سیاست کو راستہ چاہیے

تحریر: حفیظ اللہ نیازی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
راستہ نہ ملا تو مٹ جاؤ گے ، اے اہلِ پاکستان !تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔ ریاست ایک جسم جبکہ سیاست اسکی روح ہے ۔ ریاست مکینوں کے بغیر کچھ نہیں ، سیاست نے ریاست اور مکینوں کے درمیان رشتے کو دوام بخشنا ہے۔ شعور کی آنکھ کھولی تو نظریاتی آئیڈیلزم کی بھینٹ چڑھ گیا۔ پہلا سبق کہ ریاست کی بنیاد سیاست ہے۔ پاکستان کا قیام تاریخ کا ایک عظیم کرشمہ، عظیم قائد کی مدبرانہ سیاست کا شاہکار ہے۔ میں نے اپنی جوانی نظریاتی سیاست کے نام کی، ساری توانائیاں بغیر کسی غرض و مفاد کے مملکت کیلئے وقف رکھیں تاکہ ریاست نظریاتی سیاست کے زیرِ اثر رہے ۔ سیاست کو سنوارنا اور سدھارنا میری زندگی کا نصب العین بنایا۔ افسوس ! ریاست کو سیاست سے محروم کرنیوالے پہلے دن سے صفِ اول میں گھس بیٹھے۔ عقیدہ پختہ کہ ریاست اور سیاست کو جوڑے رکھنا ہے، رخنہ ڈالنے والوں کیخلاف جدوجہد کو اوّل شعار بنایا ۔ بدنصیب مملکت ! اپریل 2014ء کی ایک صبح وطنی طول و عرض میں قدآور ہورڈنگز آویزاں دیکھے، کراچی سے چترال تک یکساں نعرہ درج تھا، سیاست نہیں، ریاست بچاؤ ۔ آخر کو فکر لاحق ہوئی سیاست پر ایسی کیا اُفتاد آن پڑی کہ ریاست کو بچانا پڑ گیا ۔ ریاست بمقابلہ سیاست، ایسی کھلی جنگ، یاالٰہی یہ ماجرا کیا ہے ۔ سیاست تو ہمیشہ سےریاست کے رحم و کرم پر رہی، بے یار و مددگار اور مفلوک الحال سیاست کئی بار راند ہ درگاہ ہوئی۔ تب ہی طے کر لیا کہ تن، من، دھن سے سیاست کا ساتھ دینا ہے۔ میرے نزدیک ریاست کے دوام کیلئے سیاست کا مضبوط ہونا انتہائی ضروری ہے۔ ریاست اور سیاست ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی طاقت ہیں۔ مضبوط، آزاد، باوقار ریاست زندہ سیاست سے جڑی ہے ۔

پچھلے ہفتہ کا کالم نہ تو کسی کو ناراض کرنے کیلئے تھا اور نہ ہی کسی کو خوش کرنے یا منانے کیلئے، کالم پر ایک سوشل میڈیا طوفان برپا ہو گیا ۔ مجھے نہ اختلاف و تنقید کرنے والوں سے کوئی گلہ ہے اور نہ ہی داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے جانے سے آسودگی۔ میری تکلیف فقط اتنی کہ میں اپنے تئیں ریاست اور سیاست دونوں کو بند گلی میں دیکھتا ہوں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز (سیاسی جماعتیں اور ادارے) اپنے اپنے مفاداتی ایجنڈے کی ترویج و نشوونما میں تن من دھن سے جُتے ہیں۔ ذاتی مفادات کو وطنی مفادات پر فوقیت و ترجیح دے چکے ہیں۔ وطنی اشرافیہ میں ایک بھی ایسا نہیں جو پاکستان کے مفاد کیلئے اپنے ذاتی مفادات کی قربانی دے۔ سیاست زینہ ہے جمہور کی آواز کا اور جمہور ہی مستحکم سیاسی نظام اور آئین دیتا ہے۔ پاکستان کے موجودہ بحران کا حل وزیرداخلہ کے بیان سے جڑا ہے اور نہ ہی نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس بنانے میں ہے۔ مانا کہ ایک بہترین عمل ہے مگر سیاست کی غیر موجودگی میں یہ سب کچھ پاکستان کے حصے بخرے کرنے کا آزمودہ فارمولا ہے ۔ ایسے اسکرپٹ ریاست کو کمزور کرنے کا باعث بنتے ہیں ۔ اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ کئی نئے مسائل پیدا ہونگے۔ میری کسی سیاسی جماعت سے وابستگی نہیں۔ مسلم لیگ ن، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی یا کسی دوسری سیاسی جماعت سے نہ تو دلچسپی اور نہ ہی میرا کسی حکومت یا ادارے سے کوئی ذاتی مفاد وابستہ ہے۔ میری دلچسپی صرف پاکستان کے محفوظ اور توانا مستقبل سے ہے۔ پاکستان کا بنیادی بحران سیاسی ہے، اس لئے اس کا حل بھی سیاسی ہی ہوگا ۔ وزیرداخلہ بجائے ٹامک ٹوئیاں مارنے کے، بہتر ہوتا کہ تحریک انصاف، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، مولانا فضل الرحمن ، جماعت اسلامی اور دیگر تمام بڑی سیاسی قوتوں کو کسی نہ کسی شکل میں ایک میز پر بٹھاتے۔ پچھلے ہفتہ کے کالم کا پیغام نہایت سادہ ، مگر انتہائی اہم کہ ذاتی نفرتوں، غصے، انا اور سیاسی انتقام سے اوپر اٹھ کر پاکستان کا سوچیے ۔ اسی تناظر میں جب میں نے عمران خان سے اپنی رنجشیں ختم کیں تو اپنے آپ کو ہلکا محسوس کیا۔ صدحیف ! ریاست نے سیاست کو بچانا تھا ، آج وہ سیاست کی بیخ کنی پر آمادہ دکھائی دیتی ہے ۔ پچھلے کالم کے تسلسل میں آج چند حقائق مختصراً عرض کرنے ہیں تفصیل پھر کبھی سہی ، تاریخ کا حصہ بنانا ہے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آ سکیں ۔

