عمران کو لاحق ’اینگزائٹی تھری پلس‘ نامی بیماری کیا ہے؟

سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کو فوری طور پر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے حکم نامے کے بعد یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ انہیں لاحق ‘اینگزائٹی تھری پلس‘ نامی بیماری دراصل ہے کیا اور اسکی وجوہات کیا ہیں؟
سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے عمران خان کے علاج اور طبی معائنے کے لیے ایک نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس میں انکے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور ان کی بہن عظمیٰ خان کو بھی شامل کیا جائے۔ عمران کو درپیش طبی مسئلے کے حوالے سے سب سے اہم بات ان کی میڈیکل رپورٹ میں سامنے آنے والا ’اینگزائٹی لیول تھری پلس‘ ہے، جسے طبی ماہرین شدید درجے کی بے چینی اور اضطراب کی کیفیت قرار دیتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جیل کے اکثر قیدیوں کو لمبی قید کے دوران یہ بیماری لاحق ہو جاتی ہے۔ ماضی میں نواز شریف بھی قید کے دوران اس بیماری کا شکار ہو گئے تھے۔
سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق عمران خان کا آخری تفصیلی طبی معائنہ 10 اگست 2026 کو ایک میڈیکل بورڈ نے کیا تھا جس میں آنکھوں، امراضِ قلب اور میڈیسن کے ماہر ڈاکٹر شامل تھے۔ رپورٹ میں عمران خان کی عمر تقریباً 73 سال بتائی گئی ہے اور طبی معائنے کے دوران ان کا بلڈ پریشر 140/80 جبکہ نبض 54 فی منٹ ریکارڈ کی گئی۔ عمران خان کی صحت کے بارے میں سامنے آنے والی رپورٹ میں Anxiety Level تھری پلس‘ کا ذکر کیا گیا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس کا مطلب شدید درجے کی بے چینی، اضطراب اور گھبراہٹ کی کیفیت ہے۔ ایسی صورت حال میں مریض اپنے اردگرد کے ماحول کے باعث مسلسل ذہنی دباؤ، بے چینی اور گھبراہٹ محسوس کر سکتا ہے۔
اس کیفیت میں دل کی دھڑکن تیز محسوس ہونا، سر میں بوجھل پن، بے چینی، ذہنی تناؤ، نیند یا توجہ کے مسائل اور مسلسل گھبراہٹ جیسی علامات سامنے آ سکتی ہیں۔ اگر یہ کیفیت طویل عرصے تک برقرار رہے تو مریض مایوسی اور ڈپریشن کی طرف بھی جا سکتا ہے۔ عمران خان کی میڈیکل رپورٹ میں بھی بتایا گیا ہے کہ انہوں نے سر میں بوجھل پن اور دل کی دھڑکن تیز محسوس ہونے کی شکایت کی، تاہم رپورٹ کے مطابق انہیں سینے میں درد، سینے میں بھاری پن یا سانس پھولنے کی شکایت نہیں تھی۔
میڈیکل رپورٹ کے مطابق عمران خان کے دل کے حوالے سے سامنے آنے والے معائنے میں فی الحال کوئی ایسی سنگین خرابی بیان نہیں کی گئی جو فوری طور پر انجیوپلاسٹی کی ضرورت ثابت کرے۔ رپورٹ میں ان کی ای سی جی نارمل قرار دی گئی، سینہ صاف بتایا گیا جبکہ دل کے والوز اور چیمبرز بھی نارمل قرار دیے گئے۔ یہ تفصیل اس لیے اہم ہے کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے بعض حلقوں میں یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ آیا انہیں دل کی شریانوں کا مسئلہ ہے اور کیا ان کی انجیوپلاسٹی کی تجویز دی گئی ہے۔ دستیاب میڈیکل رپورٹ کے مطابق عمران خان کی انجیوپلاسٹی کی کوئی تجویز سامنے نہیں آئی حالانکہ ان کی بہن علیمہ خان کا اصرار ہے کہ این جی او پلاسٹی ضروری ہے۔
عمران کی میڈیکل رپورٹ میں انجیوپلاسٹی، دل کی شریان میں رکاوٹ یا فوری طور پر اسٹنٹ ڈالنے کی ضرورت کا ذکر موجود نہیں ہے۔ اسی طرح رپورٹ میں سینے کے درد یا سانس کی شدید تکلیف کی بھی نشاندہی نہیں کی گئی۔ تاہم طبی ماہرین کے مطابق موجودہ معلومات کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ عمران کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیے جانے کا بنیادی مقصد انجیوپلاسٹی کرانا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہسپتال منتقل کیے جانے کے بعد تشکیل پانے والا نیا میڈیکل بورڈ اگر ضروری سمجھے تو مزید کارڈیئک ٹیسٹ، ایکو ٹیست یا دیگر متعلقہ طبی تحقیقات کرا سکتا ہے۔ ان ٹیسٹوں کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی یہ فیصلہ ممکن ہوگا کہ دل کی شریانوں کے حوالے سے مزید کسی مداخلت کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اس لیے فی الوقت انجیوپلاسٹی کے بارے میں حتمی دعویٰ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
