عمران بارے عدالتی فیصلے کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے؟

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ اسٹیبلشمنٹ کی مرضی سے سامنے آیا ہے، تاہم یہ کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں۔ ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا بنیادی مقصد وفاقی حکومت کی اتحادی جماعتوں، بالخصوص پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)، پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کے منصوبے پر آمادہ ہو جائیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا ایک مقصد تحریک انصاف کی جانب سے 23 ستمبر کی مجوزہ احتجاجی کال کو غیر مؤثر بنانا بھی ہے، جبکہ جیل سے ہسپتال منتقل ہونے کے بعد عمران خان کے اس بیانیے کو بھی نقصان پہنچے گا کہ وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہیں اور جیل سے باہر آنے پر تیار نہیں۔ ذرائع کے مطابق عمران خان کی ہسپتال منتقلی کو کسی مفاہمت یا پس پردہ سیاسی ڈیل سے تعبیر کرنا درست نہیں ہوگا بلکہ اسے ایک وسیع تر سیاسی حکمت عملی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف عمران خان کی صحت کا معاملہ عدالتی حکم کے ذریعے جیل سے باہر آ گیا ہے تو دوسری طرف اس فیصلے سے حکومت اور اتحادی جماعتوں کے لیے نئے صوبوں کی تشکیل جیسے حساس معاملے پر سیاسی گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ نئے صوبوں کی بحث کا آغاز اس وقت نمایاں طور پر ہوا جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے 30 جولائی کو پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مسائل حل کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے معاملے کو طے کرنا ہوگا۔ محسن نقوی نے موجودہ نظامِ حکمرانی کو فرسودہ قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی ضروریات کے پیش نظر موجودہ صوبائی ڈھانچے پر نظرثانی ضروری ہے۔ محسن نقوی کی تجویز کے فوراً بعد یہ معاملہ سیاسی تنازع بن گیا۔ پیپلز پارٹی کے بعض اہم رہنماؤں نے اس تجویز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے بھی اسے فوری طور پر پارٹی پالیسی کے طور پر قبول نہیں کیا گیا۔ تاہم
دلچسپ امر یہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف یا پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے محسن نقوی کی تجویز کی کوئی واضح اور دوٹوک حمایت سامنے نہیں آئی، اگرچہ مرکزی قیادت نے اسے براہ راست مسترد کرنے کا راستہ بھی اختیار نہیں کیا۔ اس کے برعکس پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیئر بخاری نے کہا کہ نئے صوبے آئینی طریقہ کار کے تحت ہی بن سکتے ہیں اور اس کے لیے پارلیمان سمیت متعلقہ صوبائی اسمبلیوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔
پیپلز پارٹی کے اندر سے اس تجویز کے خلاف زیادہ سخت ردعمل بھی سامنے آیا۔ پارٹی کے سندھ چیپٹر کے صدر نثار احمد کھوڑو نے محسن نقوی سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کے بیان کو آئینی اور جمہوری نظام کے بارے میں نامناسب قرار دیا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے اس ردعمل کے پس منظر میں محسن نقوی کا وہ بیان بھی تھا جس میں انہوں نے موجودہ نظام کو ناکام قرار دے کر مزید صوبوں کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ یوں اتحادی حکومت کی ایک اہم جماعت کے اندر اس تجویز کے حوالے سے واضح مزاحمت دکھائی دی۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی جانب سے مکمل مخالفت کے بجائے محتاط ردعمل سامنے آیا۔ وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آئین کے اندر رہتے ہوئے نئے صوبے بنائے جائیں تو انہیں اس پر اعتراض نہیں، تاہم ان کے بیان کو بھی محسن نقوی کی تجویز کی مکمل سیاسی حمایت نہیں کہا جا سکتا۔ اسی دوران سیاسی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہوا کہ دونوں بڑی اتحادی جماعتیں اس معاملے پر فوری طور پر کوئی حتمی پوزیشن لینے سے گریز کر رہی ہیں۔
اسی دوران عسکری ترجمان کی جانب سے بھی نئے صوبوں کی بحث کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے محسن نقوی کے بیان کو ان کی ذاتی رائے قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئے صوبوں کا فیصلہ عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور موجودہ انتظامی ڈھانچے کے تناظر میں گڈ گورننس کے لیے سوچنا ضروری ہے۔ اس بیان نے نئے صوبوں کے معاملے کو محض محسن نقوی کی ذاتی تجویز سمجھنے کے بجائے ایک وسیع تر قومی بحث میں تبدیل کر دیا۔ اسی پس منظر میں راولپنڈی کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اصل فیصلہ ساز چاہتے ہیں کہ اگلے چند ماہ کے دوران نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے سیاسی اتفاق رائے پیدا کیا جائے اور بالآخر آئینی ترمیم کے ذریعے اس منصوبے کو آگے بڑھایا جائے۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں سب سے اہم رکاوٹ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کی حتمی سیاسی رضامندی ہے، کیونکہ نئے صوبوں کا قیام محض انتظامی حکم سے ممکن نہیں بلکہ آئینی طریقہ کار کے تحت پارلیمانی منظوری درکار ہوگی۔ پیپلز پارٹی کی اپنی قیادت بھی واضح کر چکی ہے کہ آئین میں مقررہ طریقہ کار کے بغیر نئے صوبے نہیں بن سکتے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی لیے عمران خان سے متعلق حالیہ عدالتی پیش رفت کو بھی اس بڑے سیاسی تناظر سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے 18 اگست کو عمران کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا، ان کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور سخت سکیورٹی میں منتقلی کی ہدایت کی، جبکہ ہسپتال کے باہر امن و امان برقرار رکھنے اور معاملے کو سیاسی سرگرمیوں میں تبدیل نہ کرنے پر بھی زور دیا۔
سپریم کورٹ کی سماعت کے دوران عمران خان کے طبی ریکارڈ، نبض اور دل کی کیفیت اور بعض اہم طبی مسائل پر بھی سوالات اٹھے۔ عدالت نے مکمل میڈیکل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے اس امر پر بھی سوال کیا کہ اگر میڈیکل رپورٹ میں انجیوگرافی کی ضرورت لکھی گئی ہے تو کیا یہ عمل جیل میں ممکن ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ انجیوگرافی بیرونِ جیل ہسپتال میں ہوسکتی ہے۔ عدالت نے عمران خان کے علاج کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور انہیں شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کا حکم اسی طبی پس منظر میں دیا۔
تحریک انصاف نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے عمران خان کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی عدالت کے حکم پر مکمل عمل کرے گی اور کارکن شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے باہر جمع نہ ہوں تاکہ عمران خان کے علاج میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بھی عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ پارٹی ہسپتال کے باہر کسی قسم کی ہلڑ بازی یا اجتماع نہیں کرے گی اور عدالتی حکم کی پاسداری کی جائے گی۔
پی ٹی آئی قیادت نے عمران خان کی صحت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پارٹی عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹس کو ذاتی یا سیاسی معاملات کے لیے استعمال نہیں کرے گی، تاہم انہوں نے بشریٰ بی بی کے معاملے میں بھی مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کارکنوں سے اپیل کی کہ ایسا کوئی اقدام نہ کیا جائے جس سے عدالتی فیصلے کی توہین کا تاثر پیدا ہو۔
پی ٹی آئی عمران خان کیلئے”این آراو“چاہتی ہے،خواجہ آصف
دوسری جانب حکومت نے بھی واضح کیا ہے کہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ عمران خان کے حوالے سے تمام فیصلے عدالتوں نے ہی کرنے ہیں اور حکومت عدالتی حکم پر من و عن عمل کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج تحریک انصاف کے ارکان نے بھی عدالت کے فیصلے کو سراہا، جو اس مؤقف کی تائید ہے کہ عمران خان سے متعلق معاملات کا فیصلہ عدالتوں کے ذریعے ہی ہونا چاہیے۔
