فوری الیکشن پاکستان کو کن مسائل کا شکار کر دیں گے؟

معروف لکھاری و تجزیہ کار وجاہت مسعود نے پاکستان میں فوری الیکشن کروانے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے دس وجوہات بیان کی ہیں اور کہا ہے کہ فی الوقت حکومت کی پہلی ترجیح پاکستان کو سابقہ حکومت کے پیدا کردہ معاشی بحران اور سیاسی طوفان سے نکالنا ہونی چاہیئے، بجائے کہ قوم کو ایک نئے الیکشن کے بھنور میں دھکیل دیا جائے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ پاکستان میں حکومت اور ریاست شدید معاشی بحران اور گہرے سیاسی عدم استحکام کا شکار ہیں اور المیہ یہ ہے کہ معاشی بحران پر قابو پانے کی کوشش کی جائے تو سیاسی انتشار بڑھنے کا اندیشہ ہے۔
دوسری طرف سیاسی جوار بھاٹے سے بچنے کے لیے کوئی تدبیر کی جائے تو معاشی بحران کے سمندری طوفان میں بدلنے کا خطرہ ہے۔ گھاگ صحافی ایسی صورت حال کو دلچسپ قرار دیا کرتے ہیں لیکن دراصل بائیس کروڑ لوگوں کے ملک کو گزشتہ نصف صدی میں اس سے زیادہ پیچیدہ اور خطرناک بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
وجاہت مسعود کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں فوری انتخابات کی بجائے معاشی بحران پر توجہ دینا زیادہ ضروری ہے۔ انکا کہنا ہے کہ میرے پاس اس رائے کے لیے دس وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ موجودہ مخلوط حکومت نے پروجیکٹ عمران کی معاشی اور انتظامی ناکامی کے بعد تحریک عدم اعتماد کا ڈول ڈالا تھا۔
اگر جمہوری قوتوں کا یہ اتحاد عوامی مقبولیت کھونے کے اندیشے میں مبتلا ہو کر ضروری معاشی اقدامات نہیں کر سکتا تو یہ اپنی سیاسی اور معاشی نا اہلی پر مہر لگانے کے مترادف ہو گا۔
دوسری وجہ یہ یے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بیرون ملک پاکستانیوں کے ووٹ سمیت ضروری انتخابی اصلاحات کے بغیر الیکشن کا انعقاد بے معنی مشق ہو گی۔ نیز الیکشن کمیشن کو حد بندیوں کے لیے ایک خاص مدت درکار ہے۔
اس وقت الیکشن کمیشن نا مکمل ہے اور پارلیمنٹ میں معمول کی صورتحال بحال کیے بغیر الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی تقرری ممکن نہیں۔ کچھ حلقوں کی رائے میں اس رکاوٹ پر ٹیکنو کریٹ حکومت کے ذریعے قابو پانا چاہیے۔ یہ دراصل اس مستقل بیروزگار بابو شاہی کی خواہش ہے جو اپنی اہلیت کو عوام کے ووٹ پر ترجیح دیتے ہیں۔
زلفی بخاری عمران اور بشریٰ کا جھوٹا دفاع کرتے پکڑے گئے
وجاہت مسعود کے پاس فوری الیکشن نہ کروانے کی تیسری وجہ یہ ہے کہ فوری انتخابات کی صورت میں نگران حکومت کی تشکیل کے آئینی تقاضے پورے نہیں ہو سکیں گے۔
جبکہ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی آئینی حیثیت پر سوالیہ نشان ہیں۔ چوتھی وجہ یہ یے کہ فوری انتخابات کی صورت میں عبوری عرصے کے دوران آئی ایم ایف اور دیگر ممکنہ ذرائع سے فوری مالی معاونت کی امید ختم ہو جائے گی۔
پانچواں عذر یہ ہے کہ اگر عمران خان کے دبائو میں آ کر انتخابات کرانا ہیں تو اس امر کی کیا ضمانت ہے کہ شکست کی صورت میں موصوف انتخابی نتائج کو تسلیم کر لیں گے۔
وجاہت مسعود کے خیال میں فوری انتخابات نہ کروانے کی چھٹی وجہ یہ ہے کہ اگر عمران کے نادیدہ پشتی بان اس قدر طاقتور ہیں کہ وہ ایک دستوری حکومت کو قبل از وقت انتخابات پر مجبور کر سکتے ہیں تو اس امر کی کیا ضمانت ہے کہ یہ ہنر مند انتخابی عمل میں 2018ء کی دھاندلی کا اعادہ نہیں کریں گے۔
ساتویں وجہ یہ ہے کہ عمران حکومت نے تحریک عدم اعتماد سے صرف دس روز قبل پٹرول اور بجلی پر جو سبسڈی دی تھی اس کا 102 ارب روپے کا ماہانہ بوجھ حکومت پاکستان کے 45 ارب روپے کے کل ماہانہ اخراجات سے دوگنا بڑھ چکا ہے۔
عمران نے قومی معیشت کے خلاف یہ سنگین جرم آئندہ حکومت کو مفلوج کرنے کے لیے کیا تھا۔ اگر ایک قومی رہنما اپنے سیاسی مفاد کے لیے ملکی معیشت کے اعلیٰ ترین مفاد کو دائو پر لگا سکتا ہے تو آئندہ الیکشن میں ممکنہ کامیابی کی صورت میں اس سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔
آٹھویں وجہ بیان کرتے ہوئے وجاہت کہتے ہیں کہ حکومت کو ایک لیٹر پٹرول پر 87 روپے سبسڈی دینا پڑ رہی ہے۔ زرمبادلہ کی مخدوش صورت حال کے پیش نظر سبسڈی واپس لینا ناگزیر ہو چکا ہے۔
عوام پر یہ بوجھ یک لخت ڈالنا ہے یا مرحلہ وار، اس سخت اقدام اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مہنگائی سے گریز ممکن نہیں۔ نویں وجہ یہ یے کہ مخلوط حکومت میں شامل جماعتیں اگر فوری انتخابات کے نتیجے میں تین یا چار ماہ کی مدت کے بعد دوبارہ کامیاب ہو جاتی ہیں تو معاشی بحران مزید سنگین ہو چکا ہو گا۔
کسی دستوری تقاضے کے بغیر محض سیاسی اسباب کی بنا پر قومی معیشت کو تین ماہ کے لیے معلق رکھنا بذات خود قوم کے خلاف ناقابل تلافی سیاسی جرم ہو گا۔
وجاہت مسعود کے بقول فوری الیکشن نہ کروانے کی دسویں وجہ یہ ہے کہ اسٹیبلشمینٹ کی زیر زمین چٹانوں میں کشمکش کے واضح آثار موجود ہیں اور یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ معاشی بحران اور سیاسی اکھاڑ ہچھاڑ کی غبار آلود فضا میں ریاست کے واحد مستحکم تختے کو آزمائش میں ڈالنا دانش مندی نہیں ہو گی۔
