کے پی میں کابینہ نہ ہونے کی وجہ سے صوبے کا نظام ٹھپ ہو گیا

خیبر پختون خواہ کے نئے وزیر اعلی کو حلف اٹھائے کئی ہفتے گزر چکے لیکن ان کی جانب سے صوبائی کابینہ کا اعلان نہ کرنے کے باعث حکومتی نظام مکمل طور پر جمود کا شکار ہو گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی وزراء کی غیر موجودگی میں تمام محکموں میں روٹین کا بزنس بھی ٹھپ ہو چکا ہے لیکن وزیراعلی کی ضد ہے کہ وہ عمران خان سے منظوری لیے بغیر کابینہ کا اعلان نہیں کریں گے۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود انتظامیہ نے سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقات کروانے سے اس لیے انکار کر دیا تھا کہ وہ ایک جلوس کی صورت میں اڈیالہ جیل جانا چاہتے تھے۔ جب انہیں روکا گیا تو انہوں نے سڑک پر دھرنا دے دیا جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ فیصلہ سازوں کی جانب سے خیبرپختونخوا کے نئے وزیرِاعلیٰ کے ساتھ سخت رویہ بنانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بہت جارحانہ زبان استعمال کر رہے ہیں، سہیل آفریدی نے پہلے چارسدّہ، پھر خیبر میں اعلان کیا کہ وہ عمران کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
حال ہی میں کرک کے جلسے میں اُنہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی 10 اکتوبر کو پشاور میں ہونے والی پریس کانفرنس کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے خلاف گھٹیا لہجہ استعمال کیا گیا، اور انتہائی بد تمیزی کی گئی، ان کا کہنا تھا کہ مجھے دھمکانے کے لیے فوجی ترجمان نے پشاور آ کر پریس کانفرنس کی، اسکے علاوہ وفاقی وزراء نے مجھ پر غلیظ اور گھٹیا الزامات لگائے، لیکن میں نے مہذب طریقے سے ان کے الزامات کا جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مجھے ناکام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن میرے اعصاب مضبوط ہیں۔سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم دلیر ہیں، اور کسی سے ڈرنے والے نہیں اور اسلام آباد کی جانب جلد لانگ مارچ شروع کریں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈا پور کو ہٹا کر سہیل آفریدی کو وزیر اعلٰی بنانے سے یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ عمران نے اُنہیں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جارحانہ انداز اپنانے کے لیے اقتدار دیا ہے تاکہ وہ ان کی رہائی کے لیے دباؤ بڑھا سکیں۔ سہیل آفریدی نے اپنی پہلی تقریر میں بھی کہا کہ اُن کا واحد مقصد صرف اور صرف اور صرف عمران خان کی رہائی ہے۔ لیکن ٹکراؤ کی اس پالیسی سے خیبر پختون خواہ میں حکومتی مشینری مکمل طور پر معطل ہو گئی ہے چونکہ ابھی تک صوبائی کابینہ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی اس لیے بھی کابینہ کا اعلان نہیں کر رہے کیوں کہ انہیں یہ خدشہ ہے کہ جن لوگوں کو وزیر نہیں بنایا جائے گا وہ ان کے خلاف بغاوت کر سکتے ہیں لہذا وہ عمران خان سے ملاقات کے بعد ہی کابینہ کا اعلان کریں گے۔ پشاور کے معروف صحافی لحاظ علی کے مطابق خیبرپُختونخوا کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان ہے، تحریک اِنصاف اِسی کو کیش کروا رہی ہے اور یہ بیانیہ بیچنے کی کوشش کر رہی ہے کہ سب کچھ اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود اور وہاں ترقیاتی کام کروانا پچھلے 13 برس میں تحریکِ اِنصاف کی ترجیح نہیں رہی۔ سہیل آفریدی نے بھی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں یہ واضح کر دیا تھا کہ ہمیں ترقیاتی کاموں کے لیے نہیں بلکہ عمران خان کی رہائی کے لیے اقتدار میں لایا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کی بطور وزیر اعلیٰ تقرری عمران کی اُسی پالیسی کا حصّہ ہے جسے وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف محاذ آرائی کرنا چاہتے ہیں اور سہیل آفریدی بھی اِس بات کو جانتے ہیں۔ عمران خان کو یہ اندازہ ہے کہ سہیل مصلحتوں کا شکار نہیں ہوں گے۔ ادھر اسٹیبلشمنٹ کو بھی اندازہ تھا کہ سہیل کس طرح کی شخصیت ہیں لہذا لیے ڈی جی آئی ایس پی آر نے ان کے انتخاب سے پہلے پشاور پہنچ کر ایک پریس کانفرنس کی اور واضح کیا کہ کسی بھی ریاست مخالف شخص کو اقتدار میں نہیں آنے دیا جائے گا۔ اس کے باوجود سہیل آفریدی نے وزیراعلی بن کر فلور آف دی ہاؤس پر ڈی جی آئی ایس پی آر کو چیلنج کیا اور یہ اعلان کیا کہ وہ خیبر پختون خواہ میں طالبان کے خلاف کوئی فوجی آپریشن نہیں ہونے دیں گے۔
ایسے میں تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ سہیل آفریدی کو بہت جلد وزارت اعلی سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر معاملات زیادہ خراب ہوئے تو کے پی میں گورنر راج بھی لگ سکتا ہے اور حکومت کا خاتمہ بھی ہو سکتا ہے۔ معروف صحافی اور تجزیہ نگار حماد حسن کے مطابق تحریک اِنصاف کا اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ تو پہلے سے موجود ہے۔ اگرچہ اِس جماعت کو خیبرپختونخوا میں مینڈیٹ حاصل ہے لیکن مینڈیٹ ریاست سے بڑا نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلٰی سہیل آفریدی نے اپنے انتخاب سے اب تک نہ تو صوبائی کابینہ کا اعلان کیا ہے اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ وہ صوبے کو کیسے چلائیں گے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کیا منصوبہ بنائیں گے۔ اُنہوں نے نہ تو صوبے کی بہتری کے لیے کسی ترقیاتی سکیم کی بات کی ہے اور نہ ہی کوئی منصوبہ پیش کیا ہے۔ اپنے چارسدّہ اور خیبر کے جلسوں کے دوران بھی اُنہوں نے فوج کے حوالے سے ایسی ہی زبان استعمال کی جو ٹکراؤ کی پالیسی کو اُجاگر کرتی ہے۔
تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ سہیل آفریدی صرف بیانیے کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن عملی طور پر نہ تو علی امین گنڈا پور نے صوبے کے عوام کے لیے کچھ کیا اور نہ ہی سہیل آفریدی کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پشاور کے سینئر صحافی علی اکبر کے مطابق سہیل آفریدی کو وزیر اعلٰی بنے دو ہفتے سے ہو گئے لیکن ابھی تک اُنہوں نے اپنی کابینہ تشکیل نہیں دی۔ اُن کے پاس بہانہ یہ ہے کہ جب تک انہیں عمران خان سے نہیں ملنے دیا جاتا وہ کابینہ تشکیل نہیں دے سکتے۔ بنیادی طور پر اِس وقت وزیراعلٰی کے پاس کوئی کام ہے نہیں۔ صوبائی کابینہ کی عدم موجودگی میں سرکاری مشینری رُک گئی ہے، ایسے میں وزیراعلٰی نے سوچا کہ مختلف علاقوں کے دورے کرے اور وہاں جا کر یہ کہیں کہ میں کابینہ اس لیے نہیں بنا پا رہا کہ عمران سے اسکی منظوری کے لیے ملاقات ضروری ہے۔ علی اکبر نے کہا کہ اگر یہ بہانہ دور کر کے ملاقات کرا دی جائے تو پھر وزیراعلٰی خیبرپختونخوا کے پاس کوئی بہانہ نہیں رہے گا، پھر لوگ کارکردگی دکھانے کا مطالبہ کریں گے، لیکن فی الحال وہ مظلوم بنے پھرتے ہیں۔
