پنجاب میں تین دریاؤں کا قہر: ہزاروں بے گھر، بستیاں زیرِ آب، ریسکیو آپریشن جاری

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے اور مسلسل بارشوں کے باعث دریائے چناب، ستلج اور راوی میں سیلابی صورتحال بدستور برقرار ہے۔ لاہور سمیت کئی علاقوں میں سیلابی پانی داخل ہو چکا ہے۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج، ریسکیو ٹیموں اور ضلعی انتظامیہ نے فوری ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے سیلاب میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے لیے 20 لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان کیا ہے۔

پنجاب کے مختلف اضلاع میں بستیاں اور گلیاں دریا کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ کئی لوگ اپنے مکانوں کی چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں، جب کہ کچھ شہری اپنی بچی کھچی جمع پونجی سمیٹے محفوظ مقامات کی جانب روانہ ہو رہے ہیں۔

وزیرآباد، قصور، نارووال، حافظ آباد، کمالیہ، منڈی بہاؤالدین، بہاول نگر، سیالکوٹ، سرگودھا، وہاڑی اور پاکپتن کے دیہات شدید متاثر ہوئے ہیں۔ کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے، اور عارضی بند ٹوٹنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

پی ڈی ایم اے کی رپورٹ

ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان کاٹھیا کے مطابق موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے، اور غیر متوقع بارشوں کے باعث فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق اب تک سیلاب سے پنجاب میں 20 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں سب سے زیادہ اموات گوجرانوالہ میں ہوئیں۔ جاں بحق افراد کے ورثاء کو 10 لاکھ روپے فی کس دیے جائیں گے، اور اب تک تین لاکھ سے زائد مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

فیصل آباد کے علاقے تاندلیانوالہ میں دریائے راوی میں پانی کی سطح بلند ہونے پر نشیبی آبادیوں کی منتقلی جاری ہے۔ چنیوٹ میں دریائے چناب پر پانی کا بہاؤ 8 لاکھ 30 ہزار 100 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

لاہور کے شاہدرہ کے مقام پر دریائے راوی میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، جس سے فرخ آباد، عزیز کالونی، امین پارک، افغان کالونی، شفیق آباد اور مریدوالا کے علاقے متاثر ہوئے ہیں۔

راجن پور کے ڈپٹی کمشنر شفقت اللہ مشتاق نے خبردار کیا ہے کہ دریائے سندھ میں بھی انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے، جس کے پیش نظر نشیبی علاقوں سے انخلا جاری ہے، اور فلڈ ریلیف کیمپس قائم کیے جا چکے ہیں۔ محکمہ صحت، لائیو اسٹاک اور پولیس ٹیمیں بھی متحرک ہیں۔

ملتان میں دریائے چناب کا خطرناک ریلا آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں شہر میں داخل ہو سکتا ہے۔ شہری آبادی کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا پر حفاظتی بند میں شگاف ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج، ریسکیو ٹیمیں، مقامی رضا کار اور پاکستان رینجرز امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا، جبکہ متعلقہ اداروں کو کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

Back to top button