملوں کی کل تعداد سے بھی زیادہ ہیں جو کہ 15 تھی۔تاہم 30 جولائی کو جے یو آئی (ف) کے اجتماع کے دوران ہونے والا حالیہ حملہ قبائلی پٹی میں رواں برس اب تک ہونے والا سب سے مہلک حملہ ثابت ہوا۔

خیبر پختونخوا میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں پہلے تسلسل کے ساتھ پولیس کو نشانہ بنایا گیا اور اب ایک سیاسی پارٹی ان حملوں کا ہدف بنی۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے، جب ملک میں نئے انتخابات کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔رواں سال کے دوران پاکستان کی افغان سرحد پر واقع اضلاع سمیت صوبہ خیبر پختونخوا کے دیگر شہروں دہشت گردی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں ابتدائی طور پر پولیس اہلکاروں اور ان کے تھانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم اتوار تیس جولائی کو باجوڑ میں جے یو آئی (ایف) کے اجتماع پر ہونے والا خود کش حملہ کے پی میں کیے جانے والے دہشت گردانہ حملوں کا ہی ایک تسلسل تھا۔

 باجوڑ حملے کے بعد جمیعت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیر اعظم سے واقعے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی اس حملے کی مذمت کی۔ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کا کہنا تھا،”دہشت گردی کی روک تھام کا واحد حل نیشنل ایکشن پلان پرمن و عن عمل درآمد ہے۔” انکا مزید کہنا تھا کہ صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات تشویشناک ہیں۔ ان کے بقول دہشت گردی میں اضافے کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں، جنہوں نے دہشت گردوں کی سہولت کاری کی۔ ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کو ‘فائٹرز’ کہنے والے کس منہ سے اس طرح کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں۔”

خیال رہے کہ سال2018ء میں قبائلی اضلاع کو خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا تھا۔ اس موقع پر ان پسماندہ اضلاع کو ملک کے دوسرے اضلاع کے برابر لانے کے لیے سالانہ ایک سو ارب روپے فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا جبکہ تقریبا انتیس ہزار غیر تربیت یافتہ سکیورٹی اہلکاروں کو پولیس میں شامل کیا گیا لیکن وفاق سمیت دیگر صوبے مطلوبہ فنڈز فراہم کرنے میں ناکام رہے۔

جب اس سلسلے میں ڈی ڈبلیو نے قبائلی اور افغان اُمور کے ماہر شمس مومند سے بات کی تو انکا کہنا تھا، "قبائلی اضلاع پاکستان کے اسٹریٹجک علاقے میں شامل ہیں اور یہاں سے ہر طرح کے فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں لیکن حکومتوں کی پالیسیویوں نے ان علاقوں کو ملک بھر کے امن و امان کیلئے خطرہ بنا کے رکھ دیا ہے ۔” ان کا کہنا تھا کہ سترسال سے بنیادی سہولیات سے محروم قبائلی عوام کو مزید محرومیوں میں دھکیل دیا گیا ہے ۔ اس تجزیہ کار کے مطابق پانچ سال میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں وعدے کےمطابق 600ارب روپے میں سے ڈیڑہ سو ارب روپے بھی فراہم نہ کرسکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جن غیر تربیت یافتہ پولیس اہلکاروں کو پختونخوا پولیس میں ضم کیا گیا انہیں گوریلا جنگ کا سامنا کرنے کے لیے نہ تو تربیت دی گئی اور نہ ہی انہیں جدید سازو سامان فراہم کیا گیا ۔شمس مومند کا کہنا تھا ،”قبائلی اضلاع میں سہولیات کا بھی فقدان ہے جبکہ اکثریتی نوجوان بے روزگار ہیں جب حکومتیں اپنی خارجہ پالیسی کا رخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو اس سے قبل اسکے لیے ہر قسم کی تیاری ضروری ہے لیکن یہاں ایسا نہیں ہوا۔” انہوں نے حکمرانوں کو خبردار کرتے ہوئےکہا،” قبائلی اضلاع کو وعدے کے مطابق ملک کے دیگر اضلاع کے برابر لایا جائے ورنہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ دہشت گردی کا یہ سلسلہ صرف پختونخوا تک محدود رہے گا "

دوسری جانب صوبائی محکمہ انسداد دہشت گردی کے عملے نے باجوڑ میں ہونے والے حملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام نے ابتدائی طور پر اسے خود کش حملہ قرار دیا ہے۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل شوکت عباس نے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ آور گروپ کی شناخت کر لی گئی ہے اور ملزمان تک تقریباﹰ پہنچ چکے ہیں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ اس دھماکے میں 10 سے 12 کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ سی ٹی ڈی نے نامعلوم افراد کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔”

آئندہ حکومت میں کس سیاستدان کی کس کرسی پر نظر ہے؟

Back to top button