اقوام متحدہ : پاکستان کے مؤثر جواب پر بھارتی مندوب اجلاس چھوڑ کر چلے گئے

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے مؤثر اور مدلل جواب پر بھارت کی جانب سے شدید بوکھلاہٹ کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا، حتیٰ کہ بھارتی مندوب کو اجلاس کے دوران فون سنتے اور پھر اچانک ہال چھوڑتے ہوئے دیکھا گیا۔
بھارت کے وزیر خارجہ کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کا بھرپور جواب پاکستان کے سیکنڈ سیکرٹری محمد راشد نے دیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت خطے میں طاقت کے زعم میں مبتلا ایک غاصب ملک ہے جو اپنی انتہا پسندانہ سوچ سے خطے کے امن کو یرغمال بنائے ہوئے ہے۔
محمد راشد نے بھارتی بیانیے کو "جھوٹ، فریب اور بے بنیاد دعوؤں کا پلندہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک اور ناکام کوشش ہے، جو حقائق سے قطعی طور پر عاری ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے 90 ہزار سے زائد قیمتی جانوں کی قربانی دی ہے، جبکہ بھارت خود دہشتگردی کی سرپرستی اور پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے پاکستان اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے میں ملوث ہے۔
محمد راشد نے بھارت کی ریاستی دہشتگردی کی ایک واضح مثال کے طور پر کلبھوشن یادیو کا حوالہ دیا، جو بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر اور خفیہ ایجنسی کا ایجنٹ ہے، جسے پاکستان میں دہشتگردی کے لیے بھیجا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلگام واقعے کی شفاف تحقیقات کی پیشکش کی تھی، مگر بھارت نے بغیر کسی دلیل کے یہ تجویز مسترد کر دی۔ آج تک اس واقعے سے متعلق کوئی ثبوت سامنے نہیں لایا گیا۔
محمد راشد نے کہا کہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے جو سفارت کاری، باہمی احترام اور مکالمے کے اصولوں پر یقین رکھتا ہے، اور بھارت کو بھی اگر امن مطلوب ہے تو اسے یہی راستہ اپنانا ہوگا۔
بھارتی مندوب کی جانب سے پاکستان کے نام کو بگاڑنے کی کوشش پر ردِعمل دیتے ہوئے محمد راشد نے کہا کہ اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی فورم پر اس سطح کی غیر شائستگی ناقابل قبول ہے، اور یہ صرف ایک خودمختار ملک ہی نہیں بلکہ اس کے عوام کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس دلیل کا فقدان ہے، اسی لیے وہ طنز، الزام اور جھوٹ کا سہارا لیتا ہے۔ عالمی رپورٹس کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسیاں اپنے ہمسایہ ممالک میں تخریب کاری، فنڈنگ، اور ٹارگٹ کلنگ جیسے اقدامات میں ملوث پائی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا رویہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور علاقائی امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے، جو اس کے انسدادِ دہشتگردی کے دعوؤں کو مشکوک بنا دیتا ہے۔