جولائی 2014 ء میں عمران خان اور طاہر القادری نے آزادی مارچ کا اعلان کیا ، تو 12 اگست 2014 ء تحریک انصاف کراچی کے دوست فردوس نقوی، علی زیدی ( شاید ڈاکٹر علوی ) سے ایک کلب میں نشست ہوئی۔ ہاتھ جوڑ کر عرض کی کہ آپ لوگوں کا یہ لانگ مارچ نواز شریف حکومت کیخلاف نہیں بلکہ پاکستان کیخلاف سازش ہے، خدارا عمران خان کو اس کا حصہ بننے سے روکیں ۔ فاسٹ فارورڈ ، مارچ 2019ء کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف صاحب سے ملاقات کا موقع ملا تو درجنوں لوگوں کی موجودگی میں عرض کیا کہ میاں صاحب چند سال بعد عمران خان اسی جیل میں ہوگا۔ عمران خان پر مجھ سے زیادہ کسی کو غصہ نہیں۔ اس کے باوجود میری مودبانہ التجا ہے کہ عمران خان پر جب بھی ایسا کڑا وقت آئے تو آپ نے اس کے خلاف کسی کا مہرہ نہیں بننا۔ جس طرح عمران خان مہرہ بن کر کئی سال سے آپ سے خلاف نبردآزما ہے۔ قبل ازیں ، ستمبر 2018ءمیں عمران خان جب اقتدار میں آئے تو ان کے مشیر اعلیٰ معتمد خاص نعیم الحق (مرحوم) اور دسمبر 2018 ء میں سینیٹر سیف اللہ نیازی ( ماشاء اللہ موجود ہیں ) سے اپنے طور اپنی کاوش سے اسلام آباد پہنچ کر ملاقات کی کہ وزیراعظم عمران خان کو سمجھائیں کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کیساتھ تناؤ ختم کریں، وہ تمہارا حفاظتی پشتہ ہیں، اپنی خیریت چاہتے ہو تو انکی حفاظت کرو ۔ اقتدار کے نشے میں میری بات سنی اَن سنی کر دی گئی۔ عمران خان کیخلاف تحریک ِ عدم اعتماد سے بہت پہلے دسمبر 2021ء مریم نواز سے جاتی امرا میں اور شاہد خاقان عباسی سے اسلام آباد ان کے گھر پر اور جنوری 2022 ء میں مسلم لیگ ن کی درجن بھر اعلیٰ قیادت سے اسی موضوع پر ملاقاتیں کیں، اسحاق ڈار ( لندن ) کے گوش گزار کیا کہ مسلم لیگ ن، عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کی لڑائی سے اپنے آپ کو دور رکھیں، عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہ لائیں۔ میری آواز صدابہ صحرا ،اور کچھ نہیں ۔

2022 ء سے دوبارہ کالم لکھنا شروع کیا تو تسلسل کیساتھ ایک ہی رٹ کہ چونکہ خلقت خدا عمران خان کے سحر میں مبتلا ہے، عمران خان کو آن بورڈ کئے بغیر مملکت ایک قدم آگے بڑھے گی تو دو قدم پیچھے پھسل جائے گی۔ پچھلے 3سال اور پچھلے کالم سمیت بار بار تکرار کیساتھ بتاچکا ہوں کہ خلقت خدا، خزانہ اور لشکر تینوں کا اکٹھا ہونا ضروری ہے۔ ریاست کے تین بنیادی ستون : عوام، قومی وسائل اور ریاستی قوت، جب تک تینوں ہم آہنگ نہ ہوں ریاست ریت کا گھروندا ثابت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کی سیاست ، معاشرت، ثقافت کا ایک رہنما اصول ہمیشہ سے درج کہ وطن عزیز اشرافیہ کی دوسری ترجیح، پہلی ترجیح ہر وطنی سیاستدان اور ملکی معزیزین کی، ان کی اپنی ذات مبارکہ ہے۔ اگرچہ افواہیں، خوش آئند کہ عمران خان سے ملاقاتیں عنقریب کھلنے کو ہیں ، خبر یہ بھی گرم کہ عمران اور بشریٰ بی بی شاید جلد بنی گالا منتقل ہونے کو ہیں ، اللہ کرے ایسا ہی ہو ۔ سیاست کو راستہ ملے گا تو ملک آگے بڑھے گا۔ راستہ نہ ملا تو داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں۔

 

Back to top button