سوشل میڈیا ارسطوں کی تواضع کا مطالبہ زور کیوں پکڑنے لگا؟

پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے میٹرک بورڈز نے پیر کو امتحانی نتائج کا اعلان کیا تو سوشل ٹائم لائنز اپنا پسندیدہ موقع سامنے پا کر خاموش نہ رہ سکیں۔سوشل پلیٹ فارمز پر مختلف افراد نے جہاں کامیاب امیدواروں کو مبارکباد دی اور رہ جانے والوں کی ہمت بندائی وہیں مختلف علاقوں کے تعلیمی بورڈز کی کارکردگی پر گفتگو ہوئی۔

لاہور میٹرک بورڈ کے نتائج میں کامیاب امیدوارں کے تناسب پر حیرت ظاہر کرنے والے میمز کے ساتھ سامنے آئے۔ ایسے ہی ایک فرد نے افریقی شہری کو لاہور کے میٹرک کے امتحانات میں کامیاب بتایا تو لکھا کہ ’لاہور بورڈ کے سامنے سے گزر رہا تھا انہوں نے مجھے بھی 900 نمبر دے دیے۔‘بورڈ امتحانات کے نتائج میں ناکام امیدواروں کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے کہ نسبتا سنجیدہ گفتگو تازہ ہوئی تو ناکام ہونے والوں کو سبق سکھانے کی تجویز دی گئی۔

بچے کو جسمانی سزا دینے کے ایک خواہشمند کا کہنا تھا کہ ’اسے بتائیں کہ آپ نے حرام کے پیسے خرچ نہیں کئے اور یہ کہ اس کی پڑھنے کے سوا کوئی دوسری ذمے داری نہیں۔ یہ بھی کہ نمبر ہی اہم ہیں کیونکہ ان کی بنیاد پر ہی اسے اچھے ادارے میں داخلہ مل سکتا تھا اور سکالر شپ بھی جو آپ کا خرچہ گھٹاتے اور عزت بڑھاتے۔ کوئی ادارہ کی اس کی پرسنیلٹی، نادیدہ ٹیلنٹ اور عزت نفس ماپ کے داخلہ نہیں دے گا کیونکہ اس نے داخلہ دینا، پڑھانا اور رزلٹ دینا ہے اسے شاہ رخ یا عمران ہاشمی نہیں بنانا۔‘

مختلف وجوہات بتا کر جسمانی سزا کے موقف سے اختلاف کرنے والوں کے بیچ کچھ ایسے افراد بھی شریک گفتگو ہوئے جو خود کو ’بدقسمت نسل‘ تسلیم کرگئے۔سنی بشیر کو تعلیمی نظام و معیار سے شکوہ ہوا تو لکھا کہ ’کون سی تعلیم، سب ڈگریاں بانٹنے کے کارخانے ہیں۔’میٹرک ریزلٹ 2003‘ کا ٹرینڈ بنا تو کہیں خود کو ’کیپٹن‘ بتانے والی ’محترمہ‘ بائیو میں فیل ہونے پر ٹسوئے بہاتی دکھائی دی، کوئی نتائج کے بعد ناکام امیدواروں کی ’عزات افزائی‘ کی اطلاع دینے میں مصروف رہا۔

میٹرک کا ریزلٹ آنے کے بعد ’سلائی مشین اور رکشہ کی مانگ میں اضافے‘ جیسے معاشی خبریں بھی ٹوئٹس کا موضوع بنیں۔اچھے نمبر لے کر کامیاب ہونے والوں کو ’رشتہ داروں کے منہ چھپانے‘ پر خوشی ہوئی تو سلاخوں کے پیچھے ایسے کردار بھی دکھائے۔میٹرک نتائج اور ان کے انجام سے متعلق بات بڑھتے بڑھتے موسمی خبرنامے تک پہنچی تو ’گھروں میں خوشگوار، گرم اور

بشریٰ بی بی TV اینکرز پر برہم کیوں ہیں؟

گرم چمک‘ والے موسم کا تذکرہ بھی ہوا۔

Back to top button