طبی ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم کی بنیادی وجہ دل کا مسئلہ نہیں بلکہ عمران خان کی مجموعی صحت اور شدید اضطراب ہے۔ میڈیکل رپورٹ میں اینگزائٹی کو تھری پلس قرار دیا گیا ہے جبکہ طبی ماہرین کے مطابق جیل میں مسلسل تنہائی اور مسلسل ذہنی دباؤ ایسی کیفیت کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ میڈیکل بورڈ نے عمران خان کے لیے روزانہ تقریباً ایک گھنٹے کی چہل قدمی اور ذہنی سکون فراہم کرنے والی سرگرمیوں کی سفارش بھی کی ہے۔ رپورٹ میں انہیں اخبارات، رسائل، ٹی وی اور مطالعے کی کتابیں فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اہلِخانہ سے زیادہ ملاقاتیں بھی مریض کی ذہنی کیفیت بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ اسی لیے رپورٹ میں عمران خان کو اہلِخانہ اور شریکِ حیات سے ملاقاتوں کا دورانیہ بڑھانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران کی صحت سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور ایک نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس بورڈ میں عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور ان کی بہن عظمیٰ خان کو بھی شامل کیا جائے۔ اس اقدام سے عمران خان کے خاندان اور ان کے وکلا کی جانب سے صحت کے حوالے سے اٹھائے جانے والے سوالات کا بھی طبی بنیادوں پر جائزہ لیا جا سکے گا۔
سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر عمران خان کی تازہ میڈیکل رپورٹ بھی طلب کی ہے اور درخواستوں کی مزید سماعت 16 ستمبر کو مقرر کی ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ عمران خان کی صحت کو سیاسی معاملہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ عدالت کے مطابق عمران آئندہ سماعت تک ہسپتال میں ہی رہیں گے اور ان کی صحت کا جائزہ طبی ماہرین کریں گے۔ یہ عدالتی حکم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمران تک ان کے اہلِخانہ اور ذاتی معالجین کی رسائی کا معاملہ سیاسی طور پر بھی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی اعلان کیا تھا کہ اگر عمران خان کو ان کے ذاتی ڈاکٹروں اور اہلخانہ تک رسائی نہ دی گئی تو احتجاج شروع کر دیا جائے گا۔ سہیل آفریدی کا مؤقف تھا کہ پی ٹی آئی کسی غیر آئینی یا غیر قانونی مطالبے کا مطالبہ نہیں کر رہی بلکہ صرف یہ چاہتی ہے کہ عمران خان کا بہتر ہسپتال میں ان کے ذاتی ڈاکٹروں اور اہلخانہ کی موجودگی میں علاج کیا جائے۔ خیال رہے کہ جیل حکام کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں عمران خان کے طبی معائنے کا طویل ریکارڈ بھی شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 4 نومبر 2023 سے 10 اگست 2026 تک 39 مختلف طبی ماہرین عمران خان کا طبی معائنہ کر چکے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جیل کے طبی افسران عمران خان کی دن میں تین مرتبہ کھانے پینے اور صحت کی نگرانی کرتے ہیں جبکہ متعدد سرکاری ڈاکٹر بھی ان کا معائنہ کرتے رہے ہیں۔ ان کی آنکھ کا بھی ماہر امراض چشم سے علاج کرایا گیا اور جیل حکام کے مطابق ایک آنکھ تقریباً نارمل ہو چکی ہے۔
عمران بارے عدالتی فیصلے کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے؟
رپورٹ میں عمران خان کے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے اور بے چینی کی علامات کم کرنے کے لیے ادویات تجویز کیے جانے کا بھی ذکر ہے۔موجودہ میڈیکل رپورٹ کی تفصیلات کو دیکھا جائے تو عمران خان کے حوالے سے سب سے نمایاں طبی مسئلہ شدید اینزائٹی یعنی بے چینی اور اضطراب ہے، نہ کہ کوئی ایسی دل کی بیماری جس کے باعث فوری انجیوپلاسٹی ضروری قرار دی گئی ہو۔ اگرچہ عمران نے دل کی دھڑکن تیز محسوس ہونے کی شکایت کی ہے، لیکن ان کی ای سی جی نارمل، سینہ صاف اور دل کے والوز و چیمبرز نارمل قرار دیے گئے ہیں۔ اسلیے طبی ماہرین کے مطابق موجودہ معلومات کی بنیاد پر انجیوپلاسٹی کو ان کے ہسپتال منتقل کیے جانے کی وجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب سب کی نظریں شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں تشکیل پانے والے نئے میڈیکل بورڈ اور اس کی آئندہ رپورٹ پر ہیں۔ اگر نئے طبی معائنے میں دل یا کسی دوسرے جسمانی مرض کی نشاندہی ہوتی ہے تو اس کے مطابق علاج کا فیصلہ کیا جائے گا، لیکن فی الحال سامنے آنے والی رپورٹ کا مرکزی نکتہ ’اینگزائٹی تھری پلس‘، شدید بے چینی اور مسلسل ذہنی دباؤ ہے۔
