کیا ویگو ڈالے عمران مخالف تنقیدی آوازیں بند کروا سکیں گے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ خاتون اول بشریٰ بی بی کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کی حساسیت سمجھی جاسکتی ہے۔ کوئی شخص بھی نہیں چاہتا کہ اس کے گھر کی بات بازار میں ہو۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دوسرے لوگوں کی عزت، ناموس اور غیرت کو سربازار نیلام کیا جاسکتا ہے؟
انکا کہنا یے کہ خواتین کی حرمت کا سلسلہ کسی ایک شخص، خاندان اور جماعت کی حد تک محدود نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی آپ اپنے خلاف بات کرنے والے ہر بندے کو گرفتار کر سکتے ہیں کیونکہ پاکستان میں 22 کروڑ ’ویگو ڈالے‘ ہی موجود نہیں ہیں جو یہ ٹاسک پورا کر سکیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت کے لیے کچھ موضوعات بہت حساس واقع ہوئے ہیں جن پر گفتگو کرنے والوں کو صرف دشنام کا ہی نشانہ نہیں بنایا جاتا بلکہ اب تو گرفتاریوں اور تشدد کا سلسلہ بھی جوبن پر پہنچ چکا ہے۔ عقوبت خانوں کی بہاریں لوٹ آنے کا موسم ہے۔ جیسے ہی کسی نے ایسے حساس موضوعات کا حوالہ دیا تو اسکے خلاف ’دہشت گردی‘ کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کبھی ایف آئی اے اور نیب کو آلے کی طرح استعمال کیا جاتا ہے تو کبھی پیمرا کسی غلام کی طرح حاکم وقت کی خدمت بجا لانے کے لیے حاضر ہوجاتا ہے۔ کبھی ان مقاصد کے لیے پولیس کا استعمال کیا جاتا ہے۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کو شاید اس بات کا علم نہیں کہ اس قوم کی نفسیات عجیب ہے، انہیں ذرا سی بھِنک پڑ جائے کہ فلاں شخص کسی بات سے چِڑتا ہے تو بس پھر سارا ملک ہی وہی بات کہنے پر مصر نظر آئے گا۔ اس قوم کو حکومت وقت نے نیا شغل عطا کردیا ہے۔ بہت سے لوگ ٹاک شوز میں وہی بات کررہے ہیں جو بات ان کو بہت ناگوار گزرتی ہے۔
کوئی سوشل میڈیا پر ان موضوعات کو لیکر بیٹھ جاتا ہے تو دور سے ’اوئے اوئے‘ کا نعرہ لگا کر نکل جاتا ہے۔ تحریک انصاف کی صفوں میں بیٹھے شعبدہ بازوں میں عقل ہوتی تو وہ ان باتوں کو اتنا بڑا ایشو ہی نہ بننے دیتے، لیکن اب تیر کمان سے نکل چکا۔ گرفتاریاں ہوچکیں۔
سوشل میڈیا ٹرینڈز بن چکے۔ وزیرِ مواصلات مراد سعید کی زبردست کارکردگی موضوع گفتگو بن چکی۔ مہنگائی غریب کی زندگی کو ڈس چکی۔ اب ان موضوعات پر انتقامی کارروائیاں نہیں صرف خاموشی ہی تحریک انصاف کا بھرم رکھ سکتی ہے۔
فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج
عمار کے بقول خاتون اول کے حوالے سے وزیراعظم کی حساسیت سمجھی جاسکتی ہے۔ کوئی شخص بھی نہیں چاہتا کہ اس کے گھر کی بات بازار میں ہو۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی کی بھی عزت، ناموس، غیرت کو سربازار نیلام کیا جاسکتا ہے؟ اس کے کردار، قابلیت، اہلیت اور جنس کا تمسخر اُڑایا جاسکتا ہے؟ اس روایت میں حصہ ڈالنے والوں میں خود تحریکِ انصاف کے لوگ یا اتحادی بھی ہیں۔ شیخ رشید، فیاض چوہان، فردوس عاشق اعوان، فواد چوہدری، علی امین گنڈاپور کی زبان جو پھول بکھیرتی رہی ہے وہ سب کو یاد ہے۔
حتیٰ کہ اپوزیشن وزیرِاعظم پر بھی الزام لگاتی ہے کہ وہ مخالفین کے بارے میں بات کرتے ہوئے بنیادی اخلاقیات تک کو فراموش کردیتے ہیں۔ وزیرِ اعظم کے ساتھیوں کے بہت سے بیانات آج تک کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہیں۔ آلودہ زبان کی زد میں دوسری سیاسی اور صحافی خواتین بھی آئی ہیں اور ان کے بارے جو طرز عمل رہا ہے وہ کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں رہا۔
کیا کیا تہمت نہیں لگائی گئی مریم نواز پر۔ کیا کیا الزام نہیں لگایا گیا حکومت کی ناقد خاتون صحافیوں پر، کس کس طرح کی تضحیک نہیں کی خاتون سیاسی کارکنوں کی۔ کون کون سی گالی ہے جو ان خواتین کے خلاف سوشل میڈیا ٹرینڈز کا حصہ نہیں رہی۔
عمار مسعود کہتے ہیں تب تو نہ کوئی تردید آئی نہ کسی نے اس عہد دشنام کا نوٹس لیا۔ بلکہ بقولِ اپوزیشن اس طرح کی نفرت انگیز گفتگو کو ہلہ شیری دی گئی اور ٹرولز اور سوشل میڈیا ٹرینڈز کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی ہوئی۔ یہ سب تکلیف دہ باتیں ہیں مگر ان میں سب سے اذیت ناک رویہ وہ ہے جو تحریک انصاف کے کچھ ترجمانوں، چند مشیروں، اور کچھ وزرا نے بیگم کلثوم نواز اور نواز شریف کی والدہ کی علالت اور انتقال سے متعلق روا رکھا۔ بیگم کلثوم نواز کی علالت کو کئی ٹاک شوز میں ڈرامہ قرار دیا گیا۔
نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کا بہانہ قرار دیا گیا۔ ہر ٹاک شو میں ایک جاں بلب مریضہ کی رپورٹس لہرائی گئیں۔ ایک متوالا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تحریک انصاف سے ہے، مریضہ کے کمرے میں بھی گھس گیا یہ دیکھنے کے لیے کہ تین مرتبہ کے وزیر اعظم کی اہلیہ، ایک خاتون، ایک انسان حیات ہیں اور کیا جسد میں کچھ سانسیں باقی ہیں؟
عمار کہتے ہیں کہ بات صرف اتنی ہے کہ اگر خواتین کی حرمت کا سلسلہ کسی ایک شخص، خاندان اور جماعت پر موقوف نہیں ہونا چاہیے۔ ایک اور بات کہ آپ اپنے خلاف ہر بات کرنے والے کو گرفتار نہیں کرسکتے اس لیے کہ پاکستان میں 22 کروڑ ’ویگو ڈالے‘ ہی نہیں ہیں۔
