امریکا میں ٹی بی سے بچاؤ کیلئے نیا مرکب تیار

طبی سائنس کی جدید ترقی کے باوجود ٹی بی آج بھی جان لیوا مرض کے طور پر موجود ہے، یہ بیماری کئی ممالک میں آج بھی قیمتی جانوں کے نقصان کا باعث بن رہی ہے لیکن اب اس بیماری سے بچاؤ کیلئے تیار کیے جانے والے نئے مرکب سے مستقبل کیلئے ٹی بی کا شکار افراد کے مؤثر علاج کیلئے اُمید کی ایک کرن روشن ہوئی ہے۔
امریکا کی کورنیل یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک ایسا مرکب تیار کیا ہے جوکہ انسانی جسم میں ٹی بی کی وجہ بننے والے ’مائیکو بیکٹیریئم ٹیوبر کلوسیس‘ کو تیزی سے مفلوج کرکے تباہ کر سکتا ہے، اس مرکب کا نام (CLB073) رکھا گیا ہے۔
اس مرکب کو تیار کرنے کیلئے تحقیق کورنیل یونیورسٹی میں واقع کالج آف ویٹرنری میڈیسن (سی وی ایم) کے پروفیسر ڈیوڈ رسل اور ولیم نے کی ہے، ماہرین کے کئی تجربات کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ (CLB073) بیکٹیریا کے کاربن کا راستہ روکتا ہے، جس کی وجہ سے بیکٹیریئم مر جاتا ہے۔
اب یہ توقع کی جارہی ہے کہ بہت جلد اس مرکب کی انسانوں پر بھی آزمائش شروع کی جائے گی، کورنیل اور ویل کورنیل میڈیسن، اس مرکب کی تیاری میں’ٹیوبرکلوسیس ڈرگ ایکسلریٹر‘ سے وابستہ 25 رکنی نیٹ ورک کا حصّہ ہیں، جس میں حکومتی ادارے، سائنسدان، جامعات، ادویہ ساز ادارے اور دیگر کمپنیاں شامل ہیں۔
تمام فریقین سال میں2 مرتبہ ملتے ہیں اور ٹی بی کے خلاف علاج کے لیے نئے طریقوں پر غور کرتے ہیں۔ اس حوالے سے بل اور میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے بھی کافی تحقیقات کی ہیں جوکہ فروری 2023ء میں مکمل ہوئی ہیں۔
