قصہ سوتے جاگتے کا

تحریر: عطا ء الحق قاسمی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
ہمیں تو اب کچھ یوں لگتا ہے کہ یہ سونا بھی ایک فنِ لطیف ہے اور یوں اسے با قاعدہ فنون لطیفہ میں شامل ہونا چاہیے ۔ مثلاً ہمارے ایک دوست، احباب کیساتھ گپ شپ کرتے ، لطیفے سناتے اور قہقہے لگاتے ہوئے اچانک جیب میں سے تاریک شیشوں کی بینک نکالتے ہیں اور پھر کسی کیساتھ ٹیک لگا کر چند منٹوں کی خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔

یہ چند منٹوں کی خاموشی دراصل انکا قیلولہ ہوتی ہے، مگر احباب کو اس کا علم اس وقت ہوتا ہے جب وہ عینک دوبارہ جیب میں ڈال کر میز پر کہنیاں ٹیکتے ہوئے از سرنو ایک تہ لگاتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ حضرات میں اپنی نیند پوری کر چکا ہوں اور اسکے بعد یہ حضرت واقعی تازہ دم نظر آنے لگتے ہیں ۔ کچھ ماہر فن ہم نے ایسے بھی دیکھے ہیں جو کسی ادبی محفل میں مضمون ، افسانہ یا غزل پڑھے جانے کے دوران با قاعدہ خواب استراحت کے مزے لے رہے ہوتے ہیں لیکن جب اس فن پارے پر بحث کا آغاز ہوتا ہے تو انکی فیصلہ کن قسم کی گفتگو سے یوں لگتا ہے جیسے اس فن پارے کی ریڈنگ کےدور ان باقی شرکائے محفل تو سوئے ہوئے تھے صرف وہی جاگ رہے تھے۔

لیکن کچھ سونے والے انکے سوا بھی ہیں اور یہ وہ اصحاب خوابیدہ ہیں جن کا مقابلہ کوئی مائی کالال نہیں کر سکتا۔ ان میں ہمارے ایک دوست بھی شامل ہیں اور اگر اسے اقربا پروری نہ سمجھا جائے تو یقین جانیں کہ فی زمانہ وہ اس فن کےچیمپئن ہیں۔ یہ حضرت گفتگو کرتے کرتے اچانک خاموش ہو جاتے ہیں۔ اسکے ساتھ ہی ان کی ٹھوڑی ایک جھٹکے کے ساتھ انکے سینے کے ساتھ جا لگتی ہے اور پھر ان کے نتھنوں سے خرخراہٹ سی سنائی دینے لگتی ہے۔ اس فعل کے دوران انکی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں اور بسا اوقات کھلی بھی رہتی ہیں ، لیکن یہ کیفیت صرف ایک منٹ تک برقرار رہتی ہے۔ اس کے بعد وہ دوبارہ سر بلند ہوتے ہیں اور گفتگو جہاں سے چھوڑی تھی وہیں سے شروع کر دیتے ہیں ، مگر دو تین فقروں کے بعد دوبارہ ان کی ٹھوڑی ایک جھٹکے کے ساتھ ان کے سینے کے ساتھ جا ٹکراتی ہے۔ پھر خراٹوں کی آواز آتی ہے اور اس کے ایک منٹ کے بعد دوبارہ اپنی گفتگو کا بقیہ بیان فرمانے لگتے ہیں ۔ ان کے ساتھ بات چیت کا ایک سین ملاحظہ فرمائیں :یار کل تم نے آنے کا وعدہ کیا تھا مگر تم آئے ہی نہیں ۔’’وہ دراصل میں ایک کام میں ایسا اُلجھا کہ کوشش کے باوجود نہ آسکا۔ میں اس کیلئے معافی خر خر خر خر خر چاہتا ہوں ۔‘‘

کل کا کیا پروگرام ہے؟’’کل تو میں نہیں آ سکوں گا ۔‘‘

کیوں ؟’’میں کئی دنوں سے ایک منٹ کے لیے بھی خر خر خر خر خر سو ….نہیں سکا۔ کل ذرا سونا چاہتا ہوں ۔‘‘

اپنے اس دوست کے ساتھ متعدد بار موبائل پر بھی ہماری گفتگو ہوئی ہے۔ اسکی نوعیت کچھ اس طرح کی ہوتی ہے۔

ہیلو خاور؟’’ہاں بول رہا ہوں‘‘تم ابھی گھر پر ہی ہو ۔ کہیں جانا تو نہیں؟،’’خر خر خر خر‘‘۔۔ہیلو ہیلو۔۔’’خر خر خر‘‘

پہلے تو ہم سمجھتے تھے کہ شاید سونے کا یہ انداز بھی اپنی نوع کا فن لطیفہ ہے لیکن ایک ڈاکٹر دوست سے ملاقات ہوئی تو اس نے تردید کی اور کہا کہ سونے کا یہ انداز فنون لطیفہ کے زمرے میں نہیں آتا ، بلکہ یہ ایک بیماری ہے۔ ہم نے اس بیماری کے عوامل پوچھے تو انہوں نے کہا یہ تمہاری سمجھ میں نہیں آئینگے۔ بس تم ہمارے کہے پر اعتبار کر لو، سو ہم نے اپنے اس ڈاکٹر دوست کے کہنے پر اعتبار تو کر لیا مگر طبیعت خاصی مکدر ہو گئی ہے کہ انکی اس تشخیص کا اطلاق تو خود ہم پر بھی ہوتا ہے۔ ہم بھی ڈائیلاگ ادھورا چھوڑ کر درمیان میں خراٹے لینے لگتے ہیں اور اس دوران کوئی بھیانک خواب دیکھ کر ہڑ بڑا کر اُٹھ بیٹھتے ہیں ، مگر اس وقت تک چڑیاں کھیت چک گئی ہوتی ہیں ۔ ہم نے مشرقی پاکستان کے ساتھ بھی ادھورا ڈائیلاگ کیا ۔ ”ہیلو“ کے جواب میں انہیں خرخراہٹ سنائی دیتی رہی اور پھر ہم ایک دوسرے سے جدا ہو گئے ۔ ہمارے کتنے اس سال سوتے جاگتے کا قصہ ہیں ۔ ہم اس قصے کا مرکزی کردار ہیں۔

 

Back to top button