انڈیا میں مبینہ دہشت گردی میں ملوث پاکستانی شہزاد بھٹی کون ہے؟

پیر کے روز اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں انڈیا کے وزیرِ داخلہ امت شاہ نے دعویٰ کیا تھا کہ مودی حکومت نے یومِ آزادی سے قبل پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی حمایت یافتہ مبینہ شدت پسند تنظیم ’شہزاد بھٹی نیٹ ورک‘ کو ختم کرتے ہوئے اس کے 200 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا ہے اور اس تنظیم کی تخریبی حملوں کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا ہے۔
اس ہی روز پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے امت شاہ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’اس قسم کا پروپیگنڈا پاکستان کے خلاف انڈیا کی اس مذموم مہم کا ایک اور ثبوت ہے جس کا مقصد اپنی داخلی سکیورٹی کے چیلنجوں سے توجہ ہٹانا اور محض تنگ نظر ملکی سیاسی مفادات کے حصول کے لیے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانا ہے۔‘
پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’انڈیا کی بے بنیاد اور گمراہ کن باتیں بین الاقوامی توجہ کو انڈیا کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور غیر ملکی علاقوں میں تخریبی کارروائیوں سے نہیں ہٹا سکتیں۔‘
تاہم یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ انڈین حکام کی جانب سے ملک میں مبینہ شدت پسندانہ کارروائیوں کے حوالے سے ’شہزاد بھٹی نیٹ ورک‘ کا نام لیا گیا ہو۔
اس مبینہ شدت پسند نیٹ ورک کو چلانے والے شہزاد بھٹی ہیں کون اور انڈین حکام ان پر کیا الزام لگاتے آئے ہیں؟ اس کی تفصیل میں جانے سے قبل جانتے ہیں کہ امت شاہ نے کیا دعویٰ کیا تھا؟
ایکس پر جاری بیان میں انڈیا کے وزیرِ داخلہ امت شاہ نے دعویٰ کیا تھا کہ انڈین سکیورٹی فورسز نے 14 ریاستوں میں مختلف مقامات پر مربوط کارروائیاں کرتے ہوئے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی حمایت یافتہ مبینہ شدت پسند تنظیم ’شہزاد بھٹی نیٹ ورک‘ کو توڑ دیا۔
امت شاہ نے اسے دہشت گردی کے خلاف انڈیا کی ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی کی مثال قرار دیا۔
انڈین وزیرِ داخلہ نے دعویٰ کیا کہ نیٹ ورک کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ بارود بشمول پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے نشانات والے دستی بم، پستول، کارتوس اور جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے سی سی ٹی وی کیمرے بھی برآمد ہوئے ہیں۔
انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پکڑے گئے مبینہ عسکریت پسندوں سے جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے سی سی ٹی وی کیمرے بھی برآمد ہوئے ہیں۔
رواں برس نو جون کو انڈیا کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے شہزاد بھٹی نیٹ ورک کے خلاف کارروائیوں کے متعلق ایک بیان جاری کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ مبینہ شدت پسند شہزاد بھٹی سے منسلک شدت پسند گینگسٹر نیٹ ورک کے خلاف تین مقدمات کے سلسلے میں انڈیا کی دو ریاستوں، پنجاب اور ہریانہ کے نو اضلاع میں 18 مقامات پر واقع مختلف عمارتوں میں مربوط کارروائیاں کی گئیں اور کئی افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔
این آئی اے کا کہنا تھا کہ چھاپوں کے دوران مختلف مواصلاتی نیٹ ورکس، مالی لین دین اور ان تین مقدمات میں زیرِ تفتیش افراد کی سرگرمیوں سے متعلق پوچھ گچھ کے علاوہ کئی ڈیجیٹل آلات اور دستاویزات بھی ضبط کی گئیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ مارچ 2025 میں پنجاب کے شہر جالندھر میں سوشل میڈیا انفلوئنسر راجر سندھو کی رہائش گاہ پر ہونے والے گرینیڈ حملے میں شہزاد بھٹی کے ملوث ہونے کا سراغ ملا ہے اور اپریل 2026 میں اس مقدمے میں شہزاد بھٹی کو مفرور ملزم قرار دیا گیا ہے۔
این آئی اے نے دعویٰ کیا کہ شہزاد بھٹی نومبر 2025 میں ہریانہ کے ضلع سرسا کے وویمن پولیس سٹیشن اور جنوری 2026 میں ہریانہ کے ضلع امبالہ کے بلدیو نگر پولیس سٹیشن میں ہونے والے دھماکوں کے مبینہ منصوبہ ساز بھی تھے۔
11 جولائی کو این آئی اے کی جانب سے جاری ایک اور بیان میں کہا گیا کہ این آئی اے نے امبالہ کے بلدیو نگر پولیس سٹیشن کی پارکنگ میں ہونے والے کار بم دھماکے کے مقدمے میں شہزاد بھٹی سمیت آٹھ افراد کے خلاف فردِ جرم دائر کر دی ہے۔
این آئی اے کے مطابق این آئی اے نے ہریانہ کے شہر پنچکولہ میں قائم خصوصی عدالت میں جمع کرائی گئی چارج شیٹ میں شہزاد بھٹی کے علاوہ کرم جیت سنگھ عرف ٹونی، آکاش، سوریب عرف سوبی عرف سوربھ، رمن کمار، ستیَم، سکھ دیو سنگھ عرف سکھا اور امرجیت سنگھ عرف امبی کے نام بھی شامل تھے۔
تحقیقاتی ادارے نے دعویٰ کیا کہ شہزاد بھٹی نے انڈیا میں کارروائیوں کے لیے مقامی نیٹ ورک قائم کیا تھا اور مقامی افراد کو پولیس تنصیبات پر حملوں کے لیے لاجسٹک معاونت اور دھماکہ خیز مواد کا انتظام کرنے کی ذمہ داریاں سونپی تھیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ آکاش انڈیا میں شہزاد بھٹی کا مرکزی رابطہ کار تھا اور وہ دیگر ملزمان کے ساتھ حملوں کی منصوبہ بندی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار تھا۔
این آئی اے کا کہنا تھا کہ تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شہزاد بھٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور خفیہ مواصلاتی ذرائع کے ذریعے ملزمان کو بھرتی کیا اور انھیں شدت پسند نظریات کی جانب مائل کیا۔
بی بی سی نے اس حوالے سے تفصیلات جاننے کے لیے دلی پولیس اور نئی دلی میں قائم قومی تحقیقاتی ادارے (این آئی اے) کے ترجمان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
بی بی سی نے شہزاد بھٹی سے انڈین حکام کی جانب سے ان پر لگائے جانے والے الزامات کے حوالے ان کا موقف جاننے کی کوشش کی ہے تاہم تادمِ تحریر ان کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
تاہم 19 جولائی کو شہزاد بھٹی کے ٹک ٹاک اور فیس بک پر جاری کردہ ایک ویڈیو میں انھوں نے انڈین حکومت اور وزیرِ داخلہ امت شاہ کی جانب سے ان پر لگائے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔
اس سے قبل بھی شہزاد بھٹی انڈین حکام کی جانب سے دہشتگردی اور پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے تعلقات کے متعلق لگائے جانے والے الزامات کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بیانات جاری کرتے آئے ہیں۔
ٹک ٹاک اور فیس بک پر شہزاد بھٹی کے نام سے منسوب اکاؤنٹس سے ان کی ویڈیوز سامنے آتی رہی ہیں۔
این آئی اے کی جانب سے نو جون کو جاری کیے گئے بیان کے تقریباً دو ہفتے بعد اس اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو شائع ہوئی۔
23 جون کو شائع ہونے والی ویڈیو میں خود کو شہزاد بھٹی کے نام سے متعارف کروانے والے شخص کا کہنا تھا کہ وہ تواتر سے انڈیا سے آنے والی خبریں سن رہے ہیں جن میں ’کبھی شہزاد بھٹی کے چار بندے، کبھی پانچ بندے پکڑنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سب جھوٹی خبریں ہیں۔‘
’کسی اور کے بندے گرفتار کر کے میرا نام لگا دیتے ہیں کہ شہزاد بھٹی کے اتنے بندے گرفتار کر لیے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ان کے خلاف کوئی ثبوت ہیں تو سامنے لائے جائیں۔ ’ثبوت دکھاؤ، کوئی چیٹ دکھاؤ کہ واقعی یہ میرے، شہزاد بھٹی کے بندے ہیں۔‘
تاہم اپنی ویڈیو میں خود کو شہزاد بھٹی کہنے والے شخص نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انڈیا میں کچھ لوگ ان کے لیے کام کرتے ہیں لیکن انھوں نے اس کام کی نوعیت نہیں بتائی۔
اسی طرح 16 مارچ کو اپنے فیس بک پیج پر جاری ایک ویڈیو میں شہزاد بھٹی کا کہنا تھا کہ انڈین اداروں کی جانب سے انڈین شہر امبالہ سے دھماکہ خیز مواد آر ڈی ایکس برآمد کرنے کا جو دعویٰ کیا گیا ہے، اس سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
’آپ کہہ رہے ہیں کہ آر ڈی ایکس، راجستھان سے پنجاب، وہاں سے امبالہ ہوتے ہوئے ہنومان گڑھ لے جایا گیا اور پھر واپس لایا گیا۔ کیا آپ سو رہے تھے؟ آپ کے ادارے کہاں تھے؟‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ جس تنظیم نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے کہ انھوں نے انڈین پولیس کو خبردار کیا ہے کہ اگر پنجاب میں جعلی پولیس مقابلے بند نہ کیے گئے تو اس کے ذمہ دار سرکاری ادارے ہوں گے۔
انڈین تحقیاتی اداروں کی جانب سے ان کے آئی ایس آئی سے تعلقات کے الزام پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میرا تعلق آئی ایس آئی سے جوڑتے ہیں، اگر میں آئی ایس آئی کا بندہ ہوتا تو میں چھ سال سے پاکستان کے باہر نہ رہ رہا ہوتا، پاکستان واپس چلا گیا ہوتا۔‘
’میں ایجنسی کا بندہ نہیں، میرے اپنے مسئلے مسائل ہیں، آپ کے ہی گینگسٹروں سے ہماری دشمنیاں چل رہی ہیں۔‘
شہزاد بھٹی نے ایک اور ویڈیو میں دعویٰ کیا کہ انڈین گینگسٹر لارنس بشنوئی سےسن کا تعلق رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈین گینگسٹر لارنس بشنوئی سے تعلق صرف دو وجہ سے ختم کیا ہے۔ ’ایک سدھو موسے والا کی وجہ سے دوسرا یہ کہ وہ اپنے بندوں کو استعمال کرنے کے بعد انھیں چھوڑ دیتا ہے۔‘
’میں نے کبھی بھی انڈیا میں میرے لیے کام کرنے والوں کا ساتھ نہیں چھوڑا۔‘
انھوں نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے ایک ڈی جی پی کی جانب سے دیے جانے والے انتباہ کا ذکر کرتے ہوئے کہ وہ صرف پاکستانی اداروں کو جوابدہ ہیں۔ ’جب میں پاکستان جاؤں گا، تب میں وہاں جواب دوں گا۔‘
’مجھے تمہارے ملک آنے یا وہاں نیٹ ورک بنانے کا کوئی شوق نہیں۔‘
انڈیا کے کئی سوشل میڈیا صارفین اور صحافیوں کا دعویٰ ہے کہ شہزاد بھٹی متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں تاہم بی بی سی اس دعوے کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے۔
شہزاد کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ (جس پر ان کے 3.6 ملین فالوورز ہیں) پر رواں برس 4 جولائی کو پوسٹ کردہ ایک ویڈیو میں وہ دبئی کے ایک ریستوران میں بیٹھے دیکھے جا سکتے ہیں۔
فیس بک پر 31 جنوری 2025 کو پوسٹ کردہ تصاویر میں شہزاد کو دبئی مال میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
انڈین صحافی پراوین سوامی نے ایکس پر لکھا ’مجھے حیرت ہے کہ متحدہ عرب امارات، جو مشرقِ وسطیٰ میں انڈیا کا قریبی ترین شراکت دار ہے، نے ابھی تک اس شخص کو، جس پر مبینہ طور پر انڈیا کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں، گرفتار نہیں کیا۔ اماراتی سکیورٹی ادارے نہایت مؤثر صلاحیتوں کے حامل ہیں اور ماضی میں انڈیا کی درخواستوں پر توقع سے بڑھ کر تعاون کرتے رہے ہیں، اس لیے یہ معاملہ خاصی اہمیت کا حامل ہے۔‘
کرپشن الزامات کے بعد 75 سالہ بھارتی سیاستدان اشیش بینرجی کی مبینہ خودکشی
نو ستمبر 2025 کی ایک اور ویڈیو میں شہزاد دبئی کریک میں ایک کروز پر دوستوں کے ہمراہ ہیں۔
ان کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی متعدد ویڈیوز میں بیک راؤنڈ میوزک انڈین چینلز پر ان سے منسلک خبروں کا ہے جن میں انھیں انڈیا میں حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔
شہزاد کی متعدد ویڈیوز اور تصاویر میں وہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما فرخ امتیاز کھوکھر کے ساتھ بھی نظر آتے ہیں جن میں 28 اگست 2025 کی ایک ویڈیو بھی شامل ہے۔
یاد رہے فرخ امتیاز کھوکھر کا تعلق راولپنڈی اور اسلام آباد کے بااثر سمجھے جانے والے کھوکھر خاندان سے ہے۔ وہ امتیاز عرف تاجی کھوکھر کے صاحبزادے، سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی حاجی نواز کھوکھر کے بھتیجے اور سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کے چچا زاد بھائی ہیں۔
وہ کاروباری، فلاحی اور سوشل میڈیا سرگرمیوں میں بھی فعال رہے ہیں۔ تاہم ان کا نام مختلف مقدمات میں سامنے آتا رہا ہے، جن میں قتل اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ سے متعلق کیسز شامل ہیں۔ 14 جولائی 2026 کو راولپنڈی کی عدالت نے ماجد ستی قتل کیس میں انھیں اور دو دیگر ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
بشکریہ : بی بی سی اردو
