اداکارہ کبریٰ خان کی محبت ہمیشہ ناکام کیوں ہو جاتی یے؟

خوبصورت اداکارہ کبریٰ خان نے اپنی بار بار کی ناکام محبتوں کا رونا روتے ہوئے کہا ہے کہ ڈراموں میں میری محبت ہمیشہ ناکام ہی رہتی ہے اور انہیں کبھی حقیقی پیار نہیں مل پایا۔ یاد رہے کہ حال ہی میں ان کا ڈراما صنفِ آہن اختتام پذیر ہوا ہے جبکہ انکا ایک اور ڈراما ’سنگ ماہ‘ ابھی جاری ہے، یہ دونوں ڈرامے پاکستان میں یوٹیوب پر ٹرینڈ ہو رہے ہیں، اور دونوں میں اداکارہ اپنی محبت حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔
ایک انٹرویو میں کبریٰ خان نے کہا کہ مجھے اب تک سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ سپر سٹار کیا ہوتا ہے، میں بس خود کو اداکار کے طور پر دیکھتی ہوں، اور خوش ہوں کہ میرا کام پسند کیا جارہا ہے، انکے مطابق شہرت کے ساتھ ضروری ہے کہ فنکار کے قدم زمین پر سے مضبوطی سے جمے ہوئے ہوں۔ ایک ہی وقت میں دو یا زیادہ ڈرامے چلنے پر اداکارہ کا کہنا تھا کہ اگر ان میں کردار ایک جیسے ہیں تو پھر عوام کو ایڈجسٹ کرنے میں مسئلہ ہوتا ہے، لیکن اگر دونوں ڈراموں میں کردار کی نوعیت مختلف ہو تو پھر مشکل نہیں ہوتی۔
اسلام قبول کرنے والے مشہور کورین گلوکار کی پاکستان آمد
کبری خان نے کہا کہ جب میں ’ہم کہاں کے سچے تھے‘ کے سیٹ پر کام کر رہی تھی تو ایک دن عمیرہ احمد کا فون آیا اور بولیں کہ ’تم ایسی فنکارہ ہو کہ جہاں ہم پھنستے ہیں وہاں تم مدد کو آ جاتی ہو‘۔ اس طرح میں نے صنفِ آہن ڈرامہ سائن کر لیا۔
کبریٰ خان نے کہا کہ وہ یقین رکھتی ہیں کہ پیار کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوتا، اس لیے وہ ہر ڈرامے میں محبت کو ضروری سمجھتی ہیں۔ ’ویسے میرا ریکارڈ تو یہ ہے کہ مجھے ڈراموں میں اپنی محبت نہیں ملتی اور صنفِ آہن میں بھی نہیں ملی۔
کبریٰ خان نے بتایا کہ کاکول جاتے ہوئے ان سمیت تمام لڑکیاں ذہنی طور پرتیار تھیں کہ انہیں وہاں صرف اداکاری نہیں کرنی بلکہ تربیت لینا ہوگی۔
اس لیے وہ سب اپنی پوری جان لگا دیا کرتی تھیں، روزانہ کام کے بعد جب وہ واپس آتے تھے تو بہت سی خراشیں، کبھی خون نکل رہا ہوتا تھا اور دیگر مسائل ہوتے تھے، تاہم اس سے فائدہ بھی ہوا کہ کام اچھا ہوا، ابتدا میں زیادہ مشکل ہوئی بعد میں کچھ عادت ہوگئی۔
اداکارہ کے مطابق تمام ہی لڑکیوں کا نشانہ بہت اچھا لگا، ان میں سے ہر ایک کے پاس اپنا اپنا ٹرینر تھا جس کی وجہ سے زیادہ مشکلات نہیں پیش آئیں، اب تو ہم کسی ایکشن فلم میں آرام سے کام کرسکتے ہیں، صنف آہن میں اپنے کردار کے متعلق بتایا کہ ماہ جبیں سے کیپٹن ماہ جبیں میں تبدیلی کا ایک سفر تھا، اس لیے اپنے بالوں کا رنگ بھی تبدیل کیا تھا۔
کبریٰ خان نے بتایا کہ پاکستان ملٹری اکیڈمی میں اچھا وقت گزرا وہاں پر خاتون ہونے کے ناطے کسی قسم کا مسئلہ پیش نہیں آیا کیوں کہ وہاں لڑکا یا لڑکی ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، پاکستان ملٹری اکیڈمی میں رہنے سے ان کے زندگی میں کافی ڈسپلن آیا۔
عاطف اسلم کے ساتھ کام کرنے کے بارے میں اداکارہ کا کہنا تھا کہ عاطف اسلم کو کچھ بتانا نہیں پڑا وہ بہت کھلے ذہن کے ساتھ آئے تھے اس لیے ان کے ساتھ کام اچھا رہا، سنگِ ماہ، شیکسپیئر کے ڈرامے ہیملٹ سے متاثر ہوکر بنایا گیا ہے اور کبریٰ کا کردار اوفیلیا سے ملتا ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف کچھ حد تک ہی ہے اس لیے اس کردار سے کچھ زیادہ نہیں کیا۔
کبریٰ نے ڈراما سیریل ہم کہاں کے سچے تھے میں مشل کا کردار کیا جو کافی مشہور ہوا، یہ منفی کردار تھا، اس بارے میں اداکارہ نے بتایا کہ جب انہیں لوگ برا بھلا کہتے تھے تو انہیں مزہ آتا تھا، یہ کردار اچھے انداز سے نبھایا ہے۔
کبریٰ خان کے مطابق انہیں فلموں میں کام کرنا اچھا لگتا ہے، لیکن ڈراموں میں کام کرنے کا اپنا ہی مزہ ہے، فلمیں ہر ایک نہیں دیکھتا، ڈراما ہر کوئی دیکھتا ہے، اس وجہ سے کسی ایک کو چننا ممکن ہی نہیں، کبریٰ نے آخر میں بتایا کہ انہیں موسیقی اور رقص بہت پسند ہے اور آنے والی فلموں میں ناظرین ان کا ڈانس ضرور دیکھیں گے۔
