امریکی انٹیلی جنس نےچین پرایران کی مدد کاالزام لگادیا

امریکی انٹیلی جنس رپورٹ نے الزام عائدکیاہے کہ چین کی مدد سے ایران توقع سے زیادہ تیزی سے جنگی قوت بحال کر رہا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی خصوصی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کے چار ذرائع نے تصدیق کی کہ ایران کی عسکری بحالی کی رفتار ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کی بیلسٹک میزائل، ڈرون اور فضائی دفاعی صلاحیتیں مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئیں بلکہ ان کا ایک بڑا حصہ اب بھی محفوظ ہے۔
امریکی انٹیلی جنس کے مطابق تقریباً دو تہائی ایرانی میزائل لانچرز اب بھی موجود ہیں، جبکہ ہزاروں ڈرونز بھی ایران کے پاس ہیں جو اس کی مجموعی ڈرون صلاحیت کا تقریباً پچاس فیصد بنتے ہیں۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں نے اندازہ لگایا ہے کہ ایران توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے اپنی دفاعی اور عسکری صنعتی صلاحیت بحال کر رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپریل کے آغاز میں ہونے والی 6 ہفتوں کی جنگ بندی کے دوران ہی ایران نے ڈرونز کی محدود پیداوار دوبارہ شروع کر دی تھی اور صرف 6 ماہ میں ڈرون حملہ کرنے کی صلاحیت مکمل طور پر بحال کرسکتا ہے۔
علاوہ ازیں ایران اُن میزائل لانچرز، میزائل سائٹس اور اہم ہتھیاروں کی تیاری کی صلاحیت کو بھی تیزی سے بحال کر رہا ہے جنھیں امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں نقصان پہنچا تھا۔
ذرائع کے مطابق ایران نے اپنی بحالی میں روس اور چین کی تکنیکی و صنعتی مدد سے بھی فائدہ اٹھایا جبکہ امریکا اور اسرائیل ایران کے عسکری ڈھانچے کو اتنا نقصان نہیں پہنچا سکے جتنا وہ توقع کر رہے تھے۔
امریکی انٹیلی جنس کے مطابق چین جنگ کے دوران ایران کو ایسے پرزے فراہم کرتا رہا جو میزائل سازی میں استعمال ہوسکتے ہیں اگرچہ امریکی بحری ناکہ بندی کے بعد اس عمل میں کمی آئی ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی حالیہ دنوں میں دعویٰ کیا تھا کہ چین ایران کو میزائل سازی کے اجزا فراہم کر رہا ہے تاہم چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔
جنگی صلاحیتوں کی سبک رفتار بحالی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تو ایران اب بھی خطے میں امریکا کے اتحادی خلیجی ممالک کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
