مشترکہ مفادات کونسل الیکشن اگلے سال تک ملتوی کر دے گی؟

آئندہ چند روز میں منعقد ہونے والا مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ملک میں عام انتخابات کی حتمی تاریخ کا فیصلہ کرنے والا ہے. اگر پاکستان کی کونسل آف کامن انٹرسٹ یعنی مشترکہ مفادات کونسل نے 2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری کے  نتائج کی منظوری اور ان کی اشاعت کی اجازت دیدی تو آئینی تقاضوں کے پیش نظر  عام انتخابات کا انعقاد رواں سال اکتوبر یا نومبر میں ہونا ممکن نہ ہوگا اور یہ اگلے سال تک ملتوی کئے جا سکتے ہیں. و اضح رہے کہ مشترکہ مفادات کونسل یا سی سی آئی پاکستان کا ایک آئینی ادارہ ہے جس کا مقصد وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات جاری اختلافات کو ختم کرنا اور ملکی معاملات پر اتفاق راۓ سے فیصلے کرنا ہے ۔ مشترکہ مفادات کونسل کو 1973ء کی آئین کی روشنی میں قائم کیا گیا ہے، سابق صدور پرویز مشرف اور آصف زرداری دور میں یہ کیبنٹ ڈویژن کے ماتحت ادارہ تھا۔ آئین پاکستان میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد یہ ادارہ وزارتِ بین الصوبائی ہم آہنگی کو سونپا گیا ہے، سی سی آئی بنیادی طور پر وزیر اعظم پاکستان اور چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ اور چند دیگر نمایندوں  پر مشتمل ہوتا ہے۔سینئر صحافی انصار عباسی نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ   2023ء کی مردم شماری کے نتائج کی منظوری کیلئے محکمہ شماریات کو مشترکہ مفادات کونسل سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ اگر کونسل نے نتائج کی منظوری دیدی تو انتخابات میں تاخیر ہو جاۓ گی۔ وزارتِ منصوبہ بندی کے ذرائع نے  بتایا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس رواں ہفتے منعقد ہوگا۔ مردم شماری کے عمل سے وابستہ حکام نے وزارتِ پلاننگ کو بتایا ہے کہ ڈیجیٹل مردم شماری 2023ء مکمل ہو چکی ہے جبکہ نتائج کی تیاری بھی مکمل ہو چکی ہے اور اب سی سی آئی سے منظوری کا انتظار ہے۔ سی سی آئی سے منظوری کا مطلب یہ ہوگا کہ مردم شماری کے نتائج شایع کرائے جائیں گے۔ جیسے ہی مردم شماری کی منظوری دی جائے گی اور اس کے نتائج آئین کے مطابق شایع ہو جائیں گے، آئندہ عام انتخابات تازہ ترین شایع شدہ مردم شماری نتائج کی بنیاد پر ہوں گے۔ محکمہ شماریات نے حکومت کو بتایا ہے کہ مردم شماری کا پورا عمل مکمل ہو چکا ہے، اب یہ حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں پیش کرے۔ تاہم، سی سی آئی کے فیصلے کے آئندہ عام انتخابات کے وقت پر براہِ راست اثرات مرتب ہوں گے۔ اگر سی سی آئی نے نتائج کی منظوری دیدی اور ان کی اشاعت کی اجازت دیدی تو عام انتخابات کا انعقاد رواں سال اکتوبر یا نومبر میں ہونا ممکن نہ ہوگا۔ آئین کے آرٹیکل 51(3) میں واضح لکھا ہے کہ قومی اسمبلی میں نشستیں آخری مردم شماری، جو سرکاری طور پر شائع کی گئی ہے، کی مطابقت میں آبادی کی بنیاد پر ہر صوبے اور وفاقی دارالحکومت کیلئے متعین کی جائیں گی۔ پی ڈی ایم حکومت کا حصہ جماعت ایم کیو ایم اصرار کرتی آ رہی ہے کہ آئندہ عام انتخابات تازہ ترین مردم شماری کی بنیاد پر کرائے جائیں۔ پیر کو پریس کانفرنس کے دوران پارٹی رہنما خالد مقبول کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم شفاف مردم شماری کی بنیاد پر الیکشن چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ وہ اپنے ماہرین آئین اور ماہرین قانون سے مشاورت کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیاجا سکے کہ آیا نئی مردم شماری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ملک میں 2017 کی مردم شماری کی بنیاد پر عام انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔ اگر حکومت نئی مردم شماری کی بنیاد پر انتخابات کا فیصلہ کرتی ہے تو نتیجتاً حلقہ بندی کا آئینی اور قانونی تقاضا ہو گا۔ انتخابی حلقوں کی حد بندی میں چند ماہ کا وقت لگتا ہے اور یہ کام الیکشن کمیشن آف پاکستان کا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں نون لیگ کے رہنما بھی نئی مردم شماری کی بنیاد پر آئندہ عام انتخابات کی باتیں کرتے رہے ہیں لیکن اب وہ 2017 کی مردم شماری کی بنیاد پر اکتوبر یا نومبر میں انتخابات کرانے کی حمایت کر رہے ہیں۔ رواں سال جنوری میں وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا تھا کہ عام انتخابات مردم شماری اور اس کے نتیجے میں حلقہ بندیوں کے بعد ہی ممکن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے خود اپریل 2021 میں مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ نئے انتخابات مردم شماری کے بعد ہی ہوں گے۔ عام انتخابات میں تاخیر کے امکان کے بارے میں سیاست اور میڈیا میں خدشات اور تجزیے زیر بحث ہیں۔ سی سی آئی سے نئی مردم شماری کی منظوری کی صورت میں یہ معاملہ عام انتخابات میں تاخیر کا سبب بنے گا۔ دوسری جانب سینئر صحافی نصرت جاوید نے بھی مردم شماری کے تازہ نتائج کی بنا پر ام انتخابات کے التوا کے امکان کو ظاہر کیا ہے . اپنی ایک تحریر میں انہوں نے کہا ہے کہ بظاہر مشترکہ مفادات کونسل کے جس اجلاس کا ذکر ہورہا ہے اس کا واحد مقصد حال ہی میں مکمل ہوئی مردم شماری کا ”سرکاری طور“ پر تسلیم کرنابتایا جارہا ہے۔اگرچہ یہ خیال درست ثابت ہوا تو انتخابات کے انعقاد کے لئے نوے دنوں سے بڑھ کر مزید چند مہینوں تک انتظار کرنا ہوگا۔ آئین اس امر کا متقاضی ہے کہ اگر مشترکہ مفادات کی کونسل نئی مردم شماری کو ”اپنالے“ تو الیکشن کمیشن اس کی روشنی میں تازہ حلقہ بندیوں کا اہتمام کرے۔اس کے علاوہ یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ کونسے صوبے کو قومی اسمبلی کی کتنی نشستیں دینا ہوں گی۔مشترکہ مفادات کونسل کے جس اجلاس کا ”ذرائع“ منتظر ہیں اس کی بابت وزیر اعظم اور ان کی حکومت کی خاموشی

سوشل میڈیا ارسطوں کی تواضع کا مطالبہ زور کیوں پکڑنے لگا؟

مجھ شکی مزاج کو ”پراسرار“ دِکھنا شروع ہوگئی ہے۔

Back to top button