کیا عمران کی پاکستان کو ڈبونے کی خواہش پوری ہو پائے گی؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی نے کہا ہے کہ 2022 میں اقتدار سے فراغت کے بعد سے عمران خان کے دل میں پاکستان کو لے ڈوبنے کی خواہش ٹھاٹھیں مار رہی ہے جس کی تکمیل کے لیے وہ ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا موصوف کی یہ دلی خواہش پوری ہو گی اور وہ خدانخواستہ پاکستان کو ڈبونے میں کامیاب ہو پائیں گے؟ ان کا کہنا ہے کہ فوجی قیادت کو اس سوال پر ضرور غور کرنا چاہیے۔

حفیظ اللہ نیازی روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں کہتے ہیں کہ اس وقت پاکستان جس سیاسی بحران سے گزر رہا ہے اس کا آغاز دراصل تب یوا تھا جب نواز شریف کو تیسری مرتبہ زور زبردستی اقتدار سے بے دخل کیا گیا تھا۔ تب سے سیاسی استحکام قصہ پارینہ بن چکا ہے اور ملک سیاسی افرا تفری کا شکار ہے۔ انکا کہنا ہے کہ طاقتور ریاست، عمران خان، جسٹس ثاقب نثار اور سپریم کورٹ کا مجرمانہ گٹھ جوڑ مملکت کو سیاسی بربادی کے عمیق گڑھے میں دھکیل گیا جس سے نکلنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ 2018 کے الیکشن میں بذریعہ RTS جو ہائبرڈ نظام وجود میں آیا، الیکشن 2024 اسکا منطقی نتیجہ ہی تو تھا۔ ایسے میں الیکشن 2029ء بارے میری پیشن گوئی یہ ہے کہ اگر الیکشن ہو بھی گئے تو RTS اور فارم 47 کے الیکشنز سے زیادہ ابتر اور بدتر ثابت ہوں گے۔

عمران خان کے سابقہ بہنوئی حفیظ اللہ خان نیازی کہتے ہیں کہ 2014 سے ایک رہنما اصول اور بھی وجود میں آیا، ملک بھر کا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا عمران خان کی مدح سرائی پر مجبور تھا ۔ ہر چینل پر ایسے افراد کو نوکریاں دلوائی گئیں جن کے ذریعے بھائی لوگ اپنا عمرانی ایجنڈا اگے بڑھا سکتے۔ عمران خان کی شخصیت کو کرشماتی ثابت کرنے کے لیے سوشل میڈیا علیحدہ سے استعمال کیا گیا اور مبالغہ کی حد تک کپتان کی مسیحائی کا ڈھونگ رچایا گیا۔

حفیظ اللہ خان نیازی کے بقول وہ خوش قسمت ہیں کہ انہیں عمران کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں عمران خان کی خوبیوں کا بھی معترف رہق ہوں اور ان کی خامیوں کا بھی سخت ناقد ہوں۔ انکی خوبیاں غیرمعمولی ہیں تو خامیاں ناقابل بیاں ہیں۔ بطور وزیراعظم عمران خان کی پالسیاں ریاست پاکستان کے لیے انتہائی ضرررساں تھیں۔ کچھ معاملات میں موصوف نے اپنے جذبات کی تسخیر کی تو کئی جگہ خود فریبی اور خبط عظمت کے غلبے نے ان کی سیاست کو نقصان پہنچایا۔ عمران خان نوجوانی سے ہی کرکٹ میں کامیابی ملنے کے بعد غیرسیاسی خبروں کی زینت بنے رہے۔ وہ وزیراعظم بنے تو بھی خبروں میں رہنا ان کی پہلی ترجیح تھی۔ پچھلی دہائی سے پہلے بطور وزیراعظم اور اب بطور اپوزیشن رہنما ان کا مین سٹریم اور سوشل میڈیا پر اکلوتا کنٹرول رہق ہے۔ حفیظ نیازی کہتے ہیں کہ سال 2022 کا آغاز ہوتے ہی چہ میگوئیاں شروع ہو گئین کہ عمران خان کی شیلف لائف پوری ہو چکی اور اب ان کے مکو ٹھپنے کا وقت آن پہنچا ہے ۔ 8 مارچ 2022 کو قومی اسمبلی میں ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آتے ہی انکی خوش بختی کا آغاز ہو گیا۔ بطور وزیراعظم ساڑھے تین برس کی ناکام ترین حکمرانی کے بعد خان کا شہیدِ جمہوریت بننے کا خواب پورا ہو گیا اور ان کی مقبولیت کو پَر لگ گئے ۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان کی وزارت عظمی ختم ہوئے ساڑھے تین برس گزر گئے لیکن انکی عوامی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ آج بھی شاید کوئی ٹی وی پروگرام اور کوئی ادارتی صفحہ ایسا ہو جس میں عمران خان کا ذکر نہ ہو۔ یعنی خبر نامہ اور روزنامہ ، عمران نامہ بن کر رہ گئے ہیں ۔

حفیظ اللہ خان نیازی کہتے ہیں کہ اگرچہ عمران خان اور شہباز شریف دونوں دھونس اور دھاندلی یعنی RTS اور فارم 47 کی پیداوار ہیں لیکن عمران کو شہباز پر فوقیت حاصل ہے۔ شہباز شریف کا وجہ وجود پر نواز شریف کا سیاسی قدکاٹھ جبکہ عمران ہوش سنبھالتے ہی کرشماتی شخصیت بن چکے تھے۔ سیاست میں پذیرائی نہ ملنے کے باوجود عمران نے اپنی بنیادی حمایت اور فین فالونگ کو لمحہ بھر اوجھل نہ ہونے دیا۔ عمران نے بطور وزیراعظم سیاسی یا کابینہ میٹنگ سے زیادہ دلجمعی سے ترجمانوں اور میڈیا والوں سے رابطہ رکھا۔ سوشل میڈیا پر بھی عمران کی اپنی محنت شاقہ سے کم اور اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے ذیادہ خان کے ٹرینڈ چلتے رہے اور اس کی امیج بلڈنگ ہوتی ریا۔ خان کے دور اقتدسر میں عمرانی سوشل میڈیا نے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا دیا۔ حکومتی ناکامی کو کامیابی کا رنگ دے کر دکھایا گیا اور سیاسی مخالفین پر جھوٹے مقدمات قائم کر کے ان کی کردار کشی کی گئی۔ فریق مخالف کو جب ہوش آیا تو عمران خان اور اسکا ٹرینڈ بہت آگے نکل چکا تھا۔ مالی منفعت نے بھی عمرانی سوشل میڈیا کو باہمی مسابقت اور مقابلے کا رجحان دیا۔ آج عمران خان کی سوشل میڈیا پر اجارہ داری ہے۔ چنانچہ سیاسی OPTICS پر موصوف کا مکمل کنٹرول ہے۔

کیا عمران خان اڈیالہ جیل میں ڈٹ کر کھڑا ہے یا ڈیل مانگ رہا ہے؟

 

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بریگیڈ نے عمران خان کے ماننے چاہنے والوں سے منوا لیا ہے کہ وہ قائداعظم ثانی ہیں، اس لیے یوتھیے انہیں مرشد پاک بھی مانتے ہیں، روحانی بابا بھی کہتے ہیں اور ولی اللہ، حکیم الامت اور مسیحا قوم کے القابات سے بھی پکارتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ماننے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ آج سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا کی مجبوری کہ وہ عمران کا ذکر و اذکار جاری رکھے۔ سوشل میڈیا کی کُلی متاع ہے ہی عمران خان کی تعریف اور مخالفین پر بہتان و دشنام طرازی ہے۔ لیکن عمران کو کریڈٹ دینا چاہیئے کہ انہوں نے جہاں گالم گلوچ، بدزبانی، بہتان طرازی کو پنے خطبات و تقاریر سے عام کیا وہاں سوشل میڈیا نے اسے چار چاند لگا کر گھر گھر پہنچا دیا۔ عمران خان قائل ہیں کہ اپنے مخالفین کو اتنی گالیاں دو، اتنا بُرا بھلا کہو، اتنا جھوٹا پروپیگنڈہ کرو کہ وہ اہنے گھر میں بھی منہ چھپا کر گھسیں، اور معاشرے میں ان کا جینا محال ہو جائے۔

تاہم حفیظ اللہ نیازی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہیں کہ اس تمام تر مقبولیت کے باوجود عمران خان کی پچھلے ساڑھے تین سال کی سیاست کا محور و مقصد صرف اور صرف ریاست پاکستان کو تباہ و برباد کرنا تھا جس کی کوشش وہ آج بھی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے عمران خان میں ریاست کو لے ڈوبنے کی ٹھاٹھیں مارتی خواہش موجزن ہے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ان کی یہ خواہش پوری ہو پاتی ہے یا نہیں۔

Back to top button