27 ویں ترمیم سے مخالف آوازیں بند ہونے کے بعد کیا ہوگا ؟

 

 

 

معروف صحافی اور اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کرانے والے فیصلہ سازوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب ملک میں مخالف آوازیں اٹھنی بند ہوجائیں تو اسے بہار کا موسم نہیں بلکہ خزاں کی رت سمجھا جاتا ہے۔

انکا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سے اُٹھنے والے شور میں حکومتی حلقے خوشی منا رہے ہیں جبکہ اپوزیشن پر سوگ طاری ہے، مجموعی صورتحال یہ ہے کہ ملک میں خیالاتی اور فکری تقسیم بڑھتی جا رہی ہے۔ اتفاق رائے ،مصالحت اور ڈائیلاگ کے دروازے تو عرصۂ دراز سے بند ہی ہیں لیکن اب ان بند دروازوں کے قفل پر مکڑیوں نے جالے بنا لئے ہیں۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جمہوریت، پارلیمان، حکومت اور اپوزیشن کا بین الاقوامی ماڈل مذاکرات اور مصالحت پر مبنی ہے، اس لئے اس میں نشیب و فراز تو آتے ہیں مگر یہ چلتا رہتا ہے اور باوجود رکاوٹوں کے ملک کو دھیرے دھیرے آگے بھی لے کر جاتا رہتا ہے۔ ہمارے ہاں سیاسی تناؤ تو تھا ہی لیکن اب عدلیہ، حکومت اور فوج کے درمیان مسائل بھی نقطہِ عروج کو چھو رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فاضل حج صاحبان جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے عدلیہ اور اپوزیشن کے نقطہ نظر میں انتہا کے تصادم اور پھر مایوسی کی علامت ہیں۔

 

ایک طرف پاک بھارت جنگ میں پہلی بار بڑی کامیابی اور بین الاقوامی طور پر سفارتکاری کے میدان میں چھکے لگنے کی وجہ سے پاکستانی عوام کے دل باغ و بہار ہیں تو دوسری طرف ہمارے سیاسی منظر نامے پر لڑائیوں کی وجہ سے خزاں چھائی ہوئی ہے۔ اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں عسکری قیادت ہو، سیاست دان ہوں، یا ججز، سب خبط عظمت یا خود پسندی کے مرض میں مبتلا ہیں۔ اس بیماری کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس کا شکار ہونے والے کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ بیمار ہیں۔

 

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اس بیماری کا شکار انسان خود کو بڑا سمجھ رہا ہوتا ہے مگر تاریخ میں اس کا کردار اتنا ہی چھوٹا ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس بیماری نے کئی حاکموں کو گھر بھجوایا لیکن انہیں گھر بھجوا کر اقتدار میں آنے والے خود اسی بیماری کا شکار ہو گئے۔ ایسے حکمران خود کو عظمت کا نشان سمجھ بیٹھے۔ خود پسندی کا شکار یہ لوگ خود کو شہرت ،عظمت اور طاقت کے مینار سمجھتے تھے لیکن تاریخ نے انہیں کوڑے دان کے لائق سمجھا۔ پاکستان کے منتخب وزرائے اعظم کو کان سے پکڑ کر اقتدار سے نکالنے والے فوجی آمر انہیں سزائیں سنوا کر اپنا سینہ پھلائے پھرتے تھے، لیکن ایسے لوگ اب تاریخ نویس کے کالے اقوال کی زینت بن رہے ہیں۔

جسٹس منصور نے پارلیمنٹ کی بالادستی کے خلاف استعفی کیوں دیا؟

اسی طرح وُہ آمر مطلق جن کے اپنے زمانے میں مکھی بھی پر نہ مار سکتی تھی اب انکی قبر کے کھنڈرات انکے اعمال کی گواہی دیتے ہیں۔ وُہ اہلِ سیاست جنہوں نے عوام سے بے وفائی کی، عوام نےانہیں اپنی یادوں سے کھرچ کر رکھ دیا۔ لہذا اج کے اصل فیصلہ سازوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جب ملک میں مخالف آوازیں اٹھنی بند ہوجائیں تو اسے بہار کا موسم نہیں بلکہ خزاں کی رت سمجھا جاتا ہے۔

 

Back to